BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 03 November, 2006, 15:30 GMT 20:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
منو بھیل کی کون سنے گا؟

منو بھیل
منو بھیل نو سال سے خاندان کو ڈھونڈ رہے ہیں
پاکستان کے صوبہ سندھ میں ایک زمیندار کے ہاتھوں مبینہ طور پر اغوا کیے جانےوالے اپنے اہل خانہ کی بازیابی کے لیےگزشتہ نو برس سے سرگرداں منوں بھیل جمعہ کو سپریم کورٹ میں اپنے مقدمے کی سماعت کے بعد خاصے مایوس نظر آئے۔

منوں بھیل نے جمعہ کو سپریم کورٹ میں اپنے پورے خاندان کی بازیابی کے مقدمے کی سماعت کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’دو بڑے پولیس افسران کے تنازعہ میں میرے بچوں کی بازیابی کا مقدمہ رل گیا ہے۔‘

’میں پورا دن عدالت میں بیٹھا رہا کسی نے میرے کیس کی بات ہی نہیں کی اور دوران سماعت آئی جی سندھ اور سابق ڈی آئی جی میرپور خاص میں اٹھنے والے تنازعہ کا چرچا رہا‘۔

منو بھیل صوبہ سندھ کے ایک کسان ہیں اور ان کے سات اہل خانہ اور ایک مہمان کو اپریل انیس سو اٹھانوے میں ایک زمیندار عبدالرحمٰن مری نے مبینہ طور پر اغوا کرلیا تھا۔

جنوری دو ہزار تین سے حیدرآباد سندھ کے پریس کلب کے باہر فٹ پاتھ پر کھیت مزدور منو بھیل احتجاجی دھرنا دیے بیٹھے ہیں اور وہ اس عرصے میں حکومت، عدالتوں اور انسانی حقوق کے بیشتر فورمز پر بھی گئے لیکن تا حال انہیں انصاف نہیں ملا۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سویڈن کے ایک شہری توبوروگ اساکسن کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے آئی جی سندھ کو منوں بھیل کے اہل خانہ کو بازیاب کرانے کا حکم دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق جب ڈی آئی جی میرپور خاص سلیم اللہ خان نے مغوی خاندان کو برآمد کرانے کے لیے کوشش کی تو انہیں انسپکٹر جنرل سندھ کے حکم پر معطل کرکے گھر میں نظر بند کیا گیا تھا۔

منو بھیل کا کہنا ہے

این جی کی معرفت آزاد کرایا لیکن....
 فروری انیس سو چھیانوے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی معرفت خاندان کو عبد الرحمن مری زمینوں سے اکہتر قید ہاریوں کو رہائی دلوائی۔ 1998 میں اپنے پورے خاندان کو اغوا کر لیا گیا جو ابھی تک غائب ہیں۔
منو بھیل
وہ اور ان کے اہل خانہ زمیندار عبدالرحمٰن کی زمینوں پر ہاری تھے۔ ان کے مطابق متعلقہ زمیندار ان سے جبری مشقت لیتے تھے اور انہیں اپنے کھیتوں میں مبینہ طور پر قید کر رکھا تھا۔

فروری انیس سو چھیانوے میں انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں کی معرفت چھاپہ مروا کر اکہتر قید ہاریوں کو رہائی دلوائی جو بعد میں کیمپوں میں رہنے لگے۔

ان کے مطابق اس رہائی کے دو برس بعد متعلقہ زمیندار نے اپنے مسلح ساتھیوں سمیت ان کے اہل خانہ کو اغوا کرلیا اور تاحال وہ غائب ہیں۔

اغوا ہونے والوں میں منو بھیل کے والد خیرو بھیل، والدہ اخو، بھائی جلال، بیوی موتاں، دو بیٹیوں مومل اور ڈھیلی، دو بیٹوں چمن اور کانجی کے علاوہ ایک مہمان کِرتو بھیل شامل ہیں۔

صوبہ سندھ کےجنوبی علاقوں میں کئی برسوں سے یہ رواج ہے کہ زمیندار اپنے کھیتوں میں کام کرنے والوں کو کم مزدوری دیتے ہیں۔ نتیجے میں کسان ان سے قرضہ لیتے ہیں اور چند برسوں میں وہ قرضہ متعقلہ کسان کے لیے ادا کرنا ناممکن بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں زمیندار کسانوں سے کہتے ہیں کہ وہ قرضہ ادا کرنے تک ان کے کھیتوں میں ہی کام کریں گے۔

زمیندار عبدالرحمٰن کا دعویٰ ہے کہ منو بھیل ان کا مقروض ہے۔ لیکن منو بھیل کہتے ہیں کہ ان کے ذمے قرضے کے بارے میں زمیندار کا دعویٰ غلط ہے۔

بھیل صوبہ سندھ میں ہندوؤں کی ایک نچلی ذات ہے اور اس ذات کے بیشتر لوگ کھیت مزدور ہیں۔

سپریم کورٹ کے نوٹس لیے جانے کے بعد ملزم زمیندار کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے لیکن ان کا دعویٰ ہے کہ منوں بھیل کے اہل خانہ ان کے پاس نہیں۔

منوں بھیل نے بتایا کہ گزشتہ دنوں پولیس نے دو لڑکیوں کی تصاویر انہیں دیں اور کہا کہ یہ ان کی بیٹیاں بازیاب کرالی گئی ہیں اور وہ انہیں لے جائیں۔ان کے مطابق تصاویر کسی اور لڑکیوں کی تھیں اور ڈی آئی جی سلیم اللہ سمیت پولیس اہلکار ان سے زبردستی اقرار کرانا چاہتے تھے کہ وہ انہیں اپنی بیٹیاں قبول کرلی ہیں۔

منو بھیل میرا مقروض ہے
 زمیندار عبدالرحمٰن کا دعویٰ ہے کہ منو بھیل ان کا مقروض ہے۔ لیکن منو بھیل کہتے ہیں کہ ان کے ذمے کوئی قرضہ نہیں۔
زمیندار عبد الرحمن

منوں بھیل نے کہا کہ اب سپریم کورٹ میں مقدمہ ان کا ہے لیکن چرچا آئی جی اور ڈی آئی جی کے تنازعے کا چل نکلا ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سے اپیل کی کہ وہ انہیں انصاف دلائیں۔

جمعہ کو جب جسٹس محمد نواز عباسی اور جسٹس سید سعید اشہد پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے منوں بھیل کے مقدمے کی سماعت شروع کی تو سابق ڈی آئی جی میرپور خاص کی اہلیہ مسز سلیم اللہ خان اور ان کی صاحبزادی مریم سلیم اللہ نے عدالت میں رونا شروع کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں گھرمیں نظر بند کردیا گیا ہے اور ضلعی پولیس افسر نے سامان باہر پھینک دیا ہے، فون ،گیس اور بجلی کاٹ دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلیم اللہ خان سے ایسا ناروا سلوک کیا جارہا ہے جیسے انہوں نے پاکستان کے خلاف کوئی بغاوت کی ہو۔

اس پر ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ جو کچھ ڈی پی او میر پور خاص نے کیا ہے وہ سندھ کی صوبائی حکومت کے حکم پر کیا ہے۔ اس دوران نظر بند ڈی آئی جی کے سٹاف افسر شاہد باجوہ کے وکیل سردار لطیف کھوسہ نے عدالت سے کہا کہ ان کے موکل کو بھی نظر بند کیا گیا ہے اور ان کی زمینوں پر بھی قبضہ کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو تین ہفتوں میں تمام معاملات کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا اور سماعت ملتوی کردی۔

اسی بارے میں
زمیندار فوج
13 July, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد