BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 February, 2007, 19:35 GMT 00:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بے دین‘ ہرسی علی کی خودنوشت

 ہرسی علی
کتاب میں جو کچھ میں نے بیان کیا ہے وہ اس لیے نہیں کیا کہ والدین کو شرمندہ یا بے عزت کیا جائے
ایان ہرسی علی کی خود نوشت ’بے دین‘ کے نام سے شائع ہوئی ہے۔ یہ نام ان کی خود نوشت کےلیے مناسب ترین ہے کیونکہ شاید وہ اس وقت دنیا کی مشہور ترین دہریہ ہیں۔ وہ ہالینڈ پارلیمنٹ کی سابق رکن ہیں لیکن انہیں عالمی شہرت 2004 میں اس وقت حاصل ہوئی جب فلم ڈائریکٹر تھیو وان گوف کو ایک شدت پسند مسلمان نے ایک ایسی فلم بنانے پر قتل کر دیا جس میں اسلام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ہرسی علی اس فلم کی تیاری میں وان گوف کی شریک تھیں۔

وہ صومالیہ میں پیدا ہوئی تھیں اور اسلام پر بے باکانہ تنقید کی وجہ سے مسلسل خطرے میں رہتی ہیں۔ دوسری بار وہ خبروں میں اس وقت آئیں جب انہیں ہالینڈ کی شہریت سے محروم کیا گیا اور انہیں ولندیزی پارلیمنٹ کی رکنیت سے استعفیٰ دینا پڑا۔ صومالیہ، سعودی عرب، ایتھوپیا اور کینیا کے متشدد ، کڑے اور تکلیف دہ ماحول میں پرورش کے بعد انہوں نے والد کی طرف سے برادری میں طے کی جانے والی شادی سے بچنے کے لیے ہالینڈ میں پناہ حاصل کرنے کے لیے جھوٹی درخواست کی تھی اور پناہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔

جسم کا نازک حصہ یا فاضل چربی
 وہ اپنے بچپن کے بارے میں دہلا دینے والی تفصیلات بیان کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح ان کے نازک حصے کا کچھ گوشت ایک قینچی سے کاٹ کر الگ کیاگیا۔ ایسے جیسے قصائی گوشت کے کسی ٹکرے سے فاضل چربی کو بے رحمی سے الگ کرتا ہے۔

لندن میں اپنے پبلشر کے دفتر میں ہونے والی ملاقات کے دوران اس 37 سالہ نفیس و متحمل خاتون کا کہنا تھا کہ ’میری زندگی کا سب سے خوش گوار اور نا قابلِ فراموش لمحہ وہ تھا جب میں ہالینڈ کی حکومت سے اپنے شناختی کارڈ پر وہ تصویر لگوانے گئی جس کے تحت پناہ گزینوں کے کیمپ میں میری موجودگی کی تصدیق کی جاتی تھی اور ایک ہفتے بعد پھر آنے کے لیے کہا جانا تھا لیکن اگلے ہفتے بلائے جانے کے بر خلاف انہوں نے مجھے رہائشی پرمٹ دے دیا جس کا مطلب تھا کہ اب میں ہمیشہ کے لیے ہالینڈ میں رہ سکتی تھی۔ میں اُس دن کو کبھی نہیں بُھلا سکوں گی کیوں کے اس دن مجھے اس معاشرے میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ تم اب ہم سے ہو اور تمہیں وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو دوسرے ولندیزی شہریوں کو حاصل ہیں‘۔

وہ 1992 کے اس دن کے بارے میں بے یقینی سے لکھتی ہیں ’اچانک، میں اِس ملک میں رہ سکنے والی بن گئی تھی، ان تمام اچھے لوگوں کے ساتھ۔ یہ بات ایک خواب کے مانند تھی‘۔ لیکن گزشتہ سال ہالینڈ کے وزیر برائے تارکینِ وطن و نسلی انضمام ان کی شہریت کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کر دیا کیونکہ انہوں نے پناہ کی درخواست دیتے ہوئے جھوٹ بولا تھا۔ جس پر لوگوں نے ہرسی علی کی حمایت میں بہت واویلا کیا۔

اس بارے میں بھی وہ صاف صاف کہتی ہیں کہ اگر خود انہیں بھی ایسی کسی درخواست پر فیصلہ کرنا پڑتا جس میں جھوٹ بولا گیا ہوتا تو وہ کبھی اس کی اجازت نہ دیتیں۔ وہ اعتراف کرتی ہیں کہ انہوں نے درخواست میں یہ کہا تھا کہ وہ براہِ راست صومالیہ سے آ رہی ہیں اور یہ بات جھوٹ تھی۔ لیکن اس ساتھ ہی وہ یہ دلیل بھی دیتی ہیں کہ جب ان کی پارٹی نے انہیں پارلیمنٹ کا الیکشن لڑنے کے لیے کہا تو انہوں نے انہیں بتا دیا تھا کہ انہوں نے پناہ لینے کے لیے دروغ گوئی سے کام لیا تھا اور اس کے باوجود انہیں الیکشن لڑنے کے لیے کہا گیا۔

ہرسی علی
’میں نے بتا دیا تھا کہ میں نے پناہ لینے کے لیے دروغ گوئی سے کام لیا تھا، اس کے باوجود انہیں الیکشن لڑنے کے لیے کہا گیا

وہ بتاتی ہیں کہ انہیں بچوں کے ساتھ روا رکھی جانے والی زیادتی abuse سے گزرنا پڑا لیکن وہ اصرار کرتی ہیں کہ اس زیادتی کو یورپی پس منظر میں نہ دیکھا جائے کیونکہ افریقہ میں بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی کچھ اور ہوتی ہے۔ بچوں کو گھروں ہی میں نہیں سکولوں میں بھی مارا پیٹا جاتا ہے اور یہ پٹائی بھی یہاں والی پٹائی نہیں ہوتی ہے افریقہ والی ہوتی ہے جو بچوں کو سخت بناتی ہے اور جھوٹ بولنا سکھاتی ہے لیکن اُسے اچھی تعلیم اور تربیت کا لازمی حصہ خیال کیا جاتا ہے۔

وہ اپنے بچپن کے بارے میں دہلا دینے والی تفصیلات بیان کرتی ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح ان کے نازک حصے کا کچھ گوشت ایک قینچی سے کاٹ کر الگ کیاگیا۔ ایسے جیسے قصائی گوشت کے کسی ٹکرے سے فاضل چربی کو بے رحمی سے الگ کرتا ہے۔

اس کے باوجود ان کا کہنا ہے کہ وہ خوش نصیب تھیں کیوں کہ میری ایک ماں تھی، ایک گھر تھا جس میں کھانا بھی ہوتا تھا اور جو تحفظ دے سکتا تھا۔ جب ہم سکول جاتے تھے تو کچرے کے پہاڑ جیسے ایک ڈھیر کے قریب سے گزرتے تھے۔بچے اس ڈھیر پر بھی رہتے تھے، ہمیں جیسے، ہماری ہی عمروں کے اور ہم سے جھوٹے بھی۔ ’اسی لیے میں کہتی ہوں افریقہ ایک الگ حقیقت ہے اس کا ایک الگ تناظر ہے‘۔

ان کے والد ہرسی مگان عیسیٰ صومالی انقلاب کی ایک سرکردہ شخصیت ہیں لیکن جب سے ہرسی علی نے اسلام کو ماننے سے سرِ عام انکار کیا ہے انہوں نے بھی ان سے لاتعلقی اختیار کر لی ہے۔ اس خود نوشت میں ان کے والد کا ایک خط بھی شامل ہے جو انتہایی قربت کا اظہار کرتا ہے۔ اس خط میں ان کے والد نے انہیں ’پیاری عیار لومڑی‘ کے نام سے مخاطب کیا ہے۔ تو کیا انہیں اس بات کا خیال بھی نہیں آیا کہ ’بے دین‘ میں وہ جو انکشافات کرنے جا رہی ہیں وہ ان کے اور ان کے خاندان کے درمیان موجود کشیدگی کو اور گہرا کر دیں گے۔

ہرسی علی بتاتی ہیں کہ ’میں نے ان سب باتوں کے بارے میں کتاب لکھنے سے پہلے سوچا اور میں اپنی والدہ اور والد سے صرف اتنا کہنا چاہوں گی کہ میں نے اس کتاب کا انتساب ان کے نام کیا ہے۔ اور اس میں جو کچھ میں نے بیان کیا ہے وہ اس لیے نہیں کیا کہ انہیں شرمندہ یا بے عزت کیا جائے بلکہ اس لیے لکھا ہے کہ اپنی زندگی کی کہانی ان لوگوں سے بانٹ سکوں جن کی کہانیاں مجھ سے ملتی جلتی ہیں تاکہ شاید ہم مل جُل کر سوچ سکیں اور حالات کو آئندہ نسلوں کے لیے تبدیل اور بہتر بنا سکیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’میں ایک بات جانتی ہوں کہ جس معاشرے سے میں آئی ہوں اس میں خاندان اور برادری کی باتوں کو اس طرح منکشف نہیں کیا جاتا جیسے میں نے کیا ہے۔ لیکن میں وہاں رہی ہوں اور اب میں یہاں ہوں اور میں نے حالات کو بیان کیا ہے‘۔

اسلام پر ان کے اعتراضات کا محور عورتوں سے زیادتی ہے اور ان کی دلیل ہے کہ یہ پابندیاں قرآن لگاتا ہے۔ ان کی پہلی کتاب کیجڈ ورجنز (Caged Virgins) نے

گھر والوں کی کمی محسوس ہوتی ہے
 ہرسی علی کہتی ہیں کہ ’میں اپنے گھر والوں کی کمی محسوس کرتی ہوں اور صومالیہ کی اور کہانیوں کی اور گرمی کی اور اس تعلق کی کو جو آپ کو یوں ہی مل جاتا ہے۔ بلا شبہ میں ان سب کی کمی محسوس کرتی ہوں لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ویسے ویسے تنہائی اور کٹ جانے کا احساس کم سے کم تر ہوتا جا رہا‘
انہیں خود صومالیوں بھی ناقبول بنا دیا تھا۔ وہ دو ٹوک انداز میں بتاتی ہیں شہریت ختم کیے جانے کا مسئلہ پیدا ہونے کے بعد انہوں نے اپنی برادری کے کچھ لوگوں سے رابطہ کیا تھا جس پر ان لوگوں نے ان سے انتہائی ہمدردی کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ جس طرح وہ اسلام پر تنقید کرتی ہیں اس سے وہ بالکل متفق نہیں ہیں۔

ہرسی علی کہتی ہیں کہ ’میں اپنے گھر والوں کی کمی محسوس کرتی ہوں اور صومالیہ کی اور کہانیوں کی اور گرمی کی اور اس تعلق کی کو جو آپ کو یوں ہی مل جاتا ہے۔ بلا شبہ میں ان سب کی کمی محسوس کرتی ہوں لیکن جیسے جیسے وقت گزر رہا ویسے ویسے تنہائی اور کٹ جانے کا احساس کم سے کم تر ہوتا جا رہا‘۔

واشنگٹن پوسٹ نے ’بے دین‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’کتنی عورتیں ہوں گی جنہیں ہرسی علی کی طرح انقلابی اسلام کا تجربہ ہوا ہو گا؟ اور ان میں سے کتنی ہوں گی جو اپنی اپنی کہانیاں بیان کریں گی اور ان میں سے بھی کتنی ہوں گی جو اتنے واضع انداز اور شعور کے ساتھ انہیں بیان کر سکیں گی؟ اس لیے ’بے دین‘ ایک منفرد کتاب ہے اور ایان ہرسی علی ایک منفرد مصنف اور دونوں بہت آگے تک جانے کے لائق ہیں‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد