BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 February, 2007, 14:49 GMT 19:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ اقلیتوں کی کوئی نہیں سنتا‘

گریش کمار
گریش نےگزشتہ سال الیکٹریکل انجنیئرنگ کی ڈگری حاصل کی تھی
حیدرآباد سے اغوا کے بعد بیدردی سے قتل کئےگئے ہندو انجنیئر گریش کمار کے والد سسپال داس نے حکومت سے انصاف کا مطالبہ کیا ہے،ان کا کہنا ہے کہ اقلیتی بغیر تحفظ کے یہاں بیٹھے ہوئے ہیں ان کی کوئی سننے والا نہیں ہے۔

بائیس سالہ گریش کمار کو سترہ اگست کو حیدرآباد سےاغوا کیا گیا تھا،
بدھ کو دو افراد کے گرفتار ہونے کے بعد ان کے قتل ہونےکا انکشاف ہوا۔

گرفتار ملزم شاہد نے پولیس کو بتایا تھا کہ اس کے بھائی طاہر نےگریش کو اغوا کرنے کے بعد کاٹ دیا اور لاش کو جلا کر دفن کردیا۔

سسپال داس نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نےگریش کے لاپتہ ہونے کے بعد ملک بھر کے لوگ آزمائے، پاکستان کی کوئی ایجنسی نہیں چھوڑی، ایوان صدر تک پہنچے مگر اس کا صلہ یہ ملا کہ انہیں بیٹے کی لاش دی گئی۔

ہندو انجنیئر گریش کمار کو قتل کر کے جلا دیا گیا

انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں ملزمان نے ان سے رابطہ کیا تھا اور پیسے مانگے انہوں نے ان سے پوچھا یہ پیسے کس کو دیئے جائیں ، کوئی آدمی سامنے آئےگا تو پیسے دیں گے یا بیچ میں کوئی آدمی لایا جائے۔

سسپال ملزمان سے یہ مطالبہ کرتے رہے کہ ان کی گریش سے بات کروائی جائے مگر ملزماں نے ان کی یہ خواہش پوری نہیں کی۔ سسپال داس کےمطابق ملزماں کا کہنا تھا کہ لڑکے سے بات نہیں کروائی جاسکتی کیونکہ وہ ایسی جگہ پر ہیں جہاں ٹریس ہوجائیں گے۔

سسپال داس کنری میں تجارت کرتے ہیں گریش کمار کے بچھڑنے کے بعد
ان کے دو بیٹے ہیں جس میں سے ایک ڈاکٹر اور دوسرا ایم بی اے کا طالب علم ہے گریش کمار الیکٹریکل انجنیئر تھے جن کی منگنی ہوچکی تھی۔

ان کے والد کے مطابق چھ ماہ کے بعد وہ بیٹے کی شادی کرنے کا سوچ رہے تھے۔
سسپال داس نے بتایا کہ اس واقعے میں ملوث ملزماں کو وہ نہیں جانتے ہیں مگر اس وقت جو حقائق سامنے آئے ہیں ان سے یہ معلوم ہوا کہ کنری میں حزب المجاہدین کا ایک آدمی اس سازش میں شامل ہے۔ان کے مطابق بس جہادی تنظیم کا آدمی ہے، جہاد کے نام پر ہندو کو قتل کرو۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں صرف ہندو ہونے کی وجہ سے ٹارگیٹ بنایا گیا ہے ان کا اور کوئی مقصد نہیں تھا۔ ہم کاروباری لوگ ہیں صبح کو آنا شام کو گہر جانا اس کے علاوہ کوئی سرگرمی نہیں تھی۔

سسپال داس نے بتایا کہ وہ انصاف کے لیے لڑیں گے اور انہیں عدالتوں سے توقع رکھتے ہیں کہ ان سے انصاف کیا جائےگا۔

دوسری جانب گریش کمار کی لاش کے ٹکڑے ورثا کے حوالے کردیئےگئے ہیں۔ عمرکوٹ کے شہر کنری میں ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں گی، مزید تصدیق کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے لاہور بھیج دیئے گئے ہیں۔

کوٹڑی پولیس نےجمعرات کوگرفتار ملزماں خادم حسین اور شاہد حسین منہاس کو ریمانڈ کے لیے حیدرآباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر کے سات روز کا ریمانڈ حاصل کیا۔

خادم حسین کا گریش کمار کے قتل اور اغوا کےمقدمے میں جبکہ شاہد حسین کا پولیس پر حملے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں سات روز کا ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
عمر کوٹ کے ہندو لاپتہ ہیں
28 December, 2006 | پاکستان
منو بھیل کی کون سنے گا؟
03 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد