BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 July, 2005, 07:28 GMT 12:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاشوں کی تلاش جاری ہے

ٹرین حادثہ
ٹرین حادثے میں ہلاک ہونے کی لاشیں اٹھائی جا رہی ہیں
پاکستان میں ٹرین کے حادثے کا شکار ہونے والے بد قسمت افراد کے رفقاء اور لواحقین بڑی بے تابی سے ان کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

بدھ کے روز صوبہ سندھ کے شہرگھوٹکی کے قریب تین ریل گاڑیوں کے آپس میں ٹکرانے کے نتیجے میں کم از کم 135 ہلاک ہو گئے تھے۔ ہلاک ہونے والے کئی افراد کی لاشوں کو بوگیاں کاٹ کر نکالا گیا۔

ہلاک ہونے والے کے نام ابھی تک جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے پیتیس افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سینکڑوں افراد اپنے رشتہ داروں کے متعلق کوئی خبر معلوم کرنے کے لیے انہیں فون کر رہے ہیں۔

پورے پاکستان کے ریلوے سٹیشنوں پر متاثرہ افراد کے متعلق پیسنجر لسٹس دیکھنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔

لاہور کے ریلوے سٹیشن کے باہر موجود ایک شخص سہیل کا کہنا ہے کہ ’میں ابھی تک اپنے دو بھائیوں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں جنہیں میں نے منگل کو یہاں سے کراچی کے لیے روانہ کیا تھا‘۔

اپنی بہن اور اس کے تین بچوں کے متعلق کوئی خبر ڈھونڈنے والے محمد الیاس کہتے ہیں کہ ’یہ (ریلوے حکام) ہمیں کچھ نہیں بتا رہے‘۔

اس مجمعے میں لطف اللہ بھی موجود ہیں جو اپنے دو بچوں کے متلعق کوئی خبر جاننے کے لیے بے چین ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے چہرے پر مسکراہٹ اپنے بچوں کی خیریت جاننے کے بعد ہی آئے گی۔

گھوٹکی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار عامر احمد خان کہتے ہیں کہ مقامی ہسپتال میں درجنوں لاشیں ایسی پڑی ہیں کہ جن کی شناخت کرنا ناممکن لگتا ہے۔

مقامی برف کی فیکٹریوں نے ہسپتال میں بڑے بڑے برف کے بلاک لا کر رکھے ہوئے ہیں تاکہ لاشوں کو مزید خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔

یہ حادثہ بدھ کے روز مقامی وقت کے مطابق صبح چار بجے پیش آیا تھا۔ لاہور سے کراچی جانے والی ایکسپریس ٹرین گھوٹکی کے قریب خراب ہونے کے بعد کھڑی کوئٹہ ایکسپریس سے ٹکرا گئی اور ان کے ٹکرانے کے بعد بکھرنے والی ریل کی بوگیاں مختلف سمت آنے والی تیز گام سے ٹکرا گئیں جو کہ کراچی سے راولپنڈی جا رہی تھی۔

ضلع کھوٹکی کے پولیس سربراہ آغا طاہر نے منگل کو بی بی سی کو بتایا تھا کہ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد دو سو سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی جا رہی ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق کل سترہ بوگیاں متاثر ہوئی ہیں۔چیئرمین ریلوے بورڈ شکیل درانی کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا۔ صدر اور وزیر اعظم نے بھی واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

پریشان مسافر
ابھی تک لوگ اپنے رشتہ داروں کو تلاش کر رہے ہیں

ریلوے کے سکھر ڈویژن کےٹریفک کنٹرولر محمد اشرف لنجار نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور سے کراچی جانے والی کوئٹہ ایکسپریس میں کوئی تکنیکی خرابی پیدا ہوئی جس پر اسے گھوٹکی کے قریب سرحد ریلوے اسٹیشن پر مرمت کے لیے روکا گیا تھا۔

کوئٹہ ایکسپریس کی درستگی کا کام ابھی جاری تھا کہ پیچھے سے آنے والی نائٹ کوچ اس سے جا ٹکرائی۔ اتفاق سے اسی وقت دوسرے ٹریک پر کراچی سے لاہور جانے والی تیزگام ایکسپریس گزر رہی تھی۔

ٹرین حادثہ
تینوں ٹرینوں کی کئی بوگیاں بالکل تباہ ہو گئی ہیں

نائٹ کوچ مرمت کے لیے کھڑی کوئٹہ ایکسپریس سے ٹکرا کر پٹڑی سے اتر گئی اور سامنے سے آنے والی تیزگام ایکسپریس سے ٹکرا گئی۔ ٹریفک کنٹرولر کے مطابق حادثے میں تیزگام ایکسپریس کی بارہ بوگیاں، کوئٹہ ایکسپریس کی چار اور نائٹ کوچ کی تین بوگیاں پٹڑی سے اتر کر الٹ گئی ہیں۔

اشرف لنجار کے مطابق حادثہ نائٹ کوچ کے ڈرائیور کی غفلت سے پیش آیا کیونکہ سگنل دیے جانے کے بعد باوجود اس نے ٹرین سرحد ریلوے اسٹیشن سے پہلے نہ روکی اور کوئٹہ ایکسپریس سے آ ٹکرایا۔

فوج، رینجرز اور پولیس کو امدادی کاروائیوں کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔ علاقے کے ہسپتالوں میں ہنگامی حالات کا اعلان کا کر دیا گیا ہے۔

ٹرین حادثہ
ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ہے

ریلوی حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں ریلوے کے چار ملازمین بھی شامل ہیں۔ جن میں کوئٹہ اور کراچی ایکسپریس کے ڈرائیور بھی شامل ہیں۔
ریلوے کی جانب سے لاہور ہیڈکوآرٹر، کراچی اور سکھر میں خصوصی انفارمیشن سیل قائم کئے گئے ہیں جہاں سے ہلاک ہونے والے اور زخمی افراد کے متعلق معلومات فراہم کی جا رہی ہے۔

دریں اثناء لاہور میں بی بی سی کے نامہ نگار عدنان عادل کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شمیم حیدر نے کہا ہے کہ بظاہر یوں لگتا ہے کہ کراچی ایکسپریس کا ڈرائیور غلام محمد سگنل نہیں دیکھ سکا یا سو گیا تھا اور اس نے سگنل توڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائیور خود بھی حادثہ میں ہلاک ہوگیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ میں پہلا ٹرین تصادم ہے جس میں دو سے زیادہ ٹرینیں ایک دوسرے سے ٹکراگئیں اور دنیا میں ریلوے کی تاریخ کا یہ ایسا چوتھا حادثہ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حادثہ میں مرنے والوں کو دو دو لاکھ روپے تلافی کی رقم دی جائے گی اور زخمی ہونے والے مسافروں کو ان کی حالت کے مطابق تلافی کی رقم دی جائے گی۔

وفاقی وزیر کے مطابق اس تصادم کی مکمل تحقیق کی جائے گی اور ذمہ دار افراد کو کڑی سزا دی جائے گی۔

66ٹکر کیسے ہوئی؟
گھوٹکی پر تین ٹرینیں آپس میں کیسے ٹکرا گئیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد