BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 08 March, 2007, 16:46 GMT 21:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فروزندہ مہراد

(عراقی شاعرہ کی نظم ایرانی دوست کیلیے)

میں تریپولی لیبیا میں
ہوٹل شاطی کی لابی میں بیٹھی تھی
جب وہ وہاں سے گزری

لمبے لباس میں۔ بال رومال سے باندھے ہوئے، دو بنڈلز اپنے ہاتھ میں لیے جیسے وہ ابھی ابھی سفر سے لوٹی ہو

اور دو نوجوان لڑکے
دو چاند یا میرے خیال میں دو فرشتے اسکے ساتھ ساتھ چل رہے تھے
میرے خیال میں وہ اسکے بیٹے تھے

میں اس عورت کو جانتی تھی
میں اسکی آنکھوں کی جوت کو جانتی تھی

میں اسے بلانے لگي تھی
لیکن میں اسکا نام بھول گئي
میں اسے دیکھ کر ہنسی
اس نے بھی محسوس کیا
اس نے اپنی نظریں مجھ پر لگادیں
وہ بھی یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی
وہ رکی نہیں
اور نہ اپنے بچوں کو رکنے دیا
میں جیسے ہی یادداشت کو آواز دینے لگی
وہ لابی کیطرف جاتی رہی

وہ گم ہوگئی
لیکن اسکی ہر بات میرے پاس واپس آنے لگی
سوائے اسکے نام کے

وہ بغداد میں میرے ساتھ کالج میں ہم جماعت تھی
ایرانی ایمبیسی میں سفارتکار کی بیٹی

وہ ہماری ہی طرح عربی بولتی تھی
پر وہ سال اول میں فیل ہوگئي تھی
اور اس جماعت سے نکل گئی جس میں زیادہ تر شاعر تھے

مجھے اسکی حاضر جوابی
اور عجیب انداز آج بھی یاد ہیں

وہ ایک دفعہ اس مال گاڑی پر کود کر چڑہ گئی تھی
جو کالج سے باب المعظم کی طرف جارہی تھی

اور ایک دفعہ
جب انگریزی کااستاد کلاس میں داخل ہوا
تو کچھ طلبہ و طالبات گندی تصاویر بلیک بورڈ پر بنارہے تھے
’تم لوگ کیا کررہے ہو؟‘
ٹیچر نے غصے سے پوچھا
وہ بڑی آہستگی سے بولی
’یہ لوگ اپنی تصاویر بنارہے ہیں سر!‘

ایک دفعہ
کلاس میں اسے مرگي کا دورہ پڑا
وہ فرش پر تلملانے لگی تھی
میں نے اسے بازؤں میں لے کر سہلایا اور اسکے کپڑے درست کیے
اور جو پہلی بات اس نے کہی وہ تھی:
’تم کتنی نہ اچھی ہو‘

اسکی ہر بات عجیب تھی
یہاں تک کہ اسکا نام بھی جو میں بھول چکی تھی
تیس سال کے بعد اسکے نام کو یاد کرنا کتنا مشکل تھا
اچانک اسکا نام یاد آگیا
فروزندہ مہراد
مجھے اسکی بہن کا بھی نام یاد تھا
درخشندہ مہراد

میں نے یہ بمشکل دہرایا
تاکہ کہیں پھر اسے بھول نہ جاؤں
فروزندہ، فروزندہ، فروزندہ
لیکن وہ کب کی جا چکی تھی

میں اپنی نشست کی طرف واپس آئی
میں نے سوچا کہ ہوٹل ریسیپشن سے اسکا کمرہ نمبر معلوم کروں
لیکن پھر میں نے اس خیال کو جانے دیا
اور میں نے خود سے پوچھا:
’تیس سال بعد اس سے مل کر میں کس پر بات کرونگی؟‘
روزگار کے بارے میں؟
جس سے اب ہم دونوں رٹائرڈ ہوچکے ہیں؟
ہماری شادیوں کے بارے میں جب ہم اس عمر میں ہیں جس میں ہم یا مطلقہ ہوچکی ہیں یا بیوائيں؟

اسکے بعد بس صرف ایک سوال بچتا تھا
ہمارے بیٹے

میں اسے کیا کہوں؟
یا وہ مجھے کیا کہے گي؟

کیا وہ مجھ سے کہے گي
وہ اس لیے لیبیا آئي ہے کہ اسکے بیٹے لڑائي کیلیے ٹرینڈ ہو سکیں؟
میں اسے کہوں گي کہ میرا بیٹا عراقی فوج میں سپاہی ہے
مسان کے محاذ پر بھیجا گیا ہے

اسکے بعد ہم دونوں خاموش ہوجائيں گے
ہماری آنکھیں اور
خاموشی ہماری گفت و شنید ہونگی
کون کسے پہلے قتل کرے گا؟
میرا بیٹا اسکے بیٹے کو؟
یا اسکا بیٹا میرے بیٹے کو؟

نوک تلوار پر
دو مائيں تیار ہیں
سوگ منانے کیلیے

اس میں کوئی شک نہیں
تھوڑے تامل بعد
فروزندہ کو میں یاد آ جاؤں گی
جیسے وہ مجھے یاد آ گئي تھی

میں اسکی ساتھی، خوبصورت شاعرہ
ایک مہربان سی جس نے اسے گلے لگایا تھا

شاید وہ جنگ سے اڑتی دہول وغبار میں
میرے چہرے کی سختی بھی دیکھ سکے
اور پیار بھرے پستانوں کو پکڑنے کی کوشش میں
اسکے ہاتھ جنگی تمغوں پر جا پڑيں
وہی پیار بھرے پستان جنہوں نے ایک سپاھی کو محاذ جنگ پر چوکنا کرنے کیلیے بڑا کیا جس سے اسکے بیٹوں کی زندگي خطرے میں پڑی ہوئي ہے، بالکل ایسے جیسے میرا بیٹا اپنا اور اپنے وطن کا دفاع کر رہا ہے
اور اسکے بیٹے بھی ٹھیک وہی کر رہے ہیں

امید کہ اس نے مجھے نہیں پہچانا ہوگا
شاید میں اسے یاد نہیں

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد