اجتماعی زیادتی، سندھ میں احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اوباوڑو میں اجتماعی زیادتی کا شکار نسیمہ لبانو کوطبی امداد کی فراہمی کے لیے حقوق نسواں کی تنظیموں نے جمعرات کو دوسرے روز بھی کراچی میں گورنر ہاؤس کے سامنے دہرنا دیا۔ بدھ کو پولیس نے نسیمہ لبانو کو سول جج اوباوڑو اسلام الحق کی عدالت میں پیش کیا تھا جہاں ان کا بیان قلم بند کیا گیا اور ملزماں کی شناخت کرائی گئی۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں ’عورت فاونڈیشن‘ ’وومین ایکشن فورم‘ ’وار اگینسٹ ریپ‘ کی کارکنوں نےگورنر ہاؤس کے باہر صبح دس بجے سے دھرنا دیا اور نعرے لگائے۔ ادھرعدالت میں بیان اور ملزموں کی شناخت کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن صوبائی اسمبلی جام مہتاب ڈہر نسیمہ لبانو اور ان کے خاندان کو اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ جام مہتاب نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ نسیمہ کو طبی امداد اور تحفظ کی فراہمی کے لیے اپنے ساتھ لائے ہیں۔جام مہتاب کا کہنا تھا کہ’ نسیمہ کو ذہنی سکون کی ضرورت ہے اور ان کی جماعت( پیپلز پارٹی) ان کا علاج کروائے گی۔‘ سندھ کے گورنر عشرت العباد نے خواتین کے ایک وفد سے ملاقات کی۔وفد نے گورنر سندھ سے مطالبہ کیا کہ حکومت نسیمہ کا کسی اچھے ہسپتال میں علاج کروائے اور اسے اور اس کے خاندان کو تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ حکومت ثالثی کا کردار ادا کرنے کی بجائے اپنا قانونی اور آئینی کردار ادا کرے۔ خواتین رہنماؤں کا کہنا تھا کہ گورنر نے ان مطالبات پر اس وقت احکامات جاری کیے اور انہیں یقین دہانی کروائی کہ وہ اس معاملے کو ذاتی طور پر دیکھیں گے اور ان سے رابطے میں رہیں گے۔ خواتین رہنماؤں کے مطابق اگر حکومت نے اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیا تو وہ مطمئن ہو جائیں گی ورنہ ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ | اسی بارے میں اجتماعی زیادتی پر عوامی احتجاج31 January, 2007 | پاکستان خطا کاالزام چچا پر اور سزا بھتیجی کو24 September, 2006 | پاکستان ’حدود بل پر پسپائی اختیار نہیں کی‘20 September, 2006 | پاکستان پانچ افراد کو سزائے موت، مدعی منحرف06 July, 2006 | پاکستان پولیس: ملزم بہنوں سے جنسی زیادتی16 June, 2006 | پاکستان ’حکومت کا رویہ بدل گیا ہے‘05 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||