’سرحدوں کے کوئی معنی نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر کی کل جماعتی حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہونے کی سمت میں جا رہا ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات کے بعد ایسے کئی خدشات دور ہوگئے ہیں۔ میر واعظ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے دیگر کشمیری رہنماؤں کے ہمراہ اسلام آباد سے کراچی پہنچنے پر ہوائی اڈے پر صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔ یہ رہنما پاک فضائیہ کے جہاز میں کراچی پہنچے تھے جہاں ان کا استقبال سندھ کے وزیر اعلٰی ارباب غلام رحیم اور صوبائی وزرا نے کیا۔ کشمیر کے اعتدال پسند رہنماؤں نے پاکستان کے پندرہ روزہ دورے کے دوران پاکستان کی اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کا سلسلہ مکمل کرلیا ہے اور اب وہ اپنے دورے کی غیر رسمی مصروفیات شروع کردی ہیں۔ میر واعظ نے صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قیادت سے مفید بات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’وہ بلتستان وغیرہ نہیں جا سکے ہیں تاہم وہاں کے دوستوں سے رابطہ ہے۔‘ انہوں نے کہا ’حریت کانفرنس کو پاکستان کی کشمیر پالیسی پر اعتماد ہے۔اس ضمن میں پاکستان نے اچھا موقف اختیار کیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ سرحدوں کی کوئی معنی نہیں ہوتیں، جموں اور کشمیر کی سرحدی لکیریں لوگوں کے دلوں پر کھینچی گئی ہیں۔ اس موقع پر کراچی میں آباد کشمیریوں کو مہمانوں سے ملنے نہیں دیاگیا۔ کارکنوں کے ایک گروپ نے یٰسین ملک کو کندھوں پر اٹھایا تو پولس نے ان نوجوانوں کو زدوکوب کیا۔ کشمیری رہنماؤں میں حریت کانفرنس کے میر واعظ عمر فاروق، پرورفیسر عبدالغنی بھٹ، مولوی عباس انصاری، بلال غنی لون، فضل الحق قریشی، جموں کمشیر لبریشن فرنٹ کے یٰسین ملک اور جموں اینڈ کشمیر فریڈم پارٹی کے سیکریٹری جنرل محمد عبداللہ تاری شامل ہیں۔ بعد میں کشمیری رہنماؤں نے مزار قائد پر حاضری دی۔ اور مہمانوں کے رجسٹر میں اپنے تاثرات لکھے۔ حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ نے اپنے تاثرات میں لکھا: ’قائد کو سلام، قائد کی عظمت کو سلام، ان کی تحریک کو سلام، کشمیری عوام کی جانب سے سلام، ہم ان کی تحریک کو جاری رکھیں گے۔‘ جموں اینڈ کشمیر فریڈم پارٹی کے سیکریٹری جنرل محمد عبداللہ تاری نے اپنے تاثرات میں لکھا ہے کہ آج ہم اس مرد مومن کی مزار پر زیارت کرنے آئے ہیں جو پورے برصغیر کے مسلمانوں کے وجود سے ہے۔ عبدالغنی نے لکھا کہ وہ لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں کو اپنے آپ کو قوم کے لئے وقف کردیتے ہیں۔ ہم بھی عہد کرتے ہیں کہ کشمیر کے لئے اپنے آپ کو وقف کردیں گے۔ مزار قائد پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئےجموں کمشیر لبریشن فرنٹ کے یٰسین ملک نے کہا کہ کشمیری پاکستان اور بھارت پر انحصار نہیں کرتے بلکہ اپنے بل بوتے پر تحریک چلارہے ہیں۔ اس تحریک میں انہوں نہ اپنے بچوں کی قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری اگر خود مختاری کا فیصلہ کرتے ہیں تو پاکستان اور بھارت کو اس کے بیچ میں نہیں آنا چاہئیے۔ مزار قائد کے باہر چند کشمیری نوجوانوں نے مظاہرہ بھی کیا۔ یہ نوجوان مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں ان رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||