اسلام پر متنازعہ فلم ،ڈائریکٹر قتل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ میں پولیس حکام کے مطابق اسلامی ثقافت کے بارے میں متنازعہ فلم بنانے والے فلم ڈائریکٹر تھیو وین گو کوایمسٹرڈیم میں قتل کردیا گیا ہے۔ اس واقعے کے فوری بعد پولیس نے ایک جھڑپ کے بعد قریبی پارک سے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے۔ سینتالیس سالہ وین گو کو اس فلم بنانے کے بعد قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ ان کی فلم کا موضوع تھا اسلامی معاشروں میں خواتین پر تشدد اور یہ فلم ہالینڈ کے ٹی وی پر دکھائی گئی تھی۔ یہ فلم ہالینڈ کی ایک مسلمان سیاستدان ایان ہرسی علی کے ساتھ مل کر بنائی گئی ہے جن کا تعلق صومالیہ سے ہے اور وہ والدین کی پسند سے چنے گئے اپنے شوہر کو چھوڑ کر بھاگ گئی تھیں۔ فلم کے نشر کیے جانے کے بعد سے ہرسی پولیس کی حفاظت میں ہیں اور انہیں بھی دھمکیاں ملتی رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس فلم کے نشر کیے جانے سے ہالینڈ کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اس فلم میں چار مسلمان خواتین کو دکھایا گیا ہے جن پر تشدد کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایسے کپڑے پہن رکھے ہیں جن سے ان کی جسم عیاں ہے اور کے جسموں پر آیات لکھی نظر آرہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||