بسیں نذرِآتش پولیس پر پتھراؤ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور کے گنجان علاقے شاہ عالمی میں ٹریفک حادثے میں ایک بچے کی ہلاکت کے بعد مقامی لوگوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور تین بسوں کو آگ لگا دی۔ آٹھ سالہ سائیکل سوار حیدر اپنے گھر جارہا تھا جب اسے کچلنے کے بعد بس کا ڈرائیور فرار ہوگیا۔ مقامی لوگوں نے شاہ عالمی بازار کی مین روڈ پر مظاہرہ کیا ٹائر جلا کر ٹریفک بلاک کی اور پتھراؤ کیا۔ انہوں نے ایک نجی ٹرانسپورٹ کمپنی کی چھ بسوں پر پتھراؤ کیا اور لاٹھیاں برسا کر انہیں توڑ دیا جبکہ ان میں سے تین بسوں کو پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی گئی۔ اس دوران پولیس کے چند اہلکاروں نے مداخلت کی کوشش کی تو ان پر بھی پتھراؤ کیا گیا فائر برگیڈ کے عملے نے آگ بجھانے کی کوشش کی تو ان پر بھی حملہ کیا گیا اور فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی کے شیشے توڑ دئیے گئے۔ بعدازاں پولیس کی بھاری نفری پہنچ گئی انہوں نے لاٹھی چارج کے بعد مظاہرین کو منتشر کیا اور شام کو بچے کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوائی جاسکی۔ چند سال پہلے لاہور کے مختلف علاقوں میں ویگنوں پر پابندی لگا دی گئی تھی اور ان کی جگہ بسیں چلائی گئی ہیں لیکن اس سے شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ سے وابستہ جان لیوا ٹریفک حادثات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||