’ہندو انجینئر: ٹکڑے کر کے جلایا گیا‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدرآباد کے قریبی علاقے کوٹڑی میں پولیس نے ایک لاش کے جلے ہوئے ٹکڑے برآمد کیے ہیں جس کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ لاپتہ ہندو انجنیئر گریش کمار مہیشوری کی ہے۔ حیدرآباد پولیس نے یہ لاش بدھ کو کوٹڑی کی سچل کالونی سے گرفتار کیے گئے خادم حسین منہاس اور اس کے بیٹے شاہد کی نشاندہی پر بر آمد کی۔ حیدرآباد کے علاقے لبرٹی مارکیٹ سے سترہ اگست دو ہزار چھ کو گریش کمار اپنے گھر سے اغوا ہوئے تھے اور اس واقعے کی ایف آئی آر چودہ ستمبر کو مارکیٹ پولیس تھانے پر تین نامعلوم افراد کے خلاف دائر کروائی گئی تھی۔ حیدر آباد کے ایس پی تحقیقات غلام مصطفیٰ کورائی نے بی بی سی کو بتایا کہ گریش کمار کے رشتہ داروں کے پاس کوٹڑی، کوہاٹ، حیدرآباد اور کراچی سے موبائل اور پی سی او سے ٹیلیفون آتے رہے جو ان سے تاوان طلب کرتے تھے۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے پہلے دو کروڑ، پھر ایک کروڑ اور آخر میں پچاس لاکھ تاوان طلب کیا تھا۔ ایس پی کورائی کے مطابق گزشتہ روز پولیس کو اطلاع ملی کہ گریش کمار کوٹڑی میں ایک گھر میں موجود ہوسکتے ہیں۔ پولیس جب اس پتے پر پہنچی تو ان پر فائرنگ کی گئی۔ پولیس نے مقابلے کے بعد خادم منہاس اور ان کے بیٹے شاہد کو گرفتار کرلیا جبکہ باقی ملزم فرار ہوگئے۔ ایس پی کورائی کے مطابق دوران تفتیش شاہد منہاس نے پولیس کو بتایا کہ اس کے بھائی طاہر منہاس نےگریش کمار نامی ایک شخص کو اغوا کیا تھا، جس کے جسم کے ٹکڑے کر کے اور جلا کر زمین میں دفن کر دیا گیا۔ شاہد منہاس کی نشاندہی پر پولیس نے لاش برآمد کی۔ گریش کمار کے بھائی ڈاکٹر امرت کمار نے برآمد ہونے والی شرٹ اور پینٹ سے اپنے بھائی کی لاش کی شناخت کی ہے۔ ایس پی کے مطابق طاہر کا تعلق کالعدم جہادی تنظیم سے ہے۔ بظاہر یہ اغوا برائے تاوان کا مقدمہ لگ رہا ہے مگر پولیس اس کی تفتیش کر رہی ہے۔ گریش کمار کا تعلق ضلع عمرکوٹ کی تحصیل کنری سے ہے، ان کے والد مقامی تاجر اور کاؤنسلر ہے۔ گریش نے گزشتہ سال انجنیئرنگ کی تھی۔ کوٹڑی تھانے پر خادم حسین منہاس،شاہد منہاس ، طاہر منہاس، سہیل منہاس اور جاوید منہاس کے خلاف قتل کے الزام میں مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔ گریش کمار کے قتل کی اطلاع کے بعد عمرکوٹ، سامارو، چیلھار، کانٹیو اور چھاچھرو میں جہاں ہندو بڑی تعداد میں آباد ہیں کاروبار بند ہوگیا۔ | اسی بارے میں عمر کوٹ کے ہندو لاپتہ ہیں 28 December, 2006 | پاکستان لاپتہ افراد کے اہل خانہ سراپا احتجاج28 December, 2006 | پاکستان ’حسبہ بل کا نفاذ فوراً روکا جائے‘10 December, 2006 | پاکستان منو بھیل کی کون سنے گا؟03 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||