حسن مجتبی سان ڈیاگو، کیلیفورنیا |  |
 | | | اخبار نے صدر مشرف اور صدر بش کے بارے میں اپنے اداریے کو ’فرینڈ لائیک دس‘ کا عنوان دیا ہے |
کثیر الاشاعت امریکی اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی معطلی سمیت پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی حکومتی پالیسیوں سے صدر بش کی چشم پوشی پر سخت تنقید کی ہے۔ اخبار نے ’دوست ہوں تو ایسے۔۔۔!‘ یا انگریزی میں ’فرینڈز لائیک دس۔۔۔۔!‘ کے عنوان سے منگل کو شائع ہونیوالے اپنے اداریے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام میں پاکستانی فوجی حمکران کی صدر بش کی طرف سے حمایت کا موازنہ سرد جنگ کے دوران شاہ ایران اور نکاراگوا کے انستاسیو سموزا سے کیا ہے۔ بااثر امریکی اخبار نے صدر بش پر تنقید کرتے ہوئے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر پاکستان میں صدر مشرف کی اپنے عوام کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں کو برداشت کر کے صدر بش خود اپنے وضع کیے ہوئے معیاروں کا پاس نہیں کررہے۔ اخبار نے اپنے اداریے کی شروعات ان سطور سے کی: ’فرض کریں ایک غیر مستحکم لیکن امریکہ نواز ملک میں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مطلق العنان حکومت کی ہدایات ماننے سے انکار کردیتا ہے۔ وہ ملک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو ایک سو شہریوں کو اٹھاکر غائب کیے جانے کے الزام کا جواب دینے کا حکم دیتا ہے۔ بڑے پیمانے پر یقین کیا جاتا ہے کہ وہ آئين کی خلاف صدر کی خود کو منتخب کروانے کے سکیم کی مخالفت کرنے والا ہے۔ اس پر حکومت چیف جسٹس کو معطل کرکے اسے گھر میں نظربند کردے۔ سڑکوں پر احتجاج ابھر پڑے اور بلوہ پولیس آنسو گیس استعمال کرتے ہوئے حزب مخالف کے رہنماؤں کی پکڑ دھکڑ کرے اور ایسے تنازعے کی کوریج کرنے والی ٹی وی سٹیشن پر چڑھائي کرتے ہوئے اس میں توڑ پھوڑ کرے۔
 | | | پاکستان کے وکلاء نے چیف جسٹس آف پاکستان کو معطل کیے جانے کے خلاف احتجاجی مہم شروع کی ہوئی ہے |
اس پر امریکی حکومت کا ردعمل کیا ہوگا؟ ایک آدہ مثالوں کو چھوڑ کر، سرد جنگ کے دنوں میں امریکی حکومت تیسری دنیا کی حکومتوں کی ایسے داداگیری پر آنکھیں موند لیا کرتی تھی جہاں یہ حکومتیں کمیونسٹ دشمن ہوا کرتی تھیں۔تب (سرد جنگ کے زمانے میں) ایسا تھا۔ صدر بش اب دلیل دیتے ہیں کہ زیادہ تر مشرق وسطی میں ریڈیکل اسلام نے ثابت کیا ہے کہ لوگوں کے حقوق اورمواقع سلب کرنےسے انتہاپسندی کو فروغ ملا ہے۔ اخبار نے صدر بش کو دوسری بار منتخب ہونے اور صدارتی عہدہ سنبھالنے کی بھی یاد دلائي ہے: ’ہم وہاں حکومتوں کی اصلاحات کی ہمت افزائي کریں گے کیونکہ ہمارے ساتھ تعلقات کی کامیابی، اپنی عوام سے، ان کے اچھے سلوک روا رکھنے کا تقاضا کرتی ہے۔ انسانی وقار پر امریکہ کا یقین ہماری پالسیوں کا رہنما اصول ہے۔ لوگوں کے حقوق اہم ہیں نہ کہ ڈکٹیٹروں کی رعایتیں۔ حکومتوں کے برخلاف لوگوں کا آزادانہ اختلاف رائے اور ملکی امور میں ان کی بھرپور شرکت ہی ہمارے لیے نہایت اہم ہے‘۔ اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا ہے ’صدر بش اپنے ہی وضع کیے ہوئے معیاروں پر پورا اترنے میں ناکام ہو گئے ہیں اور ان معیاروں کے بجائے سرد جنگ کے زمانے کے قواعد پر عمل پیرا ہیں۔ اس کی ایک مثال گذشتہ ہفتے کے دوران پاکستان کے صدر مشرف کی ہے، جنہوں نے سات سال سے زائد عرصے قبل فوجی بغاوت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کیا، اندرون خانہ جمہوریت پسند حزب مخالف کے لوگوں کو مسلسل دبائے ہوئے ہیں اور آئین کے خلاف ورزی کرتے ہوئے خود کو پھر سے منتخب کرانے کے لیے دھاندلیاں کروانے اور صدارت کے ساتھ چیف آف آرمی سٹاف کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھنے پر ڈٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔
 | وہ سرد جنگ تھی لیکن ۔ ۔ ۔  ایک آدہ مثالوں کو چھوڑ کر، سرد جنگ کے دنوں میں امریکی حکومت تیسری دنیا کی حکومتوں کی ایسی داداگیری پر آنکھیں موند لیا کرتی تھی جہاں یہ حکومتیں کمیونسٹ دشمن ہوا کرتی تھیں  |
امریکی انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے اداریے نے کہا ہے ’واشنگٹن صدر مشرف کی جمہوریت دشمن پالسیوں کا ذکر کرنے سے بھی نفرت کرتا ہے چہ جائیکہ وہ پاکستان کو ہر سال کروڑہا ڈالروں کی امداد بھی دے رہا ہے اور یہ غلط سوچ کہ اس دوستانہ ڈکٹیٹر کا کوئی نعم البدل نہیں اس وقت بھی جب وہ ایک ڈکٹیٹر بنا ہوا ہے، یہ وہی منطق ہے جس نے سرد جنگ کے دنوں میں امریکہ کو ایران میں شاہ اور نکارا گوا میں سموزا جیسے مطلق العنان حکمرانوں کی حمایت کروائی تھی۔اداریے کی آخری سطور میں کہا گيا ہے ’بش انتظامیہ کا مشرف سے فاصلہ رکھنے کے ارادے کا فقدان، یا کم از کم اس کے ایسے رویوں پر ناراضگي ظاہر نہ کرنا انتہائي کوتاہ نظری ہے۔ دہشت گردی کی جنگ لڑنے کے لیے امریکی اقدار کی قربانی وسیع جدوجہد کو کھودینے کے مترادف ہے‘۔ اس کے علاوہ لاس اینجلس اور نیویارک ٹائمز سمیت امریکی اخبارات میں پاکستان میں عدلیہ اور مشرف حکومت کے درمیاں تنازعے اور اس پر وکلاء اور حزب مخالف کے حالیہ احتجاج نے نمایاں جگہ پائي ہے جس میں گذشتہ روز لاہور ہائي کورٹ کے جسٹس خواجہ جواد اور دویگر ججوں کی استعفوں کی خبروں کو جلی سرخیوں میں شائع کیا ہے۔ |