BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جب پیپلز پارٹی کا قلع ’ڈھیر‘ ہوا

ضلعی انتخابات
ضلعی انتخابات میں پیپلز پارٹی کا سندھ سے تقریباً صفایا کر دیا گیا
جو کام صدر جنرل ضیا الحق بھی نہ کرسکے وہ کام سندھ کے موجودہ وزیر اعلی ٰ ارباب غلام رحیم نے کر دکھایا۔ انہوں نے ایک سال کے اندر پی پی پی کے قلعے سندھ کو ڈھیر کر دیا۔

اگر حساب لگایا جائے کہ سال دو ہزار پانچ میں کس کو زیادہ نقصان ہوا ہے، تو پاکستان پیپلز پارٹی پہلے نمبر پر آئے گی۔ ایک سال قبل ہی کی تو بات ہے سندھ کے اکثر اضلاع میں پی پی پی کے ناظم تھے۔ مگر اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔

اس سال ہونے والے مقامی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کے حصے میں صرف دو اضلاع کی ناظمی آئی ۔

پی پی پی سندھ کے صدر سید قائم علی شاھ نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے انتخابات کو زندگی اور موت کا مسئلہ بنا لیا تھا۔ پی پی پی کو ہرانے کے لیے تمام غیر قانونی طریقے استعمال کیے گئے۔ مگر عوام آج بھی پی پی پی کے ساتھ ہیں۔

کراچی جس میں ایک بڑے عرصے کے بعد جماعت اسلامی کی سیاسی پوزیشن مضبوط ہوئی تھی۔اس سال اس شہر کی سیاست ایک مرتبہ پھر ان کے ہاتھوں سے نکل گئی ہے۔ اور نعمت اللہ خان سٹی ناظم کے انتخابات میں شکست کھاگئے۔

کراچی
کراچی میں دہشت گردی اور فرقہ وارانہ تشدد میں کوئی کمی نہیں آئی

انسانی حقوق کمیشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل اقبال حیدر اس صورتحال کو یوں بیان کرتے ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں ایسی صورتحال رہی کہ خود حکمران جماعت کے وزرا بھی دھاندلیوں کے الزامات لگاتے رہے۔

حزب اختلاف کی جماعتوں پر تو ویسے ہی الزامات لگائے جاتے ہیں۔ مگر حکمران جماعت کے لوگ بھی دھاندلی اور ریاستی مشینری کے استعمال کے الزام عائد کرتے رہے۔

سندھ سیاسی طور پر بے چین رہا۔ شاید ہی کوئی ایسا ہفتہ گزرا ہو کہ صوبے کے بڑے شہروں میں احتجاج اور مظاہرے نہ ہوئے ہوں۔ کبھی یہ احتجاج کالا باغ ڈیم یا گریٹر تھل کینال کے خلاف، کبھی مالی وسائل کی تقسیم اور زرعی پانی کی قلت کے خلاف تو کبھی دہشتگردی اور پولیس زیادتی کے حوالے سے تھا۔

اسی طرح پورا سال صوبائی اسمبلی نعروں اور شور سےگونجتی رہی۔ اس دوران حزبِ اختلاف کے دو ممبران غلام قادر چانڈیو اور زاہد بھرگڑی گرفتار بھی ہوئے۔ ان کی گرفتاری نے تمام اپوزیشن ممبران کو یہ پیغام پہنچا دیا کہ ان کی باری بھی آسکتی ہے۔

سندھ اسمبلی
سندھ اسمبلی میں سارا سال نعروں سے گونجتی رہی

وزیر اعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کہتے ہیں کہ سندھ اسمبلی کو قانون کے مطابق چلنے نہیں دیا جاتا۔ ’حزبِ اختلاف فضول مسائل پر شور کرکے ایوان کا تقدس پائمال کرتی ہے‘۔ ادھر حزبِ اختلاف کے رہنما قائم علی شاہ کا کہنا ہے کہ وہ انیس سو ستر سے اسمبلی ممبر ہیں لیکن جتنی ناقص کارکردگی اس اسمبلی کی ہے ویسی کسی کی نہیں رہی ہے۔ ’یہاں بزنس کو بلڈوز کیا جاتا ہے‘۔

اس سال بھی امن کا پرندہ کراچی میں گھونسلا نہیں بنا سکا۔ مئی کے مہینے میں امام بارگاہ پر خودکش حملہ کیا گیا جس کےبعد کے ایف سی ریسٹورنٹ کو نذر آتش کیا گیا۔ دونوں واقعات میں گیارہ افراد ہلاک ہوئے۔ تین ماہ قبل میکڈونلڈ اور کے ایف سی میں پھر دہماکے ہوئے۔ جبکہ پندرہ نومبر کو مصروف علاقے میں واقع پی آئی ڈی سی بلڈنگ میں بم دہماکہ کیاگیا ۔جس میں تین جانیں ضائع ہوئیں۔

ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی کمی نہ آئی۔ جماعت اسلامی کے سابق رکن اسمبلی اسلم مجاہد کے علاوہ مفتی عتیق الرحمان کو، جن کا تعلق جامعہ بنوریہ سے تھا، قتل کیاگیا۔ یہ قتل بھی پراسرار رہے۔ متاثرین ایک گروپ کی طرف انگلیاں اٹھاتے رہے۔ مگر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ جبکہ مملکتی وزیر عامر لیاقت مدرسہ بنوریہ تعزیت کے لیے پہنچے تو انہیں یرغمال بنایا گیا۔

اندرون سندھ میں ڈاکوؤں کی کارروائیاں حسب دستور جاری رہیں۔ کئی لوگ اغوا ہوئے اور تاون ادا کرنےکے بعد رہا ہوئے۔ ڈاکوں نے مخبری کے الزام میں خیرپور میں سات دیہاتیوں کو ہلاک کردیا۔

اقبال حیدر بتاتے ہیں کہ سندھ میں قانون کی حکمرانی نہیں رہی۔ لوگ رات کو سفر نہیں کرسکتے، یہاں ڈاکوؤں کا راج ہے۔

گھوٹکی ٹرین حادثہ
گھوٹکی ٹرین حادثہ انتظامی غفلت کا نتیجہ تھا

حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ محکمہ اطلاعات کے معاون صلاح الدین حیدر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ موجودہ حکومت نے دہشتگردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کو روکا ہے۔ امن امان کی صوتحال کو بہتر بنایا ہے۔ جس وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار یہاں آئے ہیں۔

اسی سال صدر پرویز مشرف نے کارو کاری کی روک تھام کے لیے ایک بل پر دستخط کیے مگر خواتین کو پھر بھی تحفظ نہیں مل سکا۔ عورت فاؤنڈیشن کے مطابق سندھ میں گزشتہ گیارہ ماہ میں تین سو انتیس خواتین اور بہتر مردوں کو کارو کاری کے نام پر قتل کیاگیا۔ تریپن خواتین سے زیادتی کی گئی جس میں سے نو کو قتل کیا گیا۔

غیرت کے نام پر قتل کئے جارہے مگر ان کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کی گئی۔

سندھ ہائی کورٹ کے واضح احکامات کے باوجود گیارہ ماہ میں چھپن جرگے ہوئے۔ جس میں حکومت کے وزرا اور اسمبلی ممبران نے شرکت کی۔ اسی طرح سپریم کورٹ کے از خود نوٹس لینے کے باوجود کسان منو بھیل کے نو اہل خانہ کو زمیندار کے نجی جیل سے رہائی مل نہ سکی۔

اقبال حیدر کے مطابق بانڈیڈ لیبر ایبولش ایکٹ کو اس سال بھی اہمیت نہیں دی گئی۔

پی پی پی
پی اے ریفرنس کیس میں بینظیر کا بری ہونا پی پی پی کے لیے ایک اچھی خبر تھی

عدلیہ کے حوالے سے بینظیر بھٹو کا پی آئی اے ریفرنس کیس سے بری ہونا سال کا بڑا واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پی پی پی عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے مگر اس فیصلے کو مثبت سگنل سمجھا جا رہا ہے۔

گھوٹکی میں ریلوے سانحہ نے غفلت کی ایک اور مثال قائم کی۔ جس میں تین ٹرینوں میں تصادم کی وجہ سے ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح قلندر شہباز کے میلے کے موقع پر دو بسوں کے ٹکرانے سے آگ لگ گئی جس میں چالیس سے زائد افراد زندہ جل کر ہلاک ہوگئے۔

کراچی میں پائپ لائینوں میں دوڑنے والے آلودہ پانی نے آٹھ گھروں کے چراغ گل کر دیے اور سات سو لوگ ہسپتالوں تک پہنچے۔

زیرِ سمندر انٹرنیٹ کے فائبر لِنک میں فنی خرابی کی وجہ سے انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ٹیلی فون سروس میں تعطل پیدا ہوگیا۔ بعد میں یہ پتہ چلا کے اس نظام کا کوئی بیک اپ بھی موجود نہیں ہے۔

ایک سال کے اندر تیل کی قیمتوں میں پندرہ روپے تک اضافہ ہو اور مہنگائی نے شدت پکڑ لی۔ غریب طبقے کی پیٹھ پر وزن اور بڑہ گیا۔

لوگوں میں مذاح اور لوک گیت بکھیرنے والے اداکار جمشید انصاری اور لوک گلوکارہ زرینہ بلوچ انتقال کر گئے۔

سندھ حکومت اور صوبے کے سیاسی حلقوں کی جانب سے مسلسل مطالبے کے باوجود این ایف سی ایوارڈ کا اس سال بھی اعلان نہ ہوسکا۔ جس کی وجہ سے سندھ کو اس کے حصے سے کم وسائل دستیاب ہوئے۔ جبکہ اسی سال ایک مرتبہ پھر کالا باغ ڈیم کے مردہ جسم میں روح پھونکی گئی ہے۔

66حادثہ کیوں ہوا؟
کیا کراچی ایکسپریس کی بریک خراب تھی۔
66پی پی کا گڑھ کیا ہوا؟
مقامی انتخابات، سندھ کا سیاسی نقشہ ہی بدل دیا
66 بلدیاتی انتخابات
سیاسی جوڑ توڑ اور امن وامان کا مسئلہ
66انٹرنیٹ میں تعطل
انٹرنیٹ کمپنیوں کو کروڑوں روپے کا نقصان
66کہانیاں کیا کیا؟
’رات بھر آنکھیں بچھائے رہے پر وہ نہیں آئے‘
اسی بارے میں
گھوٹکی ٹرین حادثہ
14 July, 2005 | منظر نامہ
ساڑھے تین برس میں 486 حادثے
02 September, 2005 | پاکستان
جمشید انصاری انتقال کر گئے
24 August, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد