BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 February, 2007, 13:25 GMT 18:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بھری کشتی میں صرف ہندو بھاری‘

 گریش کمار کے والد سسپال داس
مقتول ہندو انجینئر گریش کمار کے والد سسپال داس نے حکومت سے انصاف کا مطالبہ کیاہے اور کہا ہے کہ اقلیتیوں کی سننے والا کوئی نہیں
پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ’حسن سلوک‘ اور برابری پر ملک کے بانی محمد علی جناح کا گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کو قانون ساز اسمبلی سے خطاب اور اب پاکستانی فوج میں ہندو نوجوان کی بھرتی والے شو کیس اپنی جگہ لیکن سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں ہندو اور خاص طور پر سندھی ہندو کو محض اپنی مٹی سے محبت کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔

گزشتہ ہفتے سندھ میں عمرکوٹ ضلع کے کنری سے تعلق رکھنے والے نوجوان انجنئيرگریش کمار کے حیدرآباد سے ’جہادی دہشتگردوں‘ کے ہاتھوں اپنے ہی گھر سے اغوا پھر آٹھ ماہ تک گمشدگی اور اب اس کی مبینہ طور کوٹری کے ایک مدرسے کے احاطے میں دبی جلی ہوئی لاش کے ٹکڑوں کی پولیس کے ہاتھوں برآمدگی پر بس ساحر لدھیانوی کی پرچھائیوں کا شعر یاد آگیا :

بہت دنوں سے ہے یہ مشغلہ سیاست کا
کہ جب جوان ہوں بچے تو قتل ہوجائیں

لیکن پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر تبصرہ مقتول گریش کمار کے والد سسپال داس سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا کہ ’اقلیتوں کی کوئی سننتا ہی نہیں۔‘

حقیقت تو یہ ہے کہ سندھ میں ہندو دنیا میں ’دہشتگرد، دہشتگردی، جہادی، یا ایجینسیاں‘ جیسے الفاظ کے متعارف اور مشہور ہونے سے بھی پہلے ان کے ہاتھوں شکار ہوتے آ رہے ہیں۔

وہ پاکستان میں ریاستی اور غیر ریاستی ظلم سہتی ایک اور خاموش اکثریت ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ سیالکوٹ میں رہنے والے ہندو کس حال میں ہیں۔

ہندؤں کا حال
اکثر سندھ کے پرامن، نہتّے، کاروباری اور اشراف، قانون پسند، صوفی مزاج، بقول سندھی کہاوت ’خرگوش کی کھال‘ رکھنے والے ہندؤں کے خلاف یکطرفہ ’جہاد فی سبیل اللہ‘ کی ریت بہت پرانی ہے۔ کبھی یہ قیام پاکستان کے نام پر تو کھبی اسکے دفاع کے نام پر، دین کی دعوت عام کے نام پر، کبھی بابری مسجد کے نام پر، تو کبھی فوج کے ہاتھوں تو کھبی ڈاکو کے ہاتھوں۔ سندھی میں کہاوت ہے ’بھری کشتی میں بس صرف ہندو بھاری‘

صرف سندھ کے عمرکوٹ ضلع سے گریش کمار سمیت یکے بعد دیگرے مختلف حالات میں تین ہندو شہری اغوا کر کے غائب کردیےگئے۔

عمر کوٹ میں چیتن کمار بجیر کوگھر سے اٹھایا گیا، گوردھن عرف جی ایم بھاگت کو نائی کی دکان سے سرکاری نمبر پلیٹ والی ڈبل کیبن گاڑیاں اٹھا کر لے گئيں جبکہ گریش کمار کو حیدرآباد سے انکے فلیٹ سے اغوا کرنے والوں کا سرغنہ ’پولیس کی وردی‘ پہنے ہوئے تھا۔

اب یہ کہنا نہ زیادہ مشکل ہے نہ اتنا آسان کہ ان کو جہادیوں نے اغواء کیا، یا ریاستی ایجینسیوں نے یا ان جہادیوں نے جن کو ایجینسیوں کی سرپرستی حاصل تھی یا اب بھی ہے؟

لیکن اکثر سندھ کے پرامن، نہتّے، کاروباری اور اشراف، قانون پسند، صوفی مزاج، بقول سندھی کہاوت ’خرگوش کی کھال‘ رکھنے والے ہندؤں کے خلاف یکطرفہ ’جہاد فی سبیل اللہ‘ کی ریت بہت پرانی ہے۔ کبھی یہ قیام پاکستان کے نام پر تو کھبی اسکے دفاع کے نام پر، دین کی دعوت عام کے نام پر، کبھی بابری مسجد کے نام پر، تو کبھی فوج کے ہاتھوں تو کبھی ڈاکوؤں کے ہاتھوں۔ سندھی میں کہاوت ہے ’بھری کشتی میں بس صرف ہندو بھاری‘۔

سندھی ہندو تو زمانوں سے اپنی ہی جنم بھومی میں جلاوطنی کی زندگي گزار رہا ہے۔ حیدرآباد کی مشہور بامبے بیکری کے کیک سے شاید آپکی حب الوطنی مشکوک ہوجائے تو شاہین بیکری کا کیک کھائیں۔

عمرکوٹ کے معزز و سینئر شہری ہندو ڈاکٹر کو سن انیس سو پینسٹھ کی بھارت- پاکستان جنگ میں گرفتار کرکے شہر میں گشت کروایا گیا تھا۔ انیس سو اسی میں عمرکوٹ کے مندر میں قتل ہونے والے افراد کے قاتل آج تک نہیں پکڑے گئے۔ یہ صرف سندھ کے ایک ضلع میں پاکستان کے ہندو شہریوں کے ساتھ
ہونے والی کارروائیاں ہیں۔

گزشتہ برس مارچ میں ہندو یاتریوں کی بسوں پر میرپور ماتھیلو میں حیات پتافی گاؤں کے قریب فائرنگ میں دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔

کراچی سے کشمور تک مبینہ طور پر ہندو لڑکیوں کو اغواء کرکے یا ڈرا دھمکا کر، بہلا پھسلا کر انہیں زبردستی دائرہ اسلام میں داخل کرنے کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔ پھر وہ اسلام کوٹ کی دیپا ہو جیکب آباد کی سونیا یا کراچی کی ریما آشا یا اوشا۔

وہ ہندو جنہوں نے ہندوستان کے بٹوارے میں بھی پاکستان کو ترجیح دے کر سندھ میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا وہ بھی اغواء کی ورداتوں اور زبردستی تبدیلیِ مذہب سے تنگ ہوکر خاموشی سے بھارت نقل مکانی کرگئے۔

شمالی سندھ میں نوجوان ہندو لڑکیوں کو ریپ کر کے انکے ننگے فوٹو اتار کر انہیں اور ان کے گھر والوں کو بلیک میل کرنے کا سسلہ کئي سالوں سے جاری ہے۔ ایجینسیوں کی مبینہ دھونس اور بلیک میلنگ اس کے علاوہ ہے جس سے بھی ایک اچھی خاصی تعداد بھارت نقل وطنی کر گئی ہے۔

اغواء کرنے والے کون
عمر کوٹ میں چیتن کمار بجیر کوگھر سے اٹھایا گیا، گوردھن عرف جی ایم بھاگت کو باربر کی دکان سے سرکاری نمبر پلیٹ والی ڈبل کیبن گاڑیاں اٹھاکر گئيں جبکہ گریش کمار کو حیدرآباد سے انکے فلیٹ سے اغوا کرنے والوں کا سرغنہ ’پولیس کی وردی‘ پہنے ہوئے تھا۔اب یہ کہنا نہ زیادہ مشکل ہے نہ اتنا آسان کہ ان کو جہادیوں نے اغوا کیا، یا ریاستی ایجینسیوں نے یا ان جہادیوں نے جن کو ایجینسیوں کی سرپرستی حاصل تھی یا اب بھی ہے؟

نام نہاد نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے محنت کش، خانہ بدوش ہندو مرد عورتیں اور بچے جن کی ایک بڑی تعداد سندھ میں زمینداروں کی زمینوں پر خانگي جیل میں قید تھی یا جبری مشقت کرنے پر مجبور تھی، کہا جاتا ہے کہ
ان میں سے بھی اچھے خاصے لوگ بھارت چلے گئے ہیں اور ان میں سے کئی احمد آباد گجرات میں چمڑے کے کارخانیداروں کے ہاتھوں وہی استحصال سہہ رہے ہیں۔

جبری مشقت کے لیے خانگي جیل چلانے والے زمیندار کے ہاتھوں کسان منو بھیل کے گھر والے گزشتہ دس سالوں سے غائـب ہیں۔

’ناقابل تسخیر نیوکلیائی‘ طاقت کو خطرہ نائی کی دکان پر داڑھی منڈواتے سیاسی اور سماجی کارکن جی ایم بھاگت سے تھا۔

اور اب جو یہ نوجوان انجنئير گریش کمار کے مبینہ قاتلوں نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ انکے سرغنہ نے کہا تھا ’ہندو کو قتل کرنا جہاد ہے‘ اور صوبے میں انکی تنظیم حرکت المجاہدین کا مشن انکو ٹارگٹ بنانا ہے، یہ کوئي نئي بات نہیں بلکہ ریاستی یا غیر ریاستی عسکری ادارے ہوں کہ تنظیمیں یا ڈاکوؤں کے ٹولے، کئي دنوں سے ہندؤں کو نشانہ بناتے پاک سرزمین کو مزید پاک بنانے کے مشن میں مصروف ہیں۔

کئي سال قبل میں نے اپنے ایک ہندو دوست سے پوچھا تھا کہ کیا تم بھی سندھ چھوڑ کر جاؤگے تو اس نے کہا تھا ’اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو میں مسلمان بن کر بھی سندھ میں جینے اور مرنے کو ترجیح دوں گا‘۔

جیکب آباد کے سدھامچند چاولہ کو اس لیے قتل کردیا گیا کہ وہ اقلیتوں کے لیے جداگانہ طرز انتخابات کے خاتمے کے لیے زبردست مہم چلا رہے تھے۔ وڈیروں اور سرداروں نے سمجھا کہ مخلوط طرز انتخابات میں تو سدھامچند جیت کر آسکتے ہیں اسی لیے انہوں نے انہیں اپنی راہ سے ہٹادیا۔ سدھامچند کی فیملی بھی بھارت نقل وطنی کر کے گئی۔

جیو ٹی وی کے نمائندے مکیش روپیتا اور کیمرا مین سنجے کمار کی کئی دنوں تک گمشدگی کی تو ان کے اپنے ادارے نے بھی رپورٹ نہیں کی۔

دہشت گردی’پامال انسانی حقوق‘
پاکستان کو دی جانے والی امداد روکنے کا مشورہ
بھٹوبغدادی انصاف و بھٹو
حکمرانوں کے عدالتی قتل پر حسن مجتبی کا کالم
صدر مشرفخط جنرل اور تار
صدر مشرف کے لیئے یہ خط نہیں ’تار‘ ہے
ممبئیپاکستان کا نام
پاکستان کا نام کیوں آتا ہے؟ حسن مجتبٰی کا کالم
نیپالنیپال اور پاکستان
’پاکستانیوں کے دل بھی ضرور دھڑکتے ہونگے‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد