BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 July, 2005, 03:02 GMT 08:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گھوٹکی حادثہ: ریلوے اہلکار گرفتار

فائل فوٹو
حادثہ ٹرینوں کے درمیان گھوٹکی کے قریب سرحد سٹیشن پر ہوا تھا۔
گھوٹکی کے قریب تیرہ جولائی کی صبح تین ایکسپریس ریل گاڑیوں کے درمیان ہونے والے تصادم کے حوالے سے درج مقدمے میں سرحد ریلوے سٹیشن کے اسسٹنٹ سٹیشن ماسٹر (اے ایس ایم) اختیار حسین کو منگل کے روز گرفتار کرلیا گیا ہے۔

سکھر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ریلوے پولیس کے ڈی آئی جی محمد اقبال خان نے کہا تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرحد ریلوے سٹیشن پر ٹرینوں کے درمیان ہونے والے ہولناک تصادم کی ذمہ داری اے ایس ایم اختیار حسین پر عائد ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اختیار حسین حادثے کے وقت قائم مقام سٹیشن ماسٹر کے فرائض سر انجام دے رہے تھے اور سکھر ٹریفک کنٹرول روم میں بیٹھے ڈپٹی کنٹرولر نیاز احمد نے انہیں بروقت اطلاع کردی تھی کہ کراچی ایکسپریس آرہی ہے اور کوئٹہ ایکسپریس کے خراب ہو کر مین لائن پر کھڑے ہونے کے سبب اسے (کراچی ایکسپریس) لوپ لائن پر لیا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سگنل بدلنے کا خودکار نظام کام نہیں کررہا تھا تو کراچی ایکسپریس کو لوپ لائن پر لینے کے لیئے عام طریقے سے بھی کانٹا بدلا جا سکتا تھا۔ لیکن ایسا اس لئے نہیں کیا جاسکا کیونکہ کانٹا بدلنے پر مامور اہلکار منیر حسین کو اے ایس ایم نے کوئٹہ ایکسپریس کی خرابی دور کرنے والے تکنیکی عملے کی معاونت میں لگایا ہوا تھا۔

ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ عین وقت پر کانٹا بدلنے والے ایک اہلکار کو مینوئل طریقے سے کانٹا بدلنے کا کہا گیا لیکن اس وقت دیر ہو چکی تھی۔انہوں نے کہا کہ کراچی ایکسپریس کے ڈرائیور کی کوئی غلطی نہیں اسے جس لائن پر لیا گیا وہ اسی پر آیا۔

انہوں نے اس بات کی بھی سختی سے تردید کی کہ کراچی ایکسپریس کے انجن سے ڈرائیور اور فائر مین کے علاوہ تیسرے شخص کی لاش بھی ملی تھی۔ انہوں نے کہا کہ حادثہ کسی تخریب کاری کا نہیں بلکے انسانی غلطی کا نتیجہ تھا۔

یاد رہے کہ ریلوے کے وفاقی وزیر میاں شمیم حیدر نے سرحد ریلوے سٹیشن پر ہونے والے حادثے کے حوالے سے اپنے ایک بیان میں اس شبے کا بھی اظہار کیا تھا کہ اس واقعے کے پیچھے تخریب کاری کا عنصر بھی شامل ہوسکتا ہے کیونکہ کراچی ایکسپریس کے انجن سے ایک نامعلوم شخص کی لاش بھی ملی ہے۔

سرحد ریلوے سٹیشن پر ہونے والے حادثے کا مقدمہ ریلوے کے روہڑی پولیس سٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف فوجداری قانون کے مختلف دفعات کے تحت درج کیا گیا تھا جن میں سرکاری کام سے غفلت اور قتل کرنے کی دفعات بھی شامل ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد