ندیم سعید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، گھوٹکی |  |
 |  ایڈوانس بکنگ کے بغیر سفر کرنے والے کوحادثے کی صورت میں معاوضہ نہیں مل سکتا |
ریلوے حکام نے گھوٹکی کے قریب پیش آنے والے ہولناک حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں سرحد ریلوے سٹیشن اور سکھر میں ریلوے ٹریفک کنٹرول کے عملے کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں موجود ذرائع کے مطابق ریلوے سکھر ڈویژن کے ویجیلنس سیل اور وفاقی حکومت کے انسپکٹر ریلوے نے اپنی اپنی ابتدائی انکوائری رپورٹوں میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ سرحد ریلوے سٹیشن پر انر یعنی اندرونی سگنل سبز تھا جبکہ آوٹر یعنی بیرونی سگنل سرخ تھا جس سے غالباً کراچی ایکسپریس کے ڈرائیور کو غلطی ہوئی۔ ذرائع کے مطابق سرحد سٹیشن کے عملے نے زیادہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرمت کے لیے رکی ہوئی کوئٹہ ایکسپریس کی روانگی کے لیے سگنل ڈاون یعنی سبز کر رکھا تھا اور ادھر سےکراچی ایکسپریس کو بھی میرپور ماتھیلو ریلوے سٹیشن سے اس خیال کے تحت چلنے کا کہہ دیا گیا تھا کہ اس کے آنے تک کوئٹہ ایکسپریس ٹھیک ہو کر روانہ ہوچکی ہوگی۔ ایکسپریس ٹرین میرپور سے سرحد کا فاصلہ دس منٹ میں طے کر لیتی ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ کراچی ایکسپریس کے ڈرائیور نے غلطی سے کوئٹہ ایکسپریس کو دیئے گئے سبز سگنل کو اپنے لیے گزر جانے کا اشارہ سمجھ لیا اور پھر اسی ٹریک پر کھڑی کوئٹہ ایکسپریس سے ٹکرانے کے بعد سامنے سے آنے والی تیزگام سے جا لگے۔ سرحد سٹیشن کے عملے پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک تو خراب ٹرین کو لوپ ٹریک پر بھیجنے کی بجائے اسے مین لائن پر کھڑا رکھا اور اوپر سے اس کے درست حالت میں آنے پہلے ہی اس کے لیے سگنل سبز کر رکھا تھا۔ کس گاڑی کو کس لائن لانا ہے اس کا فیصلہ کنٹرول روم میں بیٹھے بڑے ریلوے کے شعبہ ٹریفک کے بڑے افسر کرتے ہیں۔ ذرائع کےمطابق تحقیقاتی رپورٹوں میں کہا گیا ہے کہ کوئٹہ ایکسپریس کے خراب ہوکر سرحد سٹیشن پر کھڑے ہونے اور تیز گام کی آمد کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹریفک کنٹرول کے حکام کو چاہیے تھا کہ وہ کراچی ایکسپریس کو میرپور سٹیشن پر ہی رکوا لیتے۔
|