BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 September, 2005, 10:08 GMT 15:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ساڑھے تین برس میں 486 حادثے

 ریل حادثات
پاکستان میں ریل حادثات کی شرح دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت خاصی زیادہ ہے۔
پاکستان ریلوے کے وزیر میاں شمیم حیدر نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کو بتایا کہ گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں 486 ریل حادثے ہوئے جس میں 233 افراد ہلاک اور 509 لوگ زخمی ہوئے۔

وقفہ سوالات کے لیے حکومتی رکن مہناز رفیع کے سوال پر پیش کردہ اپنے تحریری جواب میں وزیر نے بتایا کہ جنوری سن دوہزار دو سے جولائی دو ہزار پانچ تک پیش آنے والے ان حادثات میں دو سو چھیاسی مسافر ریل گاڑیوں جبکہ دو سو مال گاڑیوں کو حادثات پیش آئے۔

حکومتی معلومات کے مطابق ان حادثات میں ریل کی پٹڑی کی خرابی کی وجہ سے ایک سو چونتیس، میکینیکل خرابی کے باعث بیاسی، ریلوے کراسنگ سے گزرتے وقت لوگوں کی غیر ذمہ داری کی بنا پر ایک سو چوالیس جبکہ انسانی غفلت کی وجہ سے باون حادثات ہوئے۔

وزیر کے مطابق ان حادثات کی وجہ پاکستان ریلوے کے محکمے کو پونے آٹھ کروڑ روپوں کے لگ بھگ نقصان برداشت کرنا پڑا۔

ان اعداد وشمار کو دیکھتے ہوئے ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ریل حادثات کی شرح دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت خاصی زیادہ ہے۔

وزیر نے جس مدت کے حادثات بتائے ہیں اس میں حال ہی میں گھوٹکی میں پیش آنے والا بدترین ریل حادثہ بھی شامل ہے۔ اس واحد حادثے میں ہلاک شدگان کے حکومتی اعداد وشمار تو کم تھے لیکن موقع پر موجود لوگوں نے اس کی تعداد کہیں زیادہ بتائی تھی۔

وزیر کے مطابق ان حادثات کی تحقیقات کروائی گئی اور جن کمزوریوں اور خرابیوں کی نشاندہی کی گئی انہیں دور کرنے کے لیے حکومت نے متعدد اقدامات بھی کیے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد