ٹرین حادثے کا آنکھوں دیکھا حال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گھوٹکی میں ٹرینوں کا حادثہ رات چار بجے پیش آیا اور عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ دھماکے کی زور دار آواز پر آس پاس کے گاؤں کے لوگ دھماکے والی جگہ پہنچ گئے اور انہوں نے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانا شروع کر دیا۔ ہلاک ہونے والوں میں بڑی تعداد بچوں کی ہے۔ کئی لاشیں بوگیوں سے باہر جاگریں جبکہ کئی مسافروں کے جسموں کے ٹکڑے ہو گئے ہیں۔ حادثے کی جگہ پر موجود ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی لاشیں بوگیوں میں پھنسی ہوئی تھیں جن کو بوگیاں کاٹ کر نکالا جا گیا۔مگر لوہا کاٹنے کا سامان موجود نہیں جس وجہ سے بوگیاں کاٹنے والوں کو بہت دشواری کا سامنا تھا۔ لوگ ہاتھوں، پیروں اور کپڑوں سے اپنے عزیزوں کی شناخت کر رہے ہیں۔ جبکہ کئی لاشیں قابل شناخت نہیں رہیں۔ پنوعاقل چھاؤنی کے فوجیوں نے ریلوے سٹیشن کا انتظام سنبھال لیا ہے جبکہ سکھر، گھوٹکی، پنو عاقل، ڈہرکیاور میرپور ماتھیلو ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے خون کا عطیہ دینے کے لئے اعلانات کئے گئے ہیں۔ صحافی کے مطابق سرکاری ہسپتالوں میں نہ تو عملہ موجود ہے نہ دوائیاں۔ مختلف سماجی تنظیموں کے لوگ بھاگ دوڑ کر رہے ہیں اور انہوں نے امدادی کیمپ لگائے ہیں۔ ریلوے حکام نے رلیف ٹرین چلاکر لوگوں کو کراچی اور صادق آباد روانہ کرنا شروع کردیا ہے۔ وسیع پیمانے پر تباہی اور موت دیکھ کر لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔ اس خوفناک حادثے میں بچ جانے والوں کا کہنا ہے کہ ایک بڑے دھماکے کے بعد وہ اپنی نشتوں سے دور جا گرے تھے۔ 22 سالہ سریا نے ایسو سی ایٹڈ پریس کو بتایا’ہم سو رہے تھے کہ اچانک ایک بڑے دھماکے نے ہمیں جگا دیا۔ دھماکے کی شدت سےمیں اپنی سیٹ سے نیچے گر گئی اس کے ساتھ ہی میں نے لوگوں کی چیخیں سنیں۔‘ 50 سالہ خدا بخش لارک کوئٹہ ایکسپریس پر سوار تھے اس حادثے میں ان کے سر پر چوٹ آئی ہے اور ٹانگ بھی ٹوٹ گئی۔ انہوں نے بتایا ’جس وقت یہ حادثہ ہوا ہماری ٹرین رکی ہوئی تھی سامنے سے ٹکر لگنے پر ہمارا ڈبہ اچھل کر پٹریوں سے نیچے جا گرا۔‘ انہوں نے کہا ’ہر طرف لاشیں بکھری پڑی تھیں ماں باپ اپنے بچوں کو تلاش کر رہے تھے کوئی اپنی بیوی کی تلاش میں تھا تو کوئی اپنے بھائی کو ڈھونڈ رہا تھا‘۔ ایک اور زخمی مسافر محمد امین نے بتایا کہ حادثے کے وقت وہ سو رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک بڑے سے دھماکہ کے ساتھ ان کی نیند ٹوٹی اور انہوں نے دیکھا ہر طرف دھواں ہےاور لوگوں کی چینخیں سنائی دے رہی ہیں۔’ اس وقت وہاں اتنا اندھیرا تھا کہ میں کسی چیز سے ٹکرا کر بے ہوش ہو گیا‘۔ ایک کیمرہ مین نوید زبیری کراچی ایکسپریس میں اپنے گھر والوں کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ انہیں معمولی زخم آئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ یہ حادثہ کنفیوثرن کے سبب ہوا ہے۔ ’حادثے کے فوراً بعد اندھیرا چھا گیا میں نے اپنے موبائل فون سے کچھ روشنی کرنے کی کوشش کی۔ اپنے ڈبے سے باہر آکر میں نے دیکھا دوسری ٹرین کے چار ڈبے پٹری سے اتر گئے تھے۔ ان ڈبوں میں پھنسے ہوئے لوگ مدد کے لئے پکار رہے تھےاور باہر نکلنے کی کوشش میں کھڑکیوں کے شیشے توڑ رہے تھے‘۔ کچھ عینی شاہدین نے موت اور تباہی کے مناظر بیان کرتے ہوئے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے لوہے کے ڈبوں کو کاٹ کر ان میں پھنسے ہوئے زخمیوں کو نکالا۔ مقامی ہسپتال میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے کئی اپنے اعضا گنوا چکے ہیں اور بہت سے لوگوں کو شدید دماغی چوٹیں آئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||