اباوڑو کس صدی میں واقع ہے؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پنجاب کی سرحد پر شممالی سندھ کے شہر اباوڑو میں اس دفعہ اس سے بڑی آنکھوں دیکھی کربلا اور کیا ہو سکتی تھی جب گذشتہ سات محرم کے دن تقریباً ایک درجن کے قریب افراد نے ایک محنت کش کے گھر پر دھاوا بولا اور اس کی بیوی اور جواں سال بیٹی نسیمہ لبانو پر پہلے شدید تشدد کیا اور پھر اس کی بیٹی نسیمہ کو اٹھا کر ایک ’اوطاق‘ میں لے گئے 'اس کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے کے بعد اسے الف برہنہ کرکے سڑک پر پھینک دیا۔ وہاں جمع گاؤں کی عورتوں نے اپنے دوپٹے نسمیہ پر ڈال کر اس کی برہنگی ڈھانپی۔ وہی میروالہ میں مختار مائی کے ساتھ ہونے والی جنسی دہشت گردی جیسی واردات۔
سیم و تھوراور وڈیروں، جاموں، خانوں، سرداروں، پیروں، چودھریوں، جنرلوں، چوروں، ڈاکوؤں اور خونی قبائل میں گھرا ہوا اباوڑو اکیسویں صدی میں بھی ایک تاریک اور اندھا جزیرہ لگتا ہے جہاں قانون اور انصاف کی بات بھی طاقت ور کو کچی گالی لگتی ہے۔ سب سے بڑا صحافی میرا یہ جوتا ہے۔ ’ کئي برس پہلے کسی جام نے یہ الفاظ ایک مقامی صحافی سے کہے تھے‘۔ ہوا یہ تھا ایک جام زادے نے ایک کسان کی بیوی کے ساتھ جنسی زیادتی کی تھی اور اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف ’انصاف کی آن کیمرا ہوم ڈلیوری‘ کے اصولوں پر جنسی زیادتی کی شکار عورت کے گھر پہنچ گئے تھے۔ اب انصاف کی آن کیمرا ہوم ڈلیوری کا کھاتہ ایم کیو ایم نے سنبھالا ہوا ہے۔ بلوچستان میں آپریشن سے لے کر تھانے کے تشدد میں کسی کا عضوہ تناسل کاٹے جانے اور جنسی زیادتی تک سندھی وڈیرے، پیر اور سردار تو اپنی لن ترانیوں میں مصروف ہوتے ہیں لیکن ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین اپنے ایم این اے، ایم پی ایز اور وزراّّ متاثرین کے پاس بھیجنا نہیں بھولتے لیکن زبانی جمع خرچ اور اخباری فوٹو سیشن کے سوا ہوتا کچھ نہیں۔ (کہیں یہ بھی آئندہ انتخابات کے لیے سیاسی سرمایہ کاری نہ ہو۔ اس میں بھی کؤئی برائی نہیں، اگر ایم کیو ایم اپنے او پر لگا مہاجر فسطائیت یا شہری وڈیرے پن کا الزام ملک یا سندھ میں فیوڈل طاقت کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوششوں سے غلط ثابت کر دکھائے یا یہ بھی کہ وہ جنرل مشرف کا حلقہ انتخاب نہیں)
یہی اباوڑو میں اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی نسیمہ لبانو کے ساتھ بھی ہوا ہے۔ ایم کیو ایم کے ایک ایم این اے نسیمہ لبانو کو سکھر کے سول ہسپتال میں داخل تو کروا گئے لیکن اب سنا ہے کہ ہسپتال والوں نے جنسی زیادتی اور اس کے نتیجے میں اعصابی تکالیف کی شکار نسیمہ کو ہسپتال سے بھی بے دخل کردیا ہے۔ انٹر نیٹ پر سندھی اخبارات کے مطابق، اب علاقے کا با اثر شخص نسمیہ اور اس کے خاندان پر ملزمان سے صلح کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے اور صلح نہ کرنے کی صورت میں انہیں گاؤں سے نکالنے کی دھمکی دے رہا ہے۔ اگرچہ اخبارات نے اس ’بااثر شخص‘ کا نام نہیں لکھا لیکن با اثر کوئی بھی ہو سکتا ہے۔ ’ایک سوہنی ہے اور دریا میں ہزاروں مگر مچھ ہیں‘۔ ہر دس اور پانچ میل پر ایک اور سردار، ایک اور جام، ایک اور پیر، ایک اور وڈیرا، ایک اور جنرل اور ایک اور چودھری ہے۔ صوبائي وزیر نادر اکمل لغاری سے لے کر سندھ کے سابق وزیر اعلی علی احمد مہر اور ان کے چچازاد ضلع ناظم علی گوہر مہر تک، اورسندھ کے سابق کور کمانڈر جنرل نصیر اختر سے لے کر پیر پگاڑو تک سندھ پنجاب کی سرحد پر واقع اس علاقے میں وہ اور ایسے کئی اپنے ایک طرح کے رجواڑے اور ریاستیں رکھتے ہیں۔ پولیس اور انتظامیہ کا پتہ ان کے اپنے تھانوں اور دفاتر پر نہیں بلکہ خانوں، سرداروں ، پیروں اور جرنیلوں کے بنگلوں اور درباروں سے ملتا ہے۔ ’سردار صاحب کے ساتھ ڈی پی او تھا۔ کمشنر صاحب کے گاڑی میں ڈاکو تھا‘ علاقے کے لوگ اس طرح کے کئي قصے بتاتے ہیں‘۔
اباوڑو کا غیر سرکاری نام اکثر لوگ ’بوڑا‘ بتاتے ہیں۔ سندھی زبان میں لفظ ’بوڑا‘ کا مطلب ہے ’بہرا‘۔ یہ شہر جوتے کے بل بوتے پر آباد کیا گیا تھا۔ ظاہر ہے کہ دبے ہوئے لوگ اس شہر کی تاریخ طاقتور کے پسند کے مطابق بتاتےہیں۔ اباوڑو کے لوگ سندھی میں جوتے کو ’لتر‘ یا ’ کھلا‘ کہتے ہیں کیونکہ اباوڑو کی سندھی زبان باقی سندھ سے بالکل الگ مختلف اور سرائیکی اور پنجابی سے بہت ملتی جلتی ہے۔ وہ سیڑھی کو ’پوڑی‘ بھائی کو ’بھرا‘ بیچارے کو ’شوہدا‘ اور ڈاکٹر کو ڈاکدار کہتے ہیں اور ایسے کئی الفاظ سرائیکی اور پنجابی کے اباوڑو کی سندھی میں ہیں۔ اوباوڑ کے عام سندھی، جنوبی پنجاب کے سرائیکیوں کی طرح ہیں بالکل سادے سیدھے، نمانڑے، خواجہ غلام فرید کے دوہڑوں جیسے اداس اور میٹھے۔ سندھی موسیقی اور درویشی میں سب سے عظیم انسان اور فنکار کنور بھگت رام بھی اسی علاقے کے پڑوس سے تھا جسے اسی علاقے کے پیر بھرچونڈی کے مریدوں نے قتل کیا تھا۔ انیس سو تیس کی دہائي کے آخر میں روہڑی کے سندھی ہندو پروفیسر اور کنور بھگت رام اگر قتل نہ ہوتے تو سندھ میں اتنی مذہبی نفرت اور فرقہ واریت نہ ابھرتی جو آگے چل کر پاکستان کے جنم کی موجب بنی۔ اسی علاقے میں جیکب آباد اور کشمور کے بعد سب سے زیادہ عورتیں کارو کاری کے نام پر قتل، ہندو عورتیں اکثر زبردستی مسلمان اور ہندو اورنام نہاد کمزور قبائل کی آبادی اکثر وڈیروں ، پیروں اور سرداروں کی دھونس داداگیری اور تشدد کا نشانہ بنتی رہتی ہے۔ دوسرا دادا گیر علاقے کا مولوی ہے۔ انیس سو ستر کی دہائي میں جب بھٹو کے دنوں میں جب ملائوں نے احمدیوں کے خلاف ’سوشل بائیکاٹ‘ کی مہم چلائی تھی تو احمدیوں سے دوستی ہونے کی بنا پر ایک غیر احمدی پنجابی نوجوان کے خلاف اتنی گھناونی مہم چلائي گئي کہ اسے خوکشی کرنی پڑی تھی۔ ایک نو مسلم عورت نے اپنا نام ’اسلامی‘ رکھا تو اس کے شوہر نے غیرت کے نام پر اس کا ناک کاٹ ڈالا اور اسے شہر کے لوگ اب ’ناک کٹی اسلامی‘ کہتے ہیں۔
اباوڑو کے قریبی شہرمیرپور ماتھیلو میں انیس سو ستر کی ہی دھائي میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں دو سیاسی کارکنوں ماندھل شر اور اللہ بچایو مرناس کو ہاریوں (کسانوں) کے حقوق کے لیے احتجاج کرنے پر پولیس نے شدید تشدد کا نشانہ بنایا اور منہ کالا کر کر کے ان سے شہر میں گشت کرایا تھا۔ پینسٹھ میں پاکستان بھارت جنگ کے دوران اباوڑو کا ایک شخص رضاکارانہ طور پر منہ کالا کروا کر جوتوں کے ہار پہن کر گدھے پر سوار شہر میں جلوس کی صورت میں گشت کرنے کو تیار ہوگیا تھا کیوں کہ اس کی شکل تب کے وزیراعظم لال بہادر شاستری سے ملتی تھی اور اسے آج تک شہرکے لوگ ’شاستری‘ کہتے ہیں۔ ضیاءالحق کے دنوں میں یا اس کے بعد رضاکارانہ طور ’شاستری‘ کی جگہ ضیاء والے سوانگ رچانے کا بیڑا جیالوں نے اٹھایا تھا۔ جب بھی ہندوستان یا پاکستان کے درمیاں جنگ ہوئی یا جنگ جیسے حالات پیدا ہوئے تو سارا نزلہ شہر کے ہندوؤں پرجا گرا۔ سندھ میں اغوابرائے تاوان کی پہلی واردات بھی اباوڑو کے نزدیک ہوئی جس میں ایک ہندو ہی کو اغوا کیا گیا تھا۔ یہ واردات خدو عالمانی نامی ڈاکو نے کی تھی جو اب مقامی معززین میں شمار ہوتا ہے اور آخری بار اسے بلخ شیر مہر اور شائستہ عالمانی کے درمیاں پیار کی شادی کے بعد اٹھ کھڑے ہونے والے تنازعے میں سرگرم دیکھا گیا تھا۔ وزیرستان میں مشرف حکومت کے طالبان کے ساتھ ’امن سمجھوتے‘ سے بھی بہت پہلے حکومت نے اباوڑو اور اس کے ضلع گھوٹکی میں ڈاکوؤں کے ساتھ ’امن سمجھوتے‘ میں سرکاری زمین پر زمینداری کرنے کیلے دی ہوئی ہے۔ انیس سوپچانوے میں جب دھوندھو قبیلے کے ایک کسان نے اپنی بیوی کے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے خلاف انصاف کی لڑائي کی جرات کی تو اسے تھانے میں بند کروا کے تشدد کروایا گیا اور اس کے بعد ایک درخت سے باندھ کر چاروں ہاتھ پیروں پر کھڑے ہو کر لوگوں پر بھونکنے اور بھبھوڑنے پر مجبو کیا گیا تھا۔ اور اب نسیمہ لبانو کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کی گئی ہے۔ کوئي گیارہ افراد اس جنسی دہشت گردی میں ملوث ہیں جنہیں پولیس گرفتار کرنے میں اب تک ناکام ہے اور الٹا نسیمہ اور اس کے خاندان کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں کہ ملزمان سے صلح کرلو۔
اباوڑو میں جنسی زیاتی کا یہ کوئی پہلا کیس نہیں بلکہ یہ دوسرا موقع ہے جب میڈیا کی سطح پر نسیمہ لبانو کے ساتھ اجتماعی زیادتی کا کیس رپورٹ ہوا ہے ورنہ تو اباوڑو شہر کے لوگ با اثر لوگوں کے ہاتھوں اجتماعی جنسی زیادتیوں کے کئی کیس جانتے ہیں جو بیچارے مقامی صحافی رپورٹ ہی نہیں کرتے کہ وہاں وڈیرے کہتے ہیں ’سب سے بڑا صحافی میرا جوتا ہے‘۔ کالاباغ ڈیم کے خلاف سندھ پنجاب سرحد پر بینظیر بھٹو کی قیادت میں لاکھوں لوگوں کا اباوڑو کے قریب کموں شہید میں دھرنا لگانے والی تنظیمیوں اور ان کے لیڈروں کے لیے بھی اب شاید نسیمہ لبانو کے ساتھ اجتماعي جنسی زیادتی اور مشرف کے پاکستان میں عورتوں کے خلاف جنسی دہشت گردی کوئی ’ایشو‘ نہیں۔ باقی ان میں سے اکثر یہ کہنے کے شوقین ہیں کہ مختار مائي پنجابی تھی اور نسیمہ جیسی خواتین سندھی ہیں! حالانکہ مختار مائی کے ساتھ انصاف اب بھی اپیل کی کھجور میں لٹکا ہوا ہے۔ پنجاب ہوکہ پاکستان کا کوئي بھی حصہ شاعر شیخ ایاز نے ایسے ہی دیس کے لیے کہا تھا: |
اسی بارے میں ’میں تو زندہ ہی مر گئی‘: نسیمہ لبانو01 February, 2007 | پاکستان اجتماعی زیادتی پر عوامی احتجاج31 January, 2007 | پاکستان گوجرانوالہ:’غلام‘خاندان کی روداد09 November, 2006 | پاکستان خطا کاالزام چچا پر اور سزا بھتیجی کو24 September, 2006 | پاکستان ’حدود بل پر پسپائی اختیار نہیں کی‘20 September, 2006 | پاکستان پولیس: ملزم بہنوں سے جنسی زیادتی16 June, 2006 | پاکستان ’حکومت کا رویہ بدل گیا ہے‘05 May, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||