ہالینڈ پارلیمنٹ سے ہرسی علی مستعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’قدامت پسند اسلام‘ کی شدید مخالفت کی وجہ جانی جانے والی صومالیہ نژاد رکن پارلیمان ہرسی علی نے ہالینڈ کی پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے مستعفی ہونے کا اعلان اس اعتراف کے ساتھ کیا ہے کہ انہوں نے ہالینڈ میں پناہ حاصل کرنے کے لیے دی جانے والی درخواست میں غلط بیانی سےکام لیا تھا۔ وہ خود کو منحرف مسلمان کہتی ہیں اور اسلام میں عورتیں کے مرتبےاور ہم جنس پرستی کو برداشت نہ کیے جانے پر کڑی تنقید کرتی رہی ہیں۔ عیان ہرسی علی کو انیس سو بانوے میں ہالینڈ میں پناہ گزیں کا درجہ دیا گیا تھا، اور وہ سن دو ہزار چار میں اس وقت خبروں میں آئی تھیں جب ان کے فلم ساز دوست تھیو وین گوف کو ایک شدت پسند مسلمان نے قتل کر دیا تھا۔ قتل کا اقدام کرنے والے اس شخص کا کہنا تھا کہ اس نے وین گوف نے کو اس لیے قتل کیا ہے کہ انہوں نے مسلمان خواتین کی حالت زار پر جو فلم بنائی تھی، اس سے مسلمانوں کیلیے مقدس ترین کتاب قرآن کی بے حرمتی ہوتی تھی۔ اس فلم کا سکرپٹ ہرسی علی نے لکھا تھا۔ ہرسی علی استعفے کے سلسلے میں دیے گئے بیان میں کہا ہے: ’میں، عیان بنت ہرسی، خاندانی نام مگان، آج میں پارلیمان کی رکنیت سے استعفیٰ دی رہی ہوں، میں ہالینڈ بھی چھوڑ رہی ہوں، کچھ غم اور کچھ راحت کے احساس کے ساتھ میں اپنا سامان باندھوں گی اور چل دوں گی۔ زندگی کا سفر جاری رکھنے میں مدد دینے کے لیے۔ شکریہ‘۔
وین گوف کے قتل کے بعد ہرسی علی کو بھی جان سےمارنے کی دھمکیاں ملتی رہیں جس کے بعد سے وہ پولیس کے سخت پہرے میں زندگی گزار رہی تھیں۔ ہالینڈ کی وزارتِ داخلہ نے ان کی شہریت غلط بیانی کی بنا ختم کر دی ہے۔ انہوں نے اپنے استعفے کے بارے میں مزید کہا ہے کہ ’شہریت ختم کیے جانے سے قبل ہی مجھے احساس ہونےلگا تھا کہ مجھے آنے جانے کی مکمل آزادی حاصل نہیں، اور میں رکن پارلیمان کی حیثیت سے اپنے فرائض ٹھیک سے انجام نہیں دے پا رہی تھی۔ اب شہریت ختم کیے جانے کےبعد میں قانونی چارہ جوئی میں الجھ جاتی اور ان مسائل پر توجہ دینے کے لیے میرے پاس وقت نہیں بچتا جو مجھے عزیز ہیں، لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ بہتر یہی ہوگا کہ پارلیمان اور عوام پر اپنے ذاتی مسائل نہ تھوپوں‘۔ ہرسی علی پر مستعفی ہونے کےلیے دباؤ اس وقت بڑھا جب گزشتہ ہفتے ایک ٹی وی چینل نے خبر دی کہ انہوں نے پناہ کے لیے اپنی درخواست کئی باتیں جھوٹی لکھی تھیں۔ اس کے علاوہ ان کے پڑوسیوں کی اس شکایت پر کہ علاقے میں ان کی رہائش باقی لوگوں کے لیے خطرے کا سبب بن سکتی ہے، ایک عدالت نے انہیں گھر چھوڑنے کا بھی حکم دے دیا تھا۔ ڈچ اخبارات کے مطابق اب وہ واشنگٹن میں کنزرویٹو نظریات کے لیے کام کرنے والی ایک تھنک ٹینک کے لیے کام کریں گی۔ | اسی بارے میں ’کارٹون چھاپنا غلط فیصلہ نہیں تھا‘10 February, 2006 | آس پاس کارٹون تنازع: ادیبوں کا انتباہ02 March, 2006 | آس پاس فلمساز کی ساتھی کو موت کی دھمکی05 November, 2004 | صفحۂ اول مسلمان اکثریتی علاقے سےگرفتاری11 November, 2004 | آس پاس شدت پسندوں کے خلاف آپریشن06 November, 2004 | آس پاس اسلام پر متنازعہ فلم ،ڈائریکٹر قتل02 November, 2004 | آس پاس ہالینڈ کےمتنازعہ فلمساز کا قتل02 November, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||