لواحقین کے لئے معاوضہ کا اعلان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے گھوٹکی کے قریب بدھ کے روز ہونے والے ہولناک حادثے میں ہلاک شدگان کے لواحقین کے لئے دو دو لاکھ روپئے اور زخمیوں کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا پانچواں بڑا ریل حادثہ ہے۔ اس حادثے میں تین ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئی تھیں۔ حادثے کے وقت تینوں مسافر ٹرینوں میں مجموعی طور پر دو ہزار مسافر سوار تھے۔ چیف کمرشل منیجر مقصود کے مطابق کراچی سے لاہور جانے والی تیزگام ٹرین میں چھ سو پچاس، لاہور سے کراچی جانے والی نائٹ کوچ ( کراچی ایکسپریس) میں سات سو بہتر، اور کوئٹہ جانے والی کوئٹہ ایکسپریس میں چھ سو ساٹھ مسافر سوار تھے۔ ہلاک شدگان میں سے اب تک صرف چھ اور زخمیوں میں سے تریسٹھ افراد کی شناخت کی جا سکی ہے۔ درین اثنا پاکستان ریلویز کے چیئرمن شکیل درانی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئےحادثے میں امکانی تخریب کاری کے امکانات کو مسترد کیا ہے۔ صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے حادثے پر افسوس ظاہر کیا ہے۔ کراچی میں کینٹ اسٹیشن پر معلوماتی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ جہاں پر ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی ابتدائی فہرست آویزاں کردی گئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||