’بھری کشتی میں صرف ہندو بھاری‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ’حسن سلوک‘ اور برابری پر ملک کے بانی محمد علی جناح کا گیارہ اگست انیس سو سینتالیس کو قانون ساز اسمبلی سے خطاب اور اب پاکستانی فوج میں ہندو نوجوان کی بھرتی والے شو کیس اپنی جگہ لیکن سچ تو یہ ہے کہ پاکستان میں ہندو اور خاص طور پر سندھی ہندو کو محض اپنی مٹی سے محبت کی بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔ گزشتہ ہفتے سندھ میں عمرکوٹ ضلع کے کنری سے تعلق رکھنے والے نوجوان انجنئيرگریش کمار کے حیدرآباد سے ’جہادی دہشتگردوں‘ کے ہاتھوں اپنے ہی گھر سے اغوا پھر آٹھ ماہ تک گمشدگی اور اب اس کی مبینہ طور کوٹری کے ایک مدرسے کے احاطے میں دبی جلی ہوئی لاش کے ٹکڑوں کی پولیس کے ہاتھوں برآمدگی پر بس ساحر لدھیانوی کی پرچھائیوں کا شعر یاد آگیا : بہت دنوں سے ہے یہ مشغلہ سیاست کا لیکن پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر تبصرہ مقتول گریش کمار کے والد سسپال داس سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا کہ ’اقلیتوں کی کوئی سننتا ہی نہیں۔‘ حقیقت تو یہ ہے کہ سندھ میں ہندو دنیا میں ’دہشتگرد، دہشتگردی، جہادی، یا ایجینسیاں‘ جیسے الفاظ کے متعارف اور مشہور ہونے سے بھی پہلے ان کے ہاتھوں شکار ہوتے آ رہے ہیں۔ وہ پاکستان میں ریاستی اور غیر ریاستی ظلم سہتی ایک اور خاموش اکثریت ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ سیالکوٹ میں رہنے والے ہندو کس حال میں ہیں۔
صرف سندھ کے عمرکوٹ ضلع سے گریش کمار سمیت یکے بعد دیگرے مختلف حالات میں تین ہندو شہری اغوا کر کے غائب کردیےگئے۔ عمر کوٹ میں چیتن کمار بجیر کوگھر سے اٹھایا گیا، گوردھن عرف جی ایم بھاگت کو نائی کی دکان سے سرکاری نمبر پلیٹ والی ڈبل کیبن گاڑیاں اٹھا کر لے گئيں جبکہ گریش کمار کو حیدرآباد سے انکے فلیٹ سے اغوا کرنے والوں کا سرغنہ ’پولیس کی وردی‘ پہنے ہوئے تھا۔ اب یہ کہنا نہ زیادہ مشکل ہے نہ اتنا آسان کہ ان کو جہادیوں نے اغواء کیا، یا ریاستی ایجینسیوں نے یا ان جہادیوں نے جن کو ایجینسیوں کی سرپرستی حاصل تھی یا اب بھی ہے؟ لیکن اکثر سندھ کے پرامن، نہتّے، کاروباری اور اشراف، قانون پسند، صوفی مزاج، بقول سندھی کہاوت ’خرگوش کی کھال‘ رکھنے والے ہندؤں کے خلاف یکطرفہ ’جہاد فی سبیل اللہ‘ کی ریت بہت پرانی ہے۔ کبھی یہ قیام پاکستان کے نام پر تو کھبی اسکے دفاع کے نام پر، دین کی دعوت عام کے نام پر، کبھی بابری مسجد کے نام پر، تو کبھی فوج کے ہاتھوں تو کبھی ڈاکوؤں کے ہاتھوں۔ سندھی میں کہاوت ہے ’بھری کشتی میں بس صرف ہندو بھاری‘۔ سندھی ہندو تو زمانوں سے اپنی ہی جنم بھومی میں جلاوطنی کی زندگي گزار رہا ہے۔ حیدرآباد کی مشہور بامبے بیکری کے کیک سے شاید آپکی حب الوطنی مشکوک ہوجائے تو شاہین بیکری کا کیک کھائیں۔ عمرکوٹ کے معزز و سینئر شہری ہندو ڈاکٹر کو سن انیس سو پینسٹھ کی بھارت- پاکستان جنگ میں گرفتار کرکے شہر میں گشت کروایا گیا تھا۔ انیس سو اسی میں عمرکوٹ کے مندر میں قتل ہونے والے افراد کے قاتل آج تک نہیں پکڑے گئے۔ یہ صرف سندھ کے ایک ضلع میں پاکستان کے ہندو شہریوں کے ساتھ گزشتہ برس مارچ میں ہندو یاتریوں کی بسوں پر میرپور ماتھیلو میں حیات پتافی گاؤں کے قریب فائرنگ میں دو افراد ہلاک اور سات زخمی ہوئے۔ کراچی سے کشمور تک مبینہ طور پر ہندو لڑکیوں کو اغواء کرکے یا ڈرا دھمکا کر، بہلا پھسلا کر انہیں زبردستی دائرہ اسلام میں داخل کرنے کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔ پھر وہ اسلام کوٹ کی دیپا ہو جیکب آباد کی سونیا یا کراچی کی ریما آشا یا اوشا۔ وہ ہندو جنہوں نے ہندوستان کے بٹوارے میں بھی پاکستان کو ترجیح دے کر سندھ میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا وہ بھی اغواء کی ورداتوں اور زبردستی تبدیلیِ مذہب سے تنگ ہوکر خاموشی سے بھارت نقل مکانی کرگئے۔ شمالی سندھ میں نوجوان ہندو لڑکیوں کو ریپ کر کے انکے ننگے فوٹو اتار کر انہیں اور ان کے گھر والوں کو بلیک میل کرنے کا سسلہ کئي سالوں سے جاری ہے۔ ایجینسیوں کی مبینہ دھونس اور بلیک میلنگ اس کے علاوہ ہے جس سے بھی ایک اچھی خاصی تعداد بھارت نقل وطنی کر گئی ہے۔
نام نہاد نچلی ذاتوں سے تعلق رکھنے والے محنت کش، خانہ بدوش ہندو مرد عورتیں اور بچے جن کی ایک بڑی تعداد سندھ میں زمینداروں کی زمینوں پر خانگي جیل میں قید تھی یا جبری مشقت کرنے پر مجبور تھی، کہا جاتا ہے کہ جبری مشقت کے لیے خانگي جیل چلانے والے زمیندار کے ہاتھوں کسان منو بھیل کے گھر والے گزشتہ دس سالوں سے غائـب ہیں۔ ’ناقابل تسخیر نیوکلیائی‘ طاقت کو خطرہ نائی کی دکان پر داڑھی منڈواتے سیاسی اور سماجی کارکن جی ایم بھاگت سے تھا۔ اور اب جو یہ نوجوان انجنئير گریش کمار کے مبینہ قاتلوں نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ انکے سرغنہ نے کہا تھا ’ہندو کو قتل کرنا جہاد ہے‘ اور صوبے میں انکی تنظیم حرکت المجاہدین کا مشن انکو ٹارگٹ بنانا ہے، یہ کوئي نئي بات نہیں بلکہ ریاستی یا غیر ریاستی عسکری ادارے ہوں کہ تنظیمیں یا ڈاکوؤں کے ٹولے، کئي دنوں سے ہندؤں کو نشانہ بناتے پاک سرزمین کو مزید پاک بنانے کے مشن میں مصروف ہیں۔ کئي سال قبل میں نے اپنے ایک ہندو دوست سے پوچھا تھا کہ کیا تم بھی سندھ چھوڑ کر جاؤگے تو اس نے کہا تھا ’اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو میں مسلمان بن کر بھی سندھ میں جینے اور مرنے کو ترجیح دوں گا‘۔ جیکب آباد کے سدھامچند چاولہ کو اس لیے قتل کردیا گیا کہ وہ اقلیتوں کے لیے جداگانہ طرز انتخابات کے خاتمے کے لیے زبردست مہم چلا رہے تھے۔ وڈیروں اور سرداروں نے سمجھا کہ مخلوط طرز انتخابات میں تو سدھامچند جیت کر آسکتے ہیں اسی لیے انہوں نے انہیں اپنی راہ سے ہٹادیا۔ سدھامچند کی فیملی بھی بھارت نقل وطنی کر کے گئی۔ جیو ٹی وی کے نمائندے مکیش روپیتا اور کیمرا مین سنجے کمار کی کئی دنوں تک گمشدگی کی تو ان کے اپنے ادارے نے بھی رپورٹ نہیں کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||