BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 July, 2005, 01:53 GMT 06:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹرین کاحادثہ، 132 افرادہلاک

ٹرین حادثہ
ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے کی لاشیں اٹھائی جا رہی ہیں
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد 132 تک پہنچ چکی ہے۔ اس سے پہلے صوبہ سندھ کے شہرگھوٹکی کے قریب تین ریل گاڑیاں کے ٹکرانے کے نتیجے کم از کم 128 افراد کے ہلاکبتائے جا رہے تھے۔

پاکستان ٹی وی کے مطابق پاکستان کے وزیر برائے ریلوے نے 128 ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جب کے امدادی کارروائیوں کے نگراں کا کہنا ہے کہ اب تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 127 ہے۔

اس کے علاوہ جنرل پرویز مشرف پنوں عاقل کی فوجی چھاؤنی پہنچ چکے ہیں اور جہاں سے وہ پنوں عاقل جائیں گے۔

ضلع کھوٹکی کے پولیس سربراہ آغا طاہر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جا رہی ہے۔

دوسری طرف ایدھی سنٹر سکھر کے انچارج حاجی عزیز کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد ڈھائی سو سے زیادہ ہے۔حاجی عزیز نے بتایا کہ لاشیں بوگیوں میں پھنسی ہوئی ہیں اور بوگیوں کو کاٹ کر نکالا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سانحہ چند برس قبل سکھر ضلع میں ہونے والے سانگی حادثے جیسا ہے۔ایدھی ہیلی کاپٹر اور پینتیس ایمبولنس روانہ کردی گئی ہیں۔

ریلوے حکام کے مطابق کل سترہ بوگیاں متاثر ہوئی ہیں۔چیئرمین ریلوے بورڈ شکیل درانی کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔ صدر اور وزیر اعظم نے بھی واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

ریلوے کے سکھر ڈویژن کےٹریفک کنٹرولر محمد اشرف لنجار نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور سے کراچی جانے والی کوئٹہ ایکسپریس میں کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہوئی جس پر اسے گھوٹکی کے قریب سرحد ریلوے اسٹیشن پر مرمت کے لیے روکا گیا تھا۔

کوئٹہ ایکسپریس کی درستگی کا کام ابھی جاری تھا کہ پیچھے سے آنے والی نائٹ کوچ (کراچی ایکسپریس) کوئی صبح ساڑھے چار بجے کے قریب اس سے جا ٹکرائی۔ اتفاق سے اسی وقت دوسرے ٹریک پر کراچی سے لاہور جانے والی تیزگام ایکسپریس گزر رہی تھی۔

ٹرین حادثہ
تینوں ٹرینوں کی کئی بوگیاں بالکل تباہ ہو گئی ہیں

نائٹ کوچ مرمت کے لیے کھڑی کوئٹہ ایکسپریس سے ٹکرا کر پٹڑی سے اتر گئی اور سامنے سے آنے والی تیزگام ایکسپریس سے ٹکرا گئی۔ ٹریفک کنٹرولر کے مطابق حادثے میں تیزگام ایکسپریس کی بارہ بوگیاں، کوئٹہ ایکسپریس کی چار اور نائٹ کوچ کی تین بوگیاں پٹڑی سے اتر کر الٹ گئی ہیں۔

اشرف لنجار کے مطابق حادثہ نائٹ کوچ کے ڈرائیور کی غفلت سے پیش آیا کیونکہ سگنل دیے جانے کے بعد باوجود اس نے ٹرین سرحد ریلوے اسٹیشن سے پہلے نہ روکی اور کوئٹہ ایکسپریس سے آ ٹکرایا۔

فوج، رینجرز اور پولیس کو امدادی کاروائیوں کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔ علاقے کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالات کا اعلان کا کر دیا گیا ہے۔

ایدھی سینٹر سکھر کے مطابق حادثے میں ایک ہزار سے زائد لوگ شدید یا معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ اس اطلاع پر عبدالستار ایدھی پی آئی اے کا ایک چارٹرڈ جہاز لیکر سکھر روانا ہوگئے ہیں۔

ٹرین حادثہ
ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے

ایدھی انفارمیشن سینٹر کے مطابق جہاز میں بڑی تعداد میں ڈاکٹر، میڈیکل اسٹاف، طبی آلات اور دوائیں شامل ہے۔اس جہاز میں شدید زخمیوں کو کراچی لایا جائیگا۔

دوسری جانب سندھ کے محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ حادثے میں ایک سو سات افراد ہلاک اور ایک سو گیارہ زخمی ہوئے ہیں۔

ریلوی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ریلوے کے چار ملازمین بھی شامل ہیں۔ جن میں کوئٹہ اور کراچی ایکسپریس کے ڈرائیور بھی شامل ہیں۔
ریلوے کی جانب سے لاہور ہیڈکوآرٹر، کراچی اور سکھر میں خصوصی انفارمیشن سیل قائم کئے گئے ہیں جہاں سے ہلاک ہونے والے اور زخمی افراد کے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہے۔

دریں اثناء وفاقی وزیر ریلوے شمیم حیدر نے کہا ہے کہ گھوٹکی میں تین ٹرینوں کے تصادم کے نتیجہ میں اب تک ایک سو سات افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تصادم بدھ کی صبح تقریبا ساڑھے تین بجے ہوا۔

انہوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ابھی اس تصادم کی وجہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم بظاہر یوں لگتا ہے کہ کراچی ایکسپریس کا ڈرائیور غلام محمد سگنل نہیں دیکھ سکا یا سو گیا تھا اور اس نے سگنل توڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائیور خود بھی حادثہ میں ہلاک ہوگیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ میں پہلا ٹرین تصادم ہے جس میں دو سے زیادہ ٹرینیں ایک دوسرے سے ٹکراگئیں اور دنیا میں ریلوے کی تاریخ کا یہ ایسا چوتھا حادثہ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حادثہ میں مرنے والوں کو دو دو لاکھ روپے تلافی کی رقم دی جائے گی اور زخمی ہونے والے مسافروں کو ان کی حالت کے مطابق تلافی کی رقم دی جائے گی۔

وفاقی وزیر کے مطابق اس تصادم کی مکمل تحقیق کی جائے گی اور ذمہ دار افراد کو کڑی سزا دی جائے گی۔

تاہم لاہور میں ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان کے پاس ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے ناموں کی فہرست موجود نہیں ہے۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ تیزگام، کراچی ایکسپریس اور کوئٹہ ایکسپریس کے اس تصادم میں تیزگام کی چھ بوگیاں متاثر ہوئیں اور اس کے زیادہ تر مسافر زخمی ہوئے ہیں جبکہ زیادہ ہلاکتیں کوئٹہ ایکسپریس اور کراچی ایکسپریس کی ہوئی ہیں۔

66ٹکر کیسے ہوئی؟
گھوٹکی پر تین ٹرینیں آپس میں کیسے ٹکرا گئیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد