پاکستان: کشمیر انتخابات، پابندیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حقوقِ انسانی کے لیئے کام کرنے والی ایک تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ پاکستان کشمیر میں خودمختاری کے حامیوں کی انتحابات میں شرکت کو یقینی بنائے۔ اسی ماہ 11تاریخ کو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے حقوق انسانی کے لیئے کام کرنے والی تنظیم نے کہا ہے کہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں خودمختاری کے حامیوں کو پُرامن سیاسی سرگرمیوں اور اجتماعات کی آزادی ہونی چاہیئے۔ اس سلسلے میں جاری کیے جانے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ 2001 کے انتخابات میں جب خود مختاری کے حامیوں نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کی تو انہیں خوف و ہراس، اندھا دھندگرفتاریوں، نظربندیوں اور مارکٹائی کا نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان نے 1974 میں اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں جو آئین نافذ کیا تھا اس کے تحت صرف ایسے امیدواروں کو انتحابات میں حصہ لینے کی اجازت ہے جو کشمیر اور پاکستان کے الحاق پر یقین رکھتے ہوں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیئے نہ صرف تمام امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے بلکہ تمام امیدواروں کو الحاقِ پاکستان پر یقین رکھنے کا حلف نامہ بھی داخل کرنا ہوتا ہے۔ جولائی 2006 کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیئے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ(جے کے ایل ایف)، آل پارٹیز نیشنل الائنس (اے پی این اے) اور دوسرے کئی چھوٹے گروہوں کے ساٹھ امیدواروں نے الحاق کے حلف ناموں کے بغیر کاغذات نامزدگی جمع کرائے لیکن انہیں انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ہیومن رائٹس واچ نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اس بار بھی انتخابات میں 2001 کی خلاف ورزیوں کو دہرایا جائے گا۔ بیان میں ان لوگوں کے بیانات بھی شامل کیئے گئے ہیں جنہوں نے 2001 کے انتخابات میں حصہ لینے کی کوشش کی لیکن انہیں اس کی اجازت دینے کی بجائے غیر قانونی ہتھکنڈوں کا نشانہ بنایا گیا۔ جے کے ایک ایف امان اللہ گروپ کے سیکرٹری جنرل سردار محمد صغیر خان کا کہنا ہے کہ ’جب میں ریٹرننگ افسر سے کاغذات نامزدگی مسترد کرنے کے بارے میں یہ کہا کہ میرے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کی جارہی ہے تو ریٹرننگ افسر کے چیمبر میں موجود پولیس والوں نے مجھے گرفتار کر لیا۔ جس پر باہر کھڑے ہماگرے کارکنوں نے احتجاج شروع کر دیا اور پولیس ان پر لاٹھی چارج شروع کر دیا اور اس دوران مجھے ایک وین میں ڈال دیا گیا جو مجھے راولپنڈی کے ایک پولیس سٹیشن لے گئی جہاں مجھے تشدد اور گالم گلوچ کا نشانہ بنایا گیا‘۔ آزاد کشمیر سپریم کورٹ کے وکیل اور اے پی این اے کے سابق سیکرٹری جنرل سردار نسیم اقبال کا کہنا ہے کہ انہوں نے 2001 میں آزاد کشمیر کی اسمبلی کے حلقہ پونچھ سے انتخاب میں حصہ لینے کے لیئے کاغذاتِ نامزدگی داخل کروائے جنہیں انتخابی قوانین کے خلاف قرار دے کر مسترد کر دیا گیا۔ نا کا کہنا ہے کہ ان کے کاغذاتِ نامزدگی سات جون کو مسترد کیئے گئے اور اسی روز انہیں ڈپٹی کمشنر پونچھ نے اپنے دفتر راولاکوٹ بلایا۔ میں اپنے پانچ ساتھیوں کے ساتھ ان کے دفتر گیا۔ ان کے دفتر میں اس وقت ان کی جگہ آئی ایس آئی کا ایک میجر بیٹھا تھا۔ اس نے ہمیں کہا کہ دفتر کے باہر انتظار کرو میں ابھی بلاتا ہوں لیکن جیسے ہی ہم اس کے دفتر سے باہر نکلے تو ہم نے ڈپٹی کمشنر کو دیکھا۔ اس نے ہمیں دیکھتے ہی وہاں موجود سو کے لگ بھگ پولیس والوں کو ہماری گرفتاری کا حکم دے دیا اور پولیس والوں نے ہم پر اندھا دھند ڈنڈے برسانے شروع کر دیئے اور ہمیں گرفتار کر کے لے جایا گیا اور تین دن کے بعد جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ کرنے والے کارکنوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ کے بیان میں ایسے لوگوں کے مزید بیان بھی شامل ہیں جنہیں پاکستان سے الحاق کا حامی نہ ہونے کی بنا پر انتخابات میں حصہ نہیں لینے دیا گیا۔ |
اسی بارے میں ’سرحدوں کے کوئی معنی نہیں‘09 June, 2005 | پاکستان ’ کشمیریوں کی شمولیت ضروری ہے‘02 June, 2005 | پاکستان حریت راہنماؤں کی خصوصی کوریج02 June, 2005 | پاکستان کشمیریوں کے خوابوں کا سفر30 March, 2005 | پاکستان کیا کشمیری پناہ گزین واپس جائیں گے؟28 March, 2005 | پاکستان کمشیر کاحل،مہاجر بھی متفق نہیں 27 March, 2005 | پاکستان ’کشمیر پر پیش رفت ضروری ہے‘23 March, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||