BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 05 January, 2004, 14:48 GMT 19:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کشمیریوں کے بغیر مذاکرات بے معنی‘
کشمیر لڑکا
’کشمیر عوام کو مذاکرات میں شامل کیا جائے‘

بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں علیحدگی پسند تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے کہا ہے کہ کشمیریوں کو شامل کئے بغیر کشمیر کے بارے میں بامقصد مذاکرات ممکن نہیں۔

بی بی سی اردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سارک اجلاس کو ’دل کی عمیق گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں لیکن جموں اور کشمیر کے عوام کو اس سمٹ سے کوئی خاص امید اس لئے وابستہ نہیں ہے کیونکہ اس میں گزشتہ سیشنوں کی طرح بنیادی مسائل پر بات نہیں ہوئی‘۔

خطے میں امن کی کوششوں کے تئیں اپنی ذمہ داری کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے اعلان کرتا ہوں کہ اگر بھارت اعلان کرے کہ کشمیر ایسا حل طلب مسئلہ ہے جو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہونا چاہیے اور اس سلسلے میں کچھ اقدامات کرے‘ تو وہ اپنا موقف تبدیل کردیں گے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق صدر سردار عبدالقیوم نے بی بی سی کو انریو دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن کا دارومدار مسئلہ کشمیر کے حل پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سارک کانفرنس میں کشمیر کو زیر بحث نہ لایا گیا تو ساری کاوش پیسے کا ضیاع ہوگی۔

اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’مجھے ذاتی طور پر توقع ہے کہ اس میں کشمیر کا مسئلہ اور دوسرے مسائل زیر بحث آئیں گے اور کوئی نقشۂ راہ طے ہوگا جس سے کشمیر میں کشیدگی کم ہوگی‘۔

انہوں نے کہا کہ علاقے میں امن کے بغیر آزاد تجارت ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیر میں نہتے لوگوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔

سردار قیوم نے کہا کہ صدر مشرف اور وزیر اعظم واجپئی کے رویوں میں لچک سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے پر کوئی پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں اپنے موقف پر کھڑے رہیں گے تو ’لڑ کر بھی معاملہ طے نہیں ہوگا‘۔

کشمیری عوام کی توقعات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک موقف کی وضاحت کرنا مشکل ہے اور اس کا موجودہ ماحول پر منفی اثر پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ’پانچ، سات، آٹھ حل زیر بحث ہیں‘۔

متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ کمرے میں بیٹھ کر مصنوعی باتوں سے خوشگوار ماحول پیدا کرنا ممکن نہیں۔

سید صلاح الدین کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی قیادت کو کشمیریوں کو بھی مذاکرات میں شامل کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ’جب تک کشمیر پر بھارت کا ناجائز تسلط قائم ہے ہماری مسلح جدوجہد قائم رہے گی اور یہ حق ہمیں اقوام متحدہ کے چارٹر میں دیا گیا ہے‘۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ماحول کمرے میں ٹھیک ہوا ہے کشمیر میں لوگ مر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’ہماری پوزیشن مظلوم کی ہے ، آپ آئیں گے اور ہمارا سر کاٹ دیں گے تو ہم کیا خاموش بیٹھیں گے‘۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد