ٹرین حادثہ: ڈرائیور سوگیا تھا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وفاقی وزیر ریلوے شمیم حیدر نے کہا کہ گھوٹکی میں ٹرینوں کے تصادم کی وجہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم بظاہر یوں لگتا ہے کہ کراچی ایکسپریس کا ڈرائیور غلام محمد سگنل نہیں دیکھ سکا یا سو گیا تھا اور اس نے سگنل توڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائیور خود بھی حادثہ میں ہلاک ہوگیا۔انہوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ حادثہ صبح ساڑھے تین بجے کے قریب پیش آیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ میں پہلا ٹرین تصادم ہے جس میں دو سے زیادہ ٹرینیں ایک دوسرے سے ٹکراگئیں اور دنیا میں ریلوے کی تاریخ کا یہ ایسا چوتھا حادثہ ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حادثہ میں مرنے والوں کو دو دو لاکھ روپے تلافی کی رقم دی جائے گی اور زخمی ہونے والے مسافروں کو ان کی حالت کے مطابق تلافی کی رقم دی جائے گی۔ وفاقی وزیر کے مطابق اس تصادم کی مکمل تحقیق کی جائے گی اور ذمہ دار افراد کو کڑی سزا دی جائے گی۔ تاہم لاہور میں ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان کے پاس ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے ناموں کی فہرست موجود نہیں ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ تیزگام، کراچی ایکسپریس اور کوئٹہ ایکسپریس کے اس تصادم میں تیزگام کی چھ بوگیاں متاثر ہوئیں اور اس کے زیادہ تر مسافر زخمی ہوئے ہیں جبکہ زیادہ ہلاکتیں کوئٹہ ایکسپریس اور کراچی ایکسپریس کی ہوئی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||