BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 13 July, 2005, 16:53 GMT 21:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹرین حادثہ: ڈرائیور سوگیا تھا؟

News image
دنیا میں ریلوے کی تاریخ کا یہ ایسا چوتھا حادثہ ہے
وفاقی وزیر ریلوے شمیم حیدر نے کہا کہ گھوٹکی میں ٹرینوں کے تصادم کی وجہ کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا تاہم بظاہر یوں لگتا ہے کہ کراچی ایکسپریس کا ڈرائیور غلام محمد سگنل نہیں دیکھ سکا یا سو گیا تھا اور اس نے سگنل توڑ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈرائیور خود بھی حادثہ میں ہلاک ہوگیا۔انہوں نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ حادثہ صبح ساڑھے تین بجے کے قریب پیش آیا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ میں پہلا ٹرین تصادم ہے جس میں دو سے زیادہ ٹرینیں ایک دوسرے سے ٹکراگئیں اور دنیا میں ریلوے کی تاریخ کا یہ ایسا چوتھا حادثہ ہے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ اس حادثہ میں مرنے والوں کو دو دو لاکھ روپے تلافی کی رقم دی جائے گی اور زخمی ہونے والے مسافروں کو ان کی حالت کے مطابق تلافی کی رقم دی جائے گی۔

وفاقی وزیر کے مطابق اس تصادم کی مکمل تحقیق کی جائے گی اور ذمہ دار افراد کو کڑی سزا دی جائے گی۔

تاہم لاہور میں ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک ان کے پاس ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے ناموں کی فہرست موجود نہیں ہے۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ تیزگام، کراچی ایکسپریس اور کوئٹہ ایکسپریس کے اس تصادم میں تیزگام کی چھ بوگیاں متاثر ہوئیں اور اس کے زیادہ تر مسافر زخمی ہوئے ہیں جبکہ زیادہ ہلاکتیں کوئٹہ ایکسپریس اور کراچی ایکسپریس کی ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد