کوئی پرسانِ حال نہیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سے ساڑھے پانچ سو کلومیٹر دور گھوٹکی کے قریب پیش آنے والے حادثے میں سب سے زیادہ کراچی کے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ لاہور سے آنے والی کراچی ایکسپریس اور کراچی سے لاہور جانے والی تیزگام ایکسپریس میں بڑی تعداد میں کراچی کے رہائشی لوگ سوار تھے۔ ریلوے حکام کی جانب سے معلومات کے لئے کینٹ ریلوے سٹیشن پر قائم کے گئے معلوماتی سیل پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد اپنے رشتہ داروں کی خیریت معلوم کرنے کو پریشان تھی۔ مگر اس سیل کے پاس لوگوں کو بتانے کے لئے کوئی بھی معلومات نہیں تھی۔
ایک نوجوان کاشف نے بتایا کہ ان کی ماں انور جہاں کو لاہور سے کراچی آنا تھا۔ وہ یہاں معلومات لینے آئے ہیں مگر یہاں پر بتانے والا کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ گلستان جوہر کے رہائشی ہیں ۔ وہ حادثے سے لاعلم تھے میڈیا کے ذریعے ان کو حادثے کے بارے میں معلوم ہوا۔ وہ صبح سے یہاں پریشان پھر رہے ہیں۔ اورنگی ٹاؤن کے رہائشی مراد نے بتایا کہ ان کی نانی خالہ کے پاس جانے کے لئے لالہ موسٰی گئیں تھیں۔ اب ان کی لئے پریشان ہیں کیونکہ انہیں معلوم نہیں کس حال میں ہونگی۔ ایک بزرگ ریاض احمد نے اشک بہاتے ہوئے بتایا کہ ان کی چھ بچیاں اپنے بچوں کیساتھ تیز گام سے ملتان روانہ ہوئیں تھیں۔ ان کے پاس موبائیل فون ہے مگر وہ کوئی نہیں اٹھا رہا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پریشان مگر یہاں کوئی بتانے کو تیار نہیں کہ میری بچیاں کہاں اور کس حال میں ہیں۔ ایک جذباتی شخص نے چلاتے ہو ئے کہا کہ اگر کوئی فوجی جنرل تکلیف میں آجائے تو سب حرکت میں آجاتے ہیں۔ یہاں پی آئی اے کی کوئی سروس شروع نہیں کی گئی۔ نہ اسپیشل ٹرین چلائی گئی۔ لوگ رو رہے ہیں۔ مگر کسی کو کوئی پرواہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن میں پچاس افراد ہلاک ہوئے تھے تو سارے ملک میں ایمرجنسی جیسی صورتحال تھی۔ مگر یہاں کوئی رسکیو پارٹی یا نظام نہیں ہے۔ تیز گام ایکسپریس میں ڈرائی فروٹ بیچنے والے محمد خالد بٹ کی اہلیہ زاروقطار رو رہیں تھیں۔ فریدہ ناز نے بتایا کہ میں یہاں صبح سات بجے سے پریشان ہوں مگر کوئی بتانے والا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ گھوٹکی کے اسپتال بھی فون کیا ہے لیکن وہاں سے بھی کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||