کارٹون تنازع: ادیبوں کا انتباہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشہور مصنف سلمان رشدی ان بارہ ادیبوں اور دانشوروں میں شامل ہیں جنہوں نے ایک فرانسیسی اخبار میں اپنے نام سے کارٹون تنازعے کے بارے میں ایک بیان جاری کیا ہے۔ اس بیان میں ادیبوں نے کہا ہے کہ کارٹونوں کی اشاعات سے پیدا ہونے والے پُر تشدد واقعات اور احتجاج سے یہ واضح ہوتا ہے آزادی اور سکیولر اصولوں کے لئیے جد وجہد جاری رکھنا کتنا اہم ہے۔ جن ادیبوں نے اس بیان پر دستخط کیے ہیں ان میں زیادہ تر افراد کو اسلامی انتہا پسندوں نے ماضی میں نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سلمان رشدی کے علاوہ بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین، سومالی نژاد ڈچ رکن پارلیمان ایان ہرسی علی، ملک بدر دو ارانی ادیب شہلا سفیق اور مریم نمازی اور کینیڈا میں رہنے والی اصلاح پسند محقق ارشاد مانجی شامل ہیں۔
ادیبوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ ہم نازی دور، سٹالن کے دور اور فاشِزم کے خطرات سے پہلے نمٹ چکے ہیں لیکن اب دنیا کو ایک اور بڑے خطرے کا سامنا ہے جو کہ ’اسلامِزم‘ ہے۔‘ ’ہم ادیب، صحافی اور دانشور اب یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ اس مذھبی آمریت کو روکا جائے، اور آزادی اظہار، مساوات اور سکیولر اصولوں کو فروغ دینے کی کوشش کی جائے۔‘ بیان کے مطابق کارٹون تنازعے سے پیدا ہونے والے پر تشدد رد عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان سکیولر اصولوں کے لیے جد و جہد کو جاری رکھنا کس قدر اہم ہے۔ ’یہ نہ مغرب اور مشرق کا تصادم ہے اور نہ ہی تہذیبوں کا۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے جس میں جمہویت پسند ایک طرف ہیں اور مذہبی داداگیر دوسری طرف۔‘ ادیبوں نے اس بیان میں کہا ہے کہ انہیں یہ ہر گِز قبول نہیں ہے کہ مسلمان مردوں اور خواتین کو یہ کہہ کر آزادی اور مساوات کے حق سے محروم کیا جائے کہ کچھ موضوعات پر بات کرنے سے ان کی تہذیب و تمدن مجروح ہوتی ہیں۔‘ ان ادیبوں کا موقف ہے کہ وہ سوالات اٹھانے کے اپنے حق کی ہر صورت میں دفاع کریں گے۔ ان کے مطابق ’اسلامِزم‘ ایک انتہا پسند طرز عمل کا نام ہے اور یہ آزادی، ماساوات اور سیکیولر سوچ کا دشمن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی انتہا پسند فکر کو خوف اور مایوسی سے رجحان ملتا ہے۔ |
اسی بارے میں کارٹون تنازعہ: مسئلہ کم علمی ہے یا انسانی حقوق کا؟18 February, 2006 | Poll کارٹونسٹ کے قاتل کیلیے 10 لاکھ ڈالر17 February, 2006 | پاکستان ’کارٹون بنانے پر افسوس نہیں‘19 February, 2006 | آس پاس سعودی اخبار کی اشاعت معطل21 February, 2006 | آس پاس کارٹون چھاپنے پر مدیر گرفتار24 February, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||