BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 October, 2003, 22:21 GMT 02:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریلوے انجن پر حملہ، ڈرائیور ہلاک

کوئٹہ
کوئٹہ میں امن و امن کی صورت حال پر حکومتی حلقوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے

بلوچستان میں بولان کے قریب ریلوے کے پائلٹ انجن پر نامعلوم افراد نے راکٹ داغا اور فائرنگ کرکے انجن کے ڈرائیور کو ہلاک کر دیا ہے جبکہ فائرمین اور ایک کانسٹیبل شدید زخمی ہوگئے۔

یہ حملہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات کیا گیا ہے۔ یہ حملے کوئٹہ کے قریب ریلوے کے ایک پل کے نیچے بم دھماکے کے دو روز بعد کیا گیا ہے۔

کوئٹہ میں ریلوے پولیس کے انچارج محمد اسلم نے بتایا ہے کہ زرغون پیسنجر ٹرین سے پہلے ایک پائلٹ انجن بھیجا جاتا ہے تاکہ پٹڑی اور راستے کا جائزہ لیا جا سکے۔

لیکن جب پائلٹ انجن پنیر کے ریلوے سٹیشن سے آگے نکلا تو اچانک پہاڑوں سے نامعلوم افراد نے انجن پر راکٹ داغ دیا جس سے ڈرائیور موقع پر ہلاک ہو گیا جبکہ فائرمین اور کانسٹیبل زخمی ہوگئے۔

اس کے بعد نامعلوم افراد نے انجن پر فائرنگ بھی کی جس پر دونوں زخمی اہلکاروں نے انجن سے چھلانگ لگا دی اور انجن بغیر ڈرائیور کے کافی دور تک خود چلتا رہا۔ بعد میں سبی سے ایک اور انجن بھیجا گیا تاکہ انجن اور زخمی اہلکاروں کو تلاش کیا جا سکے۔

ریلوے پولیس کے انچارج محمد اسلم سے جب معلوم کیا گیا کہ یہ کون لوگ ہو سکتے ہیں تو انھوں نے کہا ہے کہ اس بارے میں تفتیش جاری ہے اور فی الحال یہ بتانا مشکل ہے کہ یہ کون لوگ ہیں۔ تاہم انھوں نے کہا ہے کہ اس علاقے میں راکٹ فائر کرنا اور مختلف قوموں اور گروہوں کی دشمنیوں کی وجہ سے فائرنگ کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔

انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملزمان شاید ریل گاڑی کو نشانہ بنانا چاہتے تھے اور چونکہ انجن میں روشنی ہوتی ہے تو ملزمان کا مقصد ریل گاڑی کو روک کر کاروائی کرنے کا تھا۔

ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ ریلوے ناصر زیدی نے بتایا ہے کہ ریلوے کی تنصیبات اور ریل گاڑیوں کے تحفظ لے لیے اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں اس بارے میں گورنر بلوچستان وزیراعلی بلوچستان لیویز اور فرنٹیئر کور کے اعلی حکام کو بھی مطلع کر دیا گیا ہے اور آج سے ان علاقوں میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کا گشت بڑھایا جا رہا ہے۔

یاد رہے کہ کہ دو روز قبل کوئٹہ کے قریب ریلوے کے پل کے نیچے نا معلوم افراد نے بم رکھ دیا تھا جو ایک زبر دست دھماکے سے پھٹ گیا تھا اور اس سے پل کو شدید نقصان پہنچا تھا تاہم کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

دریں اثناء وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے روجھان میں آبائی گھر کے قریب واقع ایک سکول کی دیوار کے ساتھ زبردست بم دھماکہ ہوا ہے دھماکے سے کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اطلاعات کے مطابق دھماکہ سکول کی چھٹی کے کوئی دو گھنٹے بعد ہوا ہے اور اس کی آواز اس قدر شدید تھی کہ دور دور تک سنی گئی ہے۔

ضلعی پولیس افسر شہریاب نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ یہ دہشت گردی کی واردات نہیں تھی بلکہ اس سے خوف و ہراس پھیلانا مقصود تھا۔اس دھماکے کے بعد علاقے میں حفاظتی اقدامات سخت کر دئے گئے ہیں اور علاقے کو قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا ہے اس کے علاوہ آنے جانے والے افراد کی مکمل جامہ تلاشی لی جا رہی ہے۔

جس مقام پر دھماکہ ہوا ہے یہ وزیراعظم میر ظفراللہ جمالی کے آبائی گھر سے تقریبا دو فرلانگ کے فاصلے پر ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد