BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاپتہ لوگ: آسماں کھا گیا کہ زمین۔۔۔

گمشدہ افراد کی تصاویرفائل فوٹو
لاپتہ افراد کے عزیزوں کاتکلیف دہ انتظار
بی بی سی کے نامہ نگار ذوالفقار علی نے پاکستانی کشمیر کے لاپتہ لوگوں پر ایک بڑی ہی دکھدایک رپورٹ نشر کی ہے ، بقول ایک سندھی’لاپتہ مظفر بھٹو کی زوجہ صائمہ بھٹو‘ کے کہ ان کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا یہ لوگ کہاں 'لاپتہ' ہوگئے۔

یقیناً یہ مری کے کور کمانڈر کو پتہ ہوگا کہ مصیبت زدہ کشمیر سے اٹھائے گئے لوگ کہاں گئے اور دوسرا آئي ایس آئی کے چیف کوکیونکہ یہ دونوں ہی حضرات اس کشمیر کے اصل اور طاقتور حکمران بتائے جاتے ہیں-

انٹیلیجنس ریپبلک آف غائبستان میں’خفیہ والوں‘ کے ہاتھوں لوگ تھوک کے بھاؤ سے غائب کر دیے گئے ہیں۔

سندھ ہو کہ بلوچستان، پنجاب ہو کہ سرحد، کشمیر ہو کہ شمالی علاقہ جات بس احمد فراز کے شعر والی بات ہے۔

ماؤں کے ہونٹوں پر نوحے اور بہنیں کرلاتی ہیں
رات کی تاریکی میں ہوائيں کیسے سندیسے لاتی ہیں

ذوالفقار علی کی سلسلہ وار رپورٹوں میں پس منظر میں دیے گئے کشمیری گیت کو ترجمے کی بھی ضرورت نہیں کہ اس کی ایک ہی زبان ہے اور وہ ہے درد کی زبان جو کشمیری ماں کی بھی زبان ہے تو اسے کیلیفورنیا میں گمشدہ سندھی قوم پرست اور امریکی شہری صفدر سرکی کی اہلیہ رخسانہ پارس سرکی بھی سمجھتی ہیں جس سے ہر روز ان کے بیٹے سوال کرتے ہیں کہ ’ امی ڈیڈ کب واپس آئیں گے؟

یہی کشمیری گیت بلوچستان کے گمشدہ گہرام صالح کی ماں کو سمجھنے کے لیے کسی ترجمے کی ضرورت نہیں ہوگی-

صفدر سرکی کہاں ہیں؟

چوبیس فروری انیس سو چھ کو کراچي کے گلستان جوہر میں اس کے اپارٹمنٹس اور محلے کے سینکڑوں لوگوں نے اسے مبینہ طور پرلیاری ٹاسک فورس کے ایس پی پولیس چودھری اسلم کے ہاتھوں گرفتار ہوکر لہولہان تشدد کا شکار ہوکر جاتے دیکھا تھا۔

یہی منظر صفدر سرکی کے رشتہ دار اور ڈرائیور نے بھی دیکھا تھا کہ آخری بار صفدر سرکی کو ایس پی چودھری اسلم کے ہاتھوں گرفتار ہوکر جاتے دیکھا گیا تھا۔

چودھری اسلم اب ایک مزدور رسول بخش بروہی کو ڈاکو ظاہر کرکے مبینہ طور پر تشدد کےذریعے ہلاک کرکے جعلی مقابلے کے الزام میں جیل میں ہیں۔

کیا پاکستان کی سپریم کورٹ جو اب پاکستان میں گمشدہ لوگوں کی پٹیشن پر سماعت کررہی ہے چودھری اسلم کو طلب کرکے پوچھ سکتی ہے کہ آخر صفدر سرکی کو اس نے کس سرکاری ایجنسی یا ریاستی ادارے کے حوالے کیا تھا؟

صفدر سرکی کے وکیل کہتے ہیں کہ آخری بار وہ کراچي بیرکس میں آئي ایس آئي والوں کے پاس تھے۔

آصف بالادی جون دو ہزار چھ کو اس وقت غائب ہوگئے جب اس سے قبل وہ اپنے بچوں کواس شام کلفٹن کا ساحل گھمانے کا وعدہ کرکے گھر سے نکلے تھےگھنٹوں بعد آصف کے سیل فون پر سے ان کے گھر والوں کو فون آیا کہ 'کچھ ’دوست‘ آرہے ہیں وہ ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ان کے حوالے کردیں

اسی طرح کیا ’ آزاد‘ جموں وکشمیر کی سپریم کورٹ مری اور مظفرآباد کے ’اعلی فوجی حکام‘ یا پاکستان کی آئي ایس آئی کے چیف کو طلب کرکے ان سے جواب طلبی کرسکتی ہے کہ کوٹلی کے گاؤں کٹار کے پولیس کانسٹبل محمد افتخار سمیت لاپتہ لوگوں کا اتہ پتہ کیا ہے؟

نہ یہ لوگ زلزلے میں دب کر گم ہوگئے نہ بھارتی سیکیورٹی ایجینسوں کے ہاتھوں غائب ہوئے بلکہ وہی پاکستانی ’خفیہ والوں‘ کے ہاتھوں بیشک جنرل مشرف غائب بھی ہیں اور حاضر بھی آجکا پاکستان کل کا ارجنٹینا ہے۔

سابق سندھی قوم پرست طالب علم رہنما اور اپنی گمشدگی تک ’کیھ جاناں میں کون‘ والے مرحلے میں مصروف آصف بالادی جون دو ہزار چھ کو اس وقت غائب ہوگئے جب اس سے قبل وہ اپنے بچوں کواس شام کلفٹن کا ساحل گھمانے کا وعدہ کرکے گھر سے نکلے تھے۔گھنٹوں بعد آصف کے سیل فون پر سے ان کے گھر والوں کو فون آیا کہ ’ کچھ دوست‘ آرہے ہیں وہ ان کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ان کے حوالے کردیں۔

آصف کے گھر والوں کا کہنا ہے کہ آصف اپنی آواز سے نہایت ہی خوفزدہ لگ رہے تھے۔ کچھ دیر بعد یہ ’ کچھ دوست‘ آصف کے گھر آئے اور انہوں نے آ کر اپنا تعارف کروایا کہ ’ہم برگيڈیئر سرور کے بندے ہیں آصف کا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ لینے آئے ہیں۔‘

آصف کے گھر والوں نے انہیں آصف کے دستاویزات فراہم کرنے سے انکار کردیا آصف تب سے غائب ہیں۔

مجھے اس وقت بہت ہنسی آئی جب جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ یہ لوگ ایجنسوں کے پاس نہیں بلکہ جہاد کرنے افغانستان اور عراق اور نہ جانے کہاں کہاں گئے ہوئے ہیں۔

مشرف کے مقابلے میں اصل سیکولر اور روشن خیال اعتدال پسند سندھی اور بلوچ قوم پرست جہادی ہو ہی نہیں سکتے۔

 پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے پرائیوٹ بنگلوں میں قائم ’سیف ہاؤسز‘ اور چھاؤنیوں میں قائم ’تفتیشی سینٹروں‘ سے ٹوٹ پھوٹ کر آنیوالے کچھ سیاسی کارکنوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے گمشدھ افراد میں سے کئی لوگوں کو ان عقوبت خانوں ميں دیکھا تھا

آصف بالادی کو اپنی سندھی قوم پرست سیاست کے دنوں میں اس کی تب کی پارٹی کی لیڈرشپ سے حیدرآباد میں تیس ستمبر کے قتل عام (جو واقعہ سندھ کی گيارہ ستمبر تھی) کی مذمت کرنے پر پارٹی قیادت کی طرف سے ان کے پارٹی کے بندوق بازوں کو آصف کو ’دیکھتے ہی گولی ماردینے‘ کا حکم دیا گیا تھا۔

اور صفدر سرکی کا قصور یہ تھا کہ وہ پاکستان میں آج کی سندھی قوم پرست سیاست ریاستی ایجنسیوں کے آشیرباد کے بغیر کرنے گیا تھا ورنہ اس کی پارٹی والے تو پاکستان کو توڑنے کی بات سرعام کرتے رہتے ہیں اور عیش و عشرت میں ہیں۔

سندھو دیش یا مہاجرستان تو کراچی میں زمینوں پر قبضوں اور بھتوں پر بنے ہوئے ہیں۔

صفدر سرکی کے دوست کہتے ہیں:’ صفدر سرکی کو اس کی چرب زبانی نے مروایا۔‘

پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے پرائیوٹ بنگلوں میں قائم ’سیف ہاؤسز‘ اور چھاؤنیوں میں قائم ’تفتیشی سینٹروں‘ سے ٹوٹ پھوٹ کر آنیوالے کچھ سیاسی کارکنوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے گمشدہ افراد میں سے کئی لوگوں کو ان عقوبت خانوں ميں دیکھا تھا بلکہ ایجنسیوں کے یرغمالیت اور ٹارچر گھروں سے رہائي پاکر آنیوالے ایک بلوچ سیاسی کارکن سلیم بلوچ نے جب ایسا حلف نامہ سندھ ہائيکورٹ میں داخل کیا تو ایجنسی والوں نے اسے پھر سے اغوا کرلیا۔

جيۓ سندہ قومی محاذ کے سابق پریس ترجمان آکاش ملاح پولیس کے گرفتار ہونے کے بعد کئی ماہ ’خفیہ والوں‘ کے پاس قید و ٹارچر میں رہ کر پولیس حوالگي کے بعد حال ہی میں رہا ہوکر آئے ہیں۔

اسی طرح سندھی قوم پرست کارکن مظفر بھٹو اور ستار ہکڑو بھی دو سال مسلسل ’غائب‘ اور بدترین تشدد کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے پھینک دیے گئے۔

بلوچ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے ڈاکٹر امداد بلوچ اور اللہ نذر بلوچ سمیت کئي سیاسی کارکن مبینہ تشدد کے نتیجے میں ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں۔

بلوچ تعلیمدان مصری خان مری، ادیب و افسانہ نگار ڈاکٹر حنیف شریف اور جہموری وطن پارٹی سندہ کے رہنما رؤف ساسولی کئی ماہ و سال خفیہ ایجنسیوں کے عقوبت خانوں میں قید کے بعد جب آزاد ہوکر آۓ ہیں تو مزید مصائب کے خوف سے بتانے سے قاصررہے کہ وہ کہاں اور کس حال میں تھے؟

دہشت گردی کےخلاف جنگ میں پاکستانی عوام کو فائدے کے بجاۓ جنریلوں نے اپنی توندیں اور گھر بھرے ہیں۔

 انٹیلیجنس ادارے ریاست سے بڑی ریاست ہیں اور ان کے معاملات میں مداخلت سے وزیر اعظم تو کیا شاید آرمی چیف کی نوکری بھی ہلنے لگتی ہے۔

عالم آشکار خیال یہی ہے کہ پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو جنرل مشرف کی سربراہی اور پانچ دیگر جنریلوں کی معیت میں نو مارچ کو ایک ’منی کودیتا‘ ٹائپ کاروائی میں معطل کردینے کی بڑی وجہ ان کی طرف سے لاپتہ لوگوں کی گمشدگی کے متعلق انٹیلیجنس اداروں کےخلاف گمشدگان کے لواحقین کی شنوائي ہی تھی۔

وزیر اعظم شوکت عزیز نے کراچی میں میڈیا والوں کے سامنے کہا تھا کہ گمشدگان کے لوحقین اگر چاہیں تو ان کی گمشدگیوں کےخلاف پولیس میں رپورٹ درج کرواسکتے ہیں۔

جب ڈاکٹر صفدر سرکی کی پارٹی کےساتھی ان کی گمشدگی کی رپورٹ تھانے پر درج کرانے گۓ تو ظاہر ہے کہ پولیس نے ایف آئی آر (فرسٹ انفارمیشن رپورٹ) درج کرنے سے انکار کردیا۔

انٹیلیجنس ادارے ریاست سے بڑی ریاست ہیں اور ان کے معاملات میں مداخلت سے وزیر اعظم تو کیا شاید آرمی چیف کی نوکری بھی ہلنے لگتی ہے۔

اسی بارے میں
خط، جنرل اور’تار‘
27 July, 2006 | قلم اور کالم
نیا قبیلہ اور سردار
02 September, 2006 | قلم اور کالم
'دار کی خشک ٹہنی پہ۔۔۔۔'
08 October, 2006 | قلم اور کالم
’انٹیلیجنس ریپبلک آف غائبستان‘
23 November, 2006 | قلم اور کالم
’بس یہ ہے میرا عراق‘
31 December, 2006 | قلم اور کالم
’بغدادی انصاف‘ اور بھٹو
04 January, 2007 | قلم اور کالم
’بھری کشتی میں صرف ہندو بھاری‘
12 February, 2007 | قلم اور کالم
'لاٹھی گولی کی سرکار‘
17 March, 2007 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد