BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 July, 2005, 07:51 GMT 12:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ساٹھ بے نام مسافروں کی تدفین

ریل حادثے میں مرنے والے
گھوٹکی ہسپتال کے ایم ایس کا کہنا ہے کہ میتوں کے تقدس کا پورا خیال رکھا جا رہا ہے۔
کراچی سے ساڑھے پانچ سو کلومیٹر دور گھوٹکی کے قریب سرحد ریلوے سٹیشن پر کراچی ایکسپریس، کوئٹہ ایکسپریس اور تیزگام کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو اکاون ہوگئی ہے۔

ساٹھ مسافروں کی لاشوں کو ناقابلِ شناخت ہونے کی بنا پر جمعہ کو گھوٹکی میں ہی دفنا دیا گیا۔ ایدھی فاؤنڈیشن کے رضوان ایدھی نے بتایا کہ ساٹھ مسافروں کی شناخت نہیں ہو سکی اور لاشوں کی حالت بہت خراب تھی جس وجہ سے ان کی تدفین کر دی گئی۔

امدادی کام کرنے والے رضاکار اور ریلوے کے بعض اہلکار ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں کیے جانے والے اعلان سے اتفاق نہیں کرتے۔

وفاقی وزیر ریلوے شمیم صدیقی نے سکھر، ملتان اور راولپنڈی میں فرائض سر انجام دینے والے پانچ افسروں کو معطل کر دیا ہے۔

ان کے مطابق حادثے کا شکار تینوں ریل گاڑیوں کا شمار ملک کی بڑی ٹرینوں میں ہوتا ہے جن میں مسافروں کی ایک کثیر تعداد روزانہ سفر کرتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حادثے کی شدت کے باعث تینوں ٹرینوں کی کئی بوگیاں مکمل طور پر تباہ ہوئی ہیں جن کے ملبے سے جمعرات کی رات تک لاشیں اور انسانی اعضاء برآمد ہوتے رہے۔

یہ لوگ کہتے ہیں کہ کئی انسانوں کے اعضاء کو ایک ہی گٹھڑی میں بند کر کے اسے بعد میں میت کا نام دے دیا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسی کئی گٹھڑیاں گھوٹکی کے سول ہسپتال میں پڑی نظر آتی ہیں لیکن ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر حسن شاہ جیلانی کا کہنا ہے کہ میتوں کے تقدس کا پورا خیال رکھا جا رہا ہے۔

ہسپتال میں داخل مریضوں نے بھی اب گھر جانا شروع کردیا ہے۔مسافروں کے رشتہ دار اپنے شہروں میں علاج کروانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

سرحد پولیس نے بتایا ہے کہ کرینوں کے مدد سے حادثے کا شکار ہونے والی ٹرینوں کا ملبہ ہٹایا گیا ہے اور ٹریک آمدورفت کے لیے کھول دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکام کا خیال ہے کہ ان افسروں نے اپنی نا اہلی چھپانے کے لیے سارا الزام کراچی ایکسپریس کے ڈرائیور غلام محمد کے سر تھوپ دیا کہ اس نے سرحد ریلوے سٹیشن پر لال سگنل کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گاڑی مرمت کے لیے کھڑی کوئٹہ ایکسپریس سے جا ٹکرائی۔

حکام زیر مرمت کوئٹہ ایکپریس کے مین ریلوے ٹریک پر کھڑے ہونے کو بھی قابل اعتراض قرار دے رہے ہیں۔

تاہم ایک تنازعہ جو حل ہوتا نظر نہیں آ رہا کہ آیا کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیزگام بھی اسی وقت سرحد ریلوے سٹیشن سے گزر رہی تھی جب کراچی ایکسپریس کوئٹہ ایکسپریس سے ٹکرا رہی تھی یا یہ ٹرین کچھ دیر بعد سرحد ریلوے سٹیشن پر آئی اور پٹڑی پر گرے ڈبوں سے جا ٹکرائی۔

ریلوے ریکارڈ میں دونوں ٹرینوں کا سرحد سٹیشن سے گزرنے کا وقت تین بج کر باون منٹ دکھایا گیا ہے جبکہ اعلٰی حکومتی اہلکار بڑے شدومد سے کہہ رہے ہیں کہ تیزگام جائے حادثہ پر پانچ سے دس منٹ بعد پہنچی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد