BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 December, 2005, 13:26 GMT 18:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مدارس عدالت سے رجوع کریں گے

مدارس
’راولپنڈی، حضرو، تلہ گنگ میں طلبہ، اساتذہ اور مہتمین کو حراست میں بھی لیا گیا تھا‘
پاکستان میں مدارس کی تنظیم نے حکومت سے معاملات طے نہ ہونے کی صورت میں عدلیہ سے رجوع کرنے کا اشارہ دیا ہے۔

کراچی میں ہفتے کے روز وفاق المدارس العربیہ کے سربراہ قاری حنیف جالندھری نے ایک پریس کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی طلباء کے انخلاء کا فیصلہ واپس لیا جائے اور اس ضمن میں اکتیس دسمبر کی ڈیڈ لائین کے خاتمہ کا اعلان کیا جائے ۔

انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ نئے آنے والے غیر ملکی طلباء کے لئے سہولیات فراہم کی جائیں اگر حکومت کو اس پر تحفظات ہیں تو رجسٹریشن کی طرح اس مسئلے پر بھی مذاکرات کیے جائیں۔

قاری حنیف جالندھری نے بتایا کہ پنجاب میں مدارس کے ذمہ داروں کو تنگ کرنا شروع کردیا گیا ہے۔ راولپنڈی، حضرو، تلہ گنگ میں طلبہ ، اساتذہ اور مہتمین کو حراست میں لیا گیا۔ جنہیں ہم نے وزیر اعلٰی پنجاب سے بات چیت کرکے رات کو ڈیڑھ بجے آزاد کرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے بعد سندھ میں مدارس کے ذمہ داروں پر پہلے ٹیلی فون کے ذریعے اور پھر باقاعدہ لیٹر بھیج کر ان پر نفسیاتی پریشر ڈالا گیا۔

انہوں نے غیر ملکی طلباء کے انخلاء کے فیصلے کو غیر قانونی، غیر آئینی، غیر اخلاقی اور غیر شرعی قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ بنیادی انسانی حقوق اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے خلاف ہے۔

وفاق المدارس العربیہ کے سربراہ نے بتایا کہ اتوار کے روز اسلام آباد میں ملک گیر کنوینشن کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ملک کی تمام سیاسی مذہبی تنظیموں کے قائدین ، اتحاد تنظیمات اور مدارس دینیہ کے قائدین شرکت کر رہے ہیں۔اس کنونشن میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدہ نہیں ہوتی تو ملک گیر احتجاج اور عدلیہ سے رجوع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ جمعرات کے روز سندھ کےمحکمہ داخلہ نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اکتیس دسمبر کو تمام غیر ملکی طلبہ کو ڈی پورٹ کردیا جائے گا۔ اس ضمن میں وفاقی حکومت نے ان طلباء کے ویزے منسوخ کردیے ہیں۔
سیکرٹری داخلہ غلام محمد محترم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ کے مدرسوں میں سات سو غیر ملکی طلباء زیر تعلیم تھے، جن میں سے اس وقت صرف نوے کے قریب رہ گئے ہیں، باقی واپس جاچکے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مدارس سے مذاکرات جاری ہیں۔ امید ہے کہ وہ رضاکارانہ طور پر ان طلباء کو ہمارے حوالے کردیں گے جن کو ڈی پورٹ کیا جانا ہے۔

سندھ کے سب سے بڑے مدرسے جامعہ بنوریہ سائیٹ کے ترجمان قاری سیف اللہ ربانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت صرف سندھ کے مدرسوں میں چارسو غیر ملکی طلباء زیر تعلیم ہیں جن کی عمر دس سے پچیس سال تک ہے، جبکہ فرانس، برطانیہ اور کینیڈا کی طالبات بھی زیر تعلیم ہیں۔

اسی بارے میں
ڈیڈ لائن پر عمل ناممکن
03 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد