BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حادثہ کیوں ہوا؟

News image
دنیا میں ریلوے کی تاریخ کا یہ ایسا چوتھا حادثہ ہے
صوبہ سندھ میں گھوٹکی کے قریب سرحد ریلوے اسٹیشن پر بدھ کی صبح تین ریل گاڑیوں کے تصادم کی وجوہات کے بارے مختلف باتیں سامنے آرہی ہیں جن میں کراچی ایکسپریس کے ڈرائیور کی غلطی، سگنلز کے نظام میں ممکنہ خرابی اور تخریب کاری کے امکانات وغیرہ شامل ہیں۔

شروع میں کہا گیا کہ کراچی ایکسپریس کا ڈرائیور یا تو سگنل کو صیح سمجھ نہیں سکا یا وہ حادثے کے وقت سو رہا تھا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ایف جی آئی آر یعنی فیڈرل گورنمنٹس انسپکٹر آف ریلویز سلیم الرحمنٰ اخوند نے حکومت کو دی گئی اپنی ابتدائی رپورٹ میں سرحد ریلوے سٹیشن پر سگنلز کے نظام میں مبینہ خرابی کو بھی حادثے کی ایک ممکنہ وجہ قرار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرحد ریلوے سٹیشن پر مین ٹریک کے سگنلز ٹھیک کام کررہے تھے لیکن لوپ ٹریک یعنی متبادل راستے پر جانے کا سگنل ٹھیک کام نہیں کررہا تھا۔

اس سے قبل ریلوے کے وفاقی وزیر میاں شمیم صدیقی نے اس بات کو رد نہیں کیا کہ سرحد ریلوے سٹیشن پر ہونے والا اندوہناک حادثے کے پیچھے تخریب کاری بھی کارفرما ہوسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی ایکسپریس کے انجن سے ڈرائیور اور فائرمین کے علاوہ ایک اور شخص کی لاش بھی ملی ہے جو کہ ممکنہ تخریب کار ہوسکتاہے۔ ایدھی فاونڈیشن کے مولانا عبدلستار ایدھی بھی کچھ اسی قسم کے خیالات کا اظہار کرچکے ہیں۔ لیکن امدادی کارکن اور فوجی حکام اس بات سے اتفاق نہیں کرتے ان کا کہنا ہے کہ کراچی ایکسپریس کے انجن کے نیچے سے تین لاشیں ملی تھیں نہ کہ اندر سے۔

سرحد ریلوے سٹیشن پر لوپ ٹریک کاسگنل خراب ہونے کے حوالے سے سکھر ریلوے کے سربراہ چوہدری نذیر احمد کا کہنا ہے کہ سگنل سسٹم مکمل طور پر صیح کام کر رہا تھا اور کراچی ایکسپریس کے ڈرائیور کو ریڈ سگنل دیا گیا تھا جوکہ ریکارڈ پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرض کریں اگر لوپ ٹریک والا سگنل خراب تھا تو اس صورت میں کراچی ایکسپریس کو سرحد سٹیشن سے پہلے حادثے کا شکار ہو جانا چاہئے تھا کیونکہ اسے تو لوپ ٹریک پر جانا تھا جبکہ وہ سیدھا آگیا۔

انہوں نے بتایا کہ حادثے سے دو روز قبل سرحد ریلوے سٹیشن کے سگنل سسٹم میں معمولی سے خرابی ہوئی تھی جسے دور کرلیا گیا تھا اور سٹیشن ماسٹر نے اس کی درستگی کی رپورٹ بھی کی تھی۔

تخریب کاری بھی نہیں تھی اور سگنل کا نظام بھی درست کام کررہا تھا تو پھر کیا ہوا کہ ڈرائیور غلام محمد نے گاڑی نہ روکی اور اتنے بڑے سانحے کا موجب بنا۔ اگر اسے اونگھ آگئی تھی تو اس کا نائب جسے فائر مین کہا جاتا ہے توجاگ رہا ہوگا۔

کہا جاتا ہے کہ ریلوے سگنلز کو ڈرائیور حضرات دن میں ایک اعشاریہ دو کلومیٹر کے فاصلے سے دیکھ سکتے ہیں اور رات کی تاریکی میں چار سے پانچ کلومیٹر دور سے ان کو لال اور سبز بتیاں نظر آجاتی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سرحد ریلوے سٹیشن پر مرمت کے لیے کھڑی کوئٹہ ایکسپریس کا انجن بھی بند نہیں تھا اور اس کی ہیڈ لائٹ بھی روشن تھی۔

اس ساری صورتحال میں ماہرین کے مطابق جو بات قرین قیاس ہے وہ یہ کہ یا تو کراچی ایکسپریس کا ڈرائیور اور فائر مین دونوں سو رہے تھے یا پھرگاڑی کی بریکوں نے کام نہیں کیا۔ذرائع کے مطابق کراچی ایکسپریس کے ڈرائیور نے ملتان میں بریکوں کے مسئلے کی نشاندہی کی تھی جسے زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اور اب شاید اسے لیےملتان میں ریلوے کےانجینئر یوسف لغاری ان افسروں میں شامل ہیں جنہیں غفلت برتنے کے الزام میں معطل کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق جو بات قابل اعتراض ہے وہ یہ کہ سرحد کے سٹیشن ماسٹر نے زیر مرمت کوئٹہ ایکسپریس کو لوپ ٹریک پر لینے کی بجائے مین ٹریک پر کیوں کھڑا کیا۔کیونکہ عمومی طور پر مرمت مانگنے والی گاڑیوں کو متبادل ٹریک پر ہی کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ باقی گاڑیوں کی آمدوفت متاثر نہ ہو۔

لیکن ذرائع کےمطابق سٹیشن ماسٹر اس حوالے سے کوئی بھی فیصلہ ڈویژنل کنٹرول روم کی مرضی کے بغیر نہیں لیتا۔ بلکہ اس کا فیصلہ کنٹرول روم میں بیٹھے بڑے افسر ہی کرتے ہیں۔ معطل ہونے والےریلوے افسروں میں سکھر کے ڈویژنل ٹرانسپورٹ افسر اشرف لنجار بھی شامل ہیں۔

حادثے کا وقت جو ریکارڈ پر آیا ہے تین بج کر باون منٹ ہے۔ کراچی ایکسپریس نے تین بج کر بیالیس منٹ پر میرپور ماتھیلو کے ریلوے سٹیشن کو کراس کیا۔ جبکہ دوسری طرف تیز گام نے گھوٹکی ریلوے سٹیشن کو تین بج کر پینتالیس منٹ پر خیر آباد کہا۔دونوں ٹرینیں تین بج کر باون منٹ پر سرحد سٹیشن پہنچ چکی تھیں۔

کراچی ایکسپریس کوئٹہ ایکسپریس کو دھکیلتی ہوئی سامنے سے آنے والی تیزگام ایکسپریس کو اس وقت ٹکرائی جب تیزگام کا انجن اور تین ڈبے گذر چکے تھے۔ حادثے میں کوئٹہ ایکسپریس کے ڈرائیور دین محمد اور کراچی ایکسپریس کے ڈرائیور غلام محمد ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں۔جبکہ تیزگام ایکسپریس کے ڈرائیور خیر محمد سومرو بحفاظت رہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد