کراچی، ریل کا رابطہ معطل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور کاروباری سرگرمیوں کے مرکز کراچی سے گزشتہ دو دن سے نہ تو مسافر اور نہ ہی کوئی مال گاڑی ملک کے دیگر علاقوں کی طرف جا سکی ہے۔ سٹی اور کینٹ سٹیشن پر ریل گاڑیوں کی آمدرفت بند ہے۔ اتوار کے روز ملیر پل پر ایک مال گاڑی کے نو ڈبے الٹ جانے کے بعد پٹڑی اکھڑ جانے کی وجہ سے ریل گاڑیوں کی آمد و رفت بند کردی گئی تھی۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ قراقرم، نائٹ کوچ، تیزگام، شالیمار اور سپر ایکسپریس سمیت روزانہ انیس کے قریب گاڑیاں کراچی اور کینٹ سٹیشن سے ملک کے دیگر علاقوں کی جانب جاتی ہیں مگر گزشتہ دو روز سے کوئی بھی گاڑی معمول کے مطابق روانہ نہیں ہوسکی ہے۔ کراچی آنے والی تمام ریل گاڑیوں کو شہر سے باہر لانڈھی سٹیشن پر روکا جارہا ہے۔ جہاں سے مسافر اپنی منزل کو روانہ ہورہے ہیں۔ کراچی سے روزانہ ہزاروں لوگ ریل گاڑیوں کے ذریعے ملک کے دیگر علاقوں کی طرف سفر کرتے ہیں جن کو سخت دشواری کا سامنا ہے۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ لانڈھی تک آنے والی گاڑیوں کو وہاں سے ہی ملک کے دیگر علاقوں کی طرف روانہ کیا جارہا ہے۔ مسافروں کو بھی لانڈھی جانے کو کہا گیا ہے تاہم اگر کوئی مسافر سٹی یا کینٹ سٹیشن پر آجاتا ہے تو اس کے لیے ایک بس کا انتظام کیا گیا ہے جس سے ان کو لانڈھی پہنچایا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ لانڈھی کراچی سے ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ اس چھوٹے سے سٹیشن پر مسافروں اور ریل گاڑیوں کی تعداد بڑھنے سے سہولیات کا فقدان ہوگیا ہے۔ لوگ پینے کے پانی سے لیکر بیٹھنے کی جگہ تک کے لیے پریشان ہیں۔ دوسری جانب ریلوے پولیس نے تخریب کاری کے امکان کو مکمل رد کرتے ہوئے اس واقعے کا سبب فنی خرابی قرار دیا ہے۔ واقعے کے تحقیقاتی افسر علی حسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹریک کی حالت خراب تھی یا لاپرواہی کی گئی اس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے اور جلد حقائق سامنے آجائینگے۔ انہوں نے بتایا کے حادثے کا شکار مال گاڑی کے نو ڈبوں میں سے چھ کو ہٹایا گیا ہے جبکہ باقی تین کو ہٹایا جارہا ہے اور رات تک ٹریک صاف ہونے کا امکان ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||