مظفرآباد: مغوی طالبہ بازیاب | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے جمعہ کو اغواء ہونے والے یونیورسٹی کی ایک طالبہ کو پولیس نے اسی روز بازیاب کرا لیا ہے۔ مظفر آباد یونیورسٹی میں اقتصادیات کی طالبہ مریم بانڈے کے اغوا کے بعد شہر میں مظاہرے کیے گئے اور کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا تھا۔ مریم بانڈے کو مظفرآباد شہر کے مصروف بازار مدینہ مارکیٹ سے صبح پونے نو بجے کے قریب اس وقت تین افراد نے اغوا کر لیا تھا جب وہ اپنے ایک رشتہ دار نوجوان کے ساتھ گھر سے یونیورسٹی جارہی تھیں۔ مبینہ حملہ آوروں نے مریم بانڈے کو اغواء کرتے ہوئے ان کے عزیز کی آنکھوں میں پسی ہوئی مرچیں پھینک دیں اور انہیں (مریم) زبردستی کار میں ڈال کر موقع سے فرار ہوگئے۔ عینی شاہدین کے مطابق اغوا کاروں کے پاس اسلحہ بھی تھا۔ لڑکی کے اغواء کی خبر شہر میں پھیلتے ہی لوگ سڑکوں پر نکل آئے، دکانیں بند کر دی گئیں اور مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء نے احتجاجی دھرنا دیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مغویہ کو فوری طور پر بازیاب کیا جائے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج بھی کیا جس سے مظاہرے کے کچھ شرکاء کو چوٹیں بھی آئیں۔
شہر میں احتجاج جاری تھا کہ اس دوران ضلع باغ میں پولیس نے اعلان کیا کہ لڑکی کو بازیاب کرا لیا گیا ہے اور اغوا کار کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ لڑکی کی بازیابی کی خبر کے ساتھ ہی شہر میں مظاہرے رک گئے۔ باغ کے ایس پی محمد عارف خان نے بی بی سی سے ٹیلیفون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ باغ شہر سے کوئی دس کلومیڑ کے فاصلے پر ٹریفک پولیس نے معمول کی جانچ پڑتال کے دوران ایک گاڑی میں ایک نوجوان اور ایک لڑکی کو گاڑی میں دیکھا۔ لڑکی پریشان اور سہمی ہوئی تھی، شبہ پر دونوں کو پولیس سٹیشن لے جایا گیا اور تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ سہمی ہو لڑکی مظفر آباد سے اغواء ہونے والی مریم ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مریم کا کہنا تھا کہ اغوا کار کو نہیں جانتیں، تاہم انہوں نے اسے زلزے کے بعد علاقے میں امدادی کام کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ گاڑی میں زبردستی بیٹھانے کے بعد اغوا کار نے انہیں بتایا کہ وہ ایک ماہ سے ان کا تعاقب کر رہا ہے۔
مریم کے والد حیات نہیں ہیں اور وہ اپنی تعلیم جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ ٹیوشنز پڑھا کر گھر کے اخراجات چلاتی ہیں اور دو چھوٹے بھائیوں کے تعلیمی اخراجات پورے کرتی ہیں۔ اغوا کار نے اپنا نام حماد علی بتاتے ہوئے قبول کیا کہ وہ مریم کو جبراً اٹھا کر لے جا رہا تھا، لیکن اس کا دعویٰ تھا کہ کچھ ماہ قبل ان دونوں کا نکاح کا راولپنڈی میں نکاح ہوا تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ مریم نے بعد میں نکاح کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، جس پر اس نے یہ اقدام کیا۔ تاہم پولیس کے سامنے وہ نکاح کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکا۔ مبینہ اغوا کار کا تعلق پاکستان کے شہر لاہور سے ہے اور وہ شہد فروخت کرتا ہے۔ اس نے پولیس کو بتایا کہ مریم کو زبردستی اٹھانے میں مدد دینے والے اپنے دو ساتھیوں کو اس نے راستے میں اتار دیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||