حادثہ کیسے پیش آیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنرل منیجر ریلویز عبدالوہاب اعوان کا کہنا ہے کہ لاہور سے کوئٹہ جانے والی کوئٹہ ایکپریس گھوٹکی کے قریب ایک چھوٹے سے اسٹیشن سرحد پر مرمت کے لئے رکی تھی کہ پیچھے سے لاہور سے کراچی جانے والی نائٹ کوچ بھی آئی۔ جس کو آؤٹر سگنل ریڈ ( سرخ) دے دیا گیا۔ عبدالوہاب اعوان کا کہنا ہے کہ اسی وقت کوئٹہ ایکسپریس کوگرین سگنل دے دیاگیا، تاکہ وہ روانہ ہو جائے۔ تاہم نائٹ کوچ کے ڈرائیور نے ریڈ سگنل کو مس جج کیا اور گاڑی کو تھرو کردیا۔ جس کے نتیجے میں حادثہ پیش آیا۔اور کوئٹہ ایکسپریس کی تین بوگیاں ساتھ والے ریلوے ٹریک پر جاگریں۔ اس لمحے راولپنڈی سے کراچی جانے والی تیزگام ٹرین آگئی۔ اور کوئٹہ ایکسپریس کے ان ڈبوں سے ٹکراگئی۔ نتیجے میں تیزگام کی بارہ بوگیاں پٹری سے اترگئیں۔ جنرل منیجر ریلویز عبدالوہاب اعوان کے مطابق فی الحال نائٹ کوچ کا ڈرائیور اس حادثے کا ذمہ دار معلوم ہو رہا ہے۔ اور لگتا ہے کہ اس کی غلطی سے یہ حادثہ پیش آیا۔ تاہم تحقیقات کے بعد اصل حقائق سامنے آسکیں گے۔ ڈی پی او گھوٹکی آغا طاہر کے مطابق حادثے کے فورا بعد ریلوے حکام میں سے کوئی نہیں پہنچا البتہ ایس پی ریلوے پہنچے تھے۔ ڈی پی او گھوٹکی کا کہنا ہے کہ سرحد ریلوے اسٹیشن کا عملہ حادثے کے بعد غائب ہے۔ حادثے کے اسباب کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے بعد ہی اصل صورتحال معلوم ہو سکےگی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ ایک تیکنیکی غلطی نظر آتی ہے کیونکہ کوئٹہ ایکسپریس اور نائٹ کوچ تقریبا ایک دوسرے کے آگے پیچھے آرہی تھیں کہ سرحد ریلوے اسٹیشن پر کوئٹہ ایکسپریس کو روک دیاگیا۔ تاکہ نائٹ کوچ کو راستہ دیا جا سکے۔ لیکن نائٹ کوچ کو بھی اسی ٹریک پر سگنل دے دیا گیا، جہاں پر کوئٹہ ایکسپریس کھڑی تھی۔ جس کے باعث دونوں گاڑیوں میں تصادم ہوا۔ تصادم کے بعد دونوں گاڑیوں کے ڈبے دور جاگرے۔ خاص طور پر کوئٹہ ایکسپریس کے ڈبے اپ لائن پر جا گرے۔ اسی لمحے کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام آ پہنچی جو کوئٹہ ایکسپیریس کے گرے ہوئے ڈبوں سے جا ٹکرائی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||