کشمیری بچے کے لیئےانڈین پاسپورٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈین حکومت نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پیدا ہونے والے بچے کو سفری دستاویزات دینے کی منظوری دے دی ہے۔ اسلام آباد میں قائم بھارتی ہائی کمیشن کے سیکنڈ سیکریٹری بلوندر ھمپال نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے موویز نامی ڈھائی سالہ کشمیری بچے کو سرینگر جانے کی اجازت دے دی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ بھارتی حکومت نے بچے کو پاسپورٹ جاری کرنے کے لیے مطلوبہ تحقیقات سے مستثنٰی قرار دیتے ہوئے ان کی درخواست قبول کرلی ہے۔ واضح رہے کہ ڈھائی سالہ موویز اسحاق کی والدہ بھارتی شہریت رکھتی تھیں جبکہ ان کے والد پاکستانی تھے اور دونوں گزشتہ سال آٹھ اکتوبر کے زلزلے میں ہلاک ہوگئے تھے لیکن موویز اور ان کے پانچ سالہ بھائی سدیس معجزانہ طور پر ملبے سے زندہ نکالے گئے تھے۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے شہر سرینگر سے ستر سالہ بزرگ عبدالاحد اپنے معصوم پوتے موویز کو ساتھ لے جانے کے لیئے گزشتہ تین ماہ سے پاکستان میں موجود ہیں اور وہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں سے کہتے رہے ہیں کہ ان کے پوتے کو سرینگر لے جانے کی اجازت دی جائے۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ڈھائی سال قبل پیدا ہونے والے موویز کو پاکستان نے سفری دستاویز دینے سے انکار کریا تھا لیکن ان کے دادا کو انہیں ساتھ لے جانے کی اجازت دی تھی جس کے بعد عبدا لاحد نے بھارتی ہائی کمیشن میں سفری دستاویزات کی درخواست دی جو اب منظور ہوگئی ہے۔ عبدالاحد سے سفری دستاویزات ملنے پر ان کی رائے جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا لیکن وہ دستیاب نہیں ہو سکے البتہ بچے کے ماموں جمیل رحمٰن نے بھارتی حکومت کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے۔ ڈھائی سالہ موویز اپنے والدین کی ہلاکت کے بعد ماموں کے ہمراہ اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ ان کےماموں جمیل رحمٰن نے کہا کہ اب وہ اپنے بھانجے کو ان کے دادا کے ہمراہ سرینگر روانہ کر دیں گے اور اس میں ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔ | اسی بارے میں کشمیری بچے کی شہریت کا مسئلہ 29 May, 2006 | پاکستان سو پاکستانی، بھارتی شہری بن گئے13 January, 2005 | انڈیا بھارتی خاتون، پاکستانی شہریت25 September, 2004 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||