BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 February, 2007, 15:18 GMT 20:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’خاتون وزیرکوقتل کرکےجہاد کیا ہے‘

ظل ہما لاہور میں میراتھن کرانے میں بھی پیش پیش تھیں
پنجاب کی صوبائی وزیر ظل ہما کو قاتلانہ حملے میں ہلاک کرنے کے ملزم غلام سرور نے عدالت میں اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے یہ قتل کرکے جہاد کیا ہے اور اسے اس بات پر فخر ہے۔

بیس فروری کو قاتلانہ حملہ میں ہلاک ہونے والی چھتیس سالہ صوبائی وزیر پر گولی چلانے کے ملزم مولوی غلام سرور ملزم کو بدھ کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج مجاہد مستقیم احمد کے سامنے پیش کیاگیا۔

ظل ہما کے قتل کا ملزم
 ’میں نے تو جہاد کیا ہے مجھے اس پر فخر ہے۔’

پولیس نے جج سے ملزم کو جسمانی ریمانڈ دینے کی درخواست کی تو جج نے کہا کہ آلہ قتل تو موقع سے مل چکا ہے اور ملزم سے اس کا موقف پوچھا تو اس نے کہا ’یہ تو ساری رات مجھ سے تفتیش کرتے رہے ہیں۔’

ملزم نے جج کے سامنے اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ ’میں نے تو جہاد کیا ہے مجھے اس پر فخر ہے۔’

اس پر جج نے پولیس کو ملزم سے مزید تفتیش کے لیے اس کا سات دنوں کا جسمانی ریمانڈ دے دیا۔ ملزم اب اٹھائیس فروری کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔

دوسری طرف، مقتولہ وزیر کو بدھ کو گوجرانوالہ میں سپرد خاک کردیا گیا۔ وزیراعلی پنجاب پرویز الہی اور گورنر خالد مقبول نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

 پولیس کے مطابق غلام سرور بارہ جنوری دو ہزار تین کو گرفتار ہوا تھا لیکن مدعیوں کے اسے بے گناہ قرار دیئے جانے کے بعد دسمبر دو ہزار پانچ کو رہا ہو گیا تھا۔

پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ ملزم کے ریمانڈ کے دروان پولیس تفتیش مکمل کرلے گی اور جاننے کی کوشش کرے گی اس کا اصل محرک کیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم پانچ سال پہلے بھی لاہور اور گوجرانوالہ چھ ایسی خواتین کو قتل کرنے کے الزام میں گرفتار ہوا تھا جنیں مبینہ طور پر کال گرل بتایا گیاتھا۔

پولیس کے مطابق غلام سرور بارہ جنوری دو ہزار تین کو گرفتار ہوا تھا لیکن مدعیوں کے اسے بے گناہ قرار دیئے جانے کے بعد دسمبر دو ہزار پانچ کو رہا ہو گیا تھا۔

غلام سرور کو اپنے اقدام پر فخر ہے

ملزم غلام سرور کا تعلق اہل حدیث مسلک سے ہے۔ وہ ایک بار حج اور دو بار عمرہ کرچکا ہے۔ اس کے نو بچے ہیں۔

مقتول صوبائی وزیر سنہ دو ہزار دو میں پہلی مرتبہ خواتین کی مخصوص نشستوں پر رکن اسمبلی بنی تھیں۔

حالیہ چند برسوں میں گوجرانوالہ شہر میں مذہبی شدت پسندی کے چند بڑے واقعات ہوئے ہیں۔

اپریل سنہ دو ہزار پانچ میں گوجرانوالہ میں حکومت نے پہلی بار میراتھن منعقد کرائی تو ظل ہما نے اس کے انتظامات میں سرگرمی سے حصہ لیا تھا جبکہ مذہبی جماعتوں نے اس دوڑ کی سخت مخالفت کی تھی۔

گوجرانوالہ سے چھ رکنی مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے قاضی حمیداللہ رکن قومی اسمبلی ہیں۔

مجلس عمل کے سینکڑوں کارکنوں نے اس اسٹیڈیم پر جہاں میراتھن منعقد ہونا تھی شرکاء کو گاڑیوں کی توڑ پھوڑدیا تھا اور ہوائی فائرنگ کی تھی۔

اس واقعہ میں مجلس عمل کے ایم این اے حمیداللہ پولیس کی جوابی کارروائی میں زخمی بھی ہوگئے تھے۔

تقریبا چار سال پہلے اکتیس مئی سنہ د و ہزار تین کو قاضی حمیداللہ کے مدرسے کے طلبا نے شہر میں لگنے والی ایک تفریحی سرکس کو فحاشی کا اڈہ قرار دیتے ہوئے اس پر حملہ کرکے وہاں توڑ پھوڑ کی تھی اور سرکس کو آگ لگا دی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم میں جائے واردات سےگرفتار کیے جانے والے غلام سرور کا کسی مذہبی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں
مظفرآباد: مغوی طالبہ بازیاب
09 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد