ندیم سعید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گھوٹکی |  |
 |  ایڈوانس بکنگ کے بغیر سفر کرنے والے کوحادثے کی صورت میں معاوضہ نہیں مل سکتا |
گھوٹکی کے قریب سرحد ریلوے سٹیشن پر تیرہ جولائی کی صبح ہونے والے تین ریل گاڑیوں کے تصادم میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے حکومت کی طرف سے اعلان کردہ عوضانہ کے حصول کے لیے درخواستیں جمع کرانا شروع کردی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان ریلویز ہیڈ کوارٹرز کو اس ضمن میں اب تک ایک سو دو درخواستیں موصول ہوئیں ہیں۔ ریلویز کے ڈائریکٹر لیگل نے ان میں سے ستر کو بوگس قرار دے کر مسترد کردیا ہے جبکہ بتیس لوگوں کے دو دو لاکھ روپے کے چیک تیار کر لیےگئے ہیں۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ عوضانے کے دعویدار کے لیےضروری ہے کہ اس کے جابحق ہونے والے رشتہ دار نے سفر کے لیے ریلوے سے باقاعدہ بکنگ کرائی ہو، متوفی کے شناختی کارڈ کی کاپی اور دعویدار کا اس سے تعلق کا ناقابل تردید ثبوت درخواست کے ساتھ منسلک ہونا چاہیے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریل گاڑیوں میں جتنے لوگ بکنگ کراکےسفر کرتے ہیں تقریباً اتنے ہی بعد میں ٹکٹ لے کر ٹرین پر سوار ہوتے ہیں۔ لیکن ریلوے کی وضع کردہ پالیسی کے تحت ایڈوانس بکنگ کے بغیر سفر کرنے والے کوحادثے کی صورت میں معاوضہ نہیں مل سکتا چاہے اس نے ٹکٹ بھی خرید کیا ہوا ہو۔ حکام اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ معاوضے کے لالچ میں ناقابل شناخت لاشوں کے جعلی دعویدار سامنے آسکتے ہیں۔گھوٹکی سول ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر حسن شاہ جیلانی نے بتایا کے گزشتہ روز جب شناخت نہ ہونے والے افراد کی تجہیز و تکفین ہونےوالی تھی تو ایک صاحب تشریف لائے اور ایک تقریباً ناقابل شناخت میت کے وارث ہونے کا دعویٰ کیا اور ان کا کہنا تھا کہ وہ لاش لے کر بھی نہیں جائے گا کیونکہ سارے گھر والے دل کے مریض ہیں اور وہ میت کی حالت دیکھ ہوش و حواص قائم نہیں رکھ سکیں گے۔ ادھر اطلاعات کے مطابق حادثے کے بعد سے ملک بھر میں قائم ریلوے کے مراکز پر اب تک ایک سو کے لگ بھگ افراد کی گمشدگی کی اطلاع درج کرائی گئی ہے۔ ان افراد کے لواحقین کا خیال ہے کہ یہ سب حادثے کا شکار ہونےوالی ٹرینوں تیز گام، کراچی اور کوئٹہ ایکسپریس میں سفر کررہے تھے۔ یاد رہے کہ جمعے کو گھوٹکی میں حکام نے ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں سے تریسٹھ افراد کو نا معلوم قرار دے کر امانتاً دفنایا ہے۔جبکہ اڑسٹھ افراد کی لاشیں ان کے ورثاء پہچان کر لے گئے تھے۔ |