گھوٹکی سانحہ: اخبارات کے سوالات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سانحہ گھوٹکی کے بارے میں پاکستان کے اخبارات نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ اور خیال ظاہر کیا ہے کہ تحقیقاتی رپورٹ میں ضرور ان سوالات کے جوابات تلاش کیے جانے چاہیں۔ جنگ اخبار نے اس واقعے کو ریلوے کے نظام میں غفلت اور لاپرواہی کی انتہائی افسوسناک صورتحال کا مظہر قرار دیا ہے۔اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک میں نسبتاً چھوٹے حادثات کے بعد ذمہ دار حکام حتیٰ کہ وزراء معاملات کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے خود کو احتساب کے لیے پیش کرتے یں اور استعفیٰ دیتے ہیں لیکن ہمارے ہاں ایسے جرائتمندانہ روایات کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ ڈیلی ڈان لکھتا ہے کہ گھوٹکی کے قریب پیش آنہ والا حادثہ گذشتہ کچھ عرصے میں اپر سندھ میں پیش آنے والے حادثات میں سے ہے۔ انیس سو نوے میں سانگی اسٹیشن کے پاس ایسا ہی ایک حادثہ پیش آیا تھا جس میں تقریباً تین سو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ دوسرے برس گھوٹکی کے پاس ایک اور حادثہ پیش آیا جس میں پچاس افراد جاں بحق ہوگئے۔ اخبار لکھتا ہے سکھر ڈویژن میں ریلوے کے یہ حادثات کئی سوالات کو جنم دے رہے ہیں۔ کیا یہاں پر ریلوے ٹریک ایسا ہے جس کے نتیجے میں حادثات پیش آتے ہیں یا ریلوے کے آلات اور سگنل پرانے ہیں جن پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ کیا اس علاقے سے زیادہ گاڑیوں کے گزرنے کے اوقات ایسے ہیں جس کی وجہ سے حادثات ہو رہے ہیں اور متعلقہ ریلوے اسٹیشنوں پر مطلوبہ عملہ نہیں ہے۔ انگریزی اخبار دی نیشن لکھتا ہے کہ دنیا میں ریلوے سب سے محفوظ سفر سمجھا جاتا ہے لیکن پاکستان میں دوسرے ممالک کے مقابلے میں حادثات کا تناسب زیادہ ہے۔ پاکستان ریلویز کی رپورٹ کے مطابق انیس سو نوے سے لیکر انیس سو ستانوے تک سینتالیس حادثات ہوئے۔ جبکہ اٹھانوے اور ننانوے میں اور بھی زیادہ حادثات ہوئے۔ مسافر اس وجہ سے جاں بحق ہوئے کہ بوگی کا فرش بیٹھ گیا، یا آہنی پائیدان ٹوٹ گیا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ کوئی سال خالی نہیں جاتا جب گاڑی پٹری سے نہ اترتی ہو۔ کوئی تصادم نہ ہوا ہو، ریل گاڑی کسی سڑک پر چلنے والی گاڑی سے نہ ٹکرائی ہو۔ ہوتا یہ ہے کہ ہر حادثے کے بعد وقتی طور پر اہلکاروں کی سرگرمی نظر آتی ہے۔ وزراء موقعہ واردات کا معائنہ کرتے ہیں اور تحقیقات کا حکم دے دیا جاتا ہے۔اور بہت ہی جونیئر اور چھوٹے عملے کو ذمہ دار قرار دے دیا جاتا ہے۔ جب کہ اعلیٰ حکام کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی۔ اخبار نے مطالبہ کیا ہے کہ نظام کو بہتر بنانے کے لیے احتساب کا عمل شروع کیا جانا چاہیے۔ سندھی اخبار کاوش کا کہنا ہے کہ انجن کی خرابی ہو یا سگنل اور مواصلاتی رابطے کی خرابی یا پھر مناسب تربیت کی کمی ہر حال میں معاملہ ریلوے نظام کی خرابی کی نشاندہی کرتا ہے جس کے لیے اعلیٰ حکام ہی ذمہ دار ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||