BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 May, 2007, 11:44 GMT 16:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تخریب کاری کا خدشہ ہے: شیرافگن

پاکستان نیشنل اسمبلی (فائل فوٹو)
جسٹس افتخار وکلاء کی دعوت پر جاتے ہیں:ظفراللہ جمالی
قومی اسمبلی میں حکومت اور حزب مخالف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکیل منیر اے ملک کے گھر پر فائرنگ کی مذمت کرتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ بارہ مئی کو کراچی میں غیر فعال چیف جسٹس اور متحدہ قومی موومنٹ کے جلوسوں کے موقع پر بڑی تخریب کاری ہوسکتی ہے۔

منیر اے ملک کے گھر پر فائرنگ چیف جسٹس کے دورہ کراچی کے موقع پر ان کے حق میں اور مخالفت میں نکالے جانے والے مجوزہ جلوسوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر جمعرات کو قومی اسمبلی کی معمول کی کارروائی روک کر بحث کی گئی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ ظفر اقبال وڑائچ نے ایوان کو بتایا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب نامعلوم افراد نے منیر اے ملک کے گھر پر کلاشنکوف سے فائرنگ کی اور سولہ گولیاں ان کے مکان پر لگیں۔ ان کے مطابق منیر اے ملک نے نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔

بحث کے دوران متحدہ مجلس عمل کے بعض اراکین نےمعطل چیف جسٹس کے وکیل منیر اے ملک کے گھر پر فائرنگ کا الزام متحدہ قومی موومنٹ پر لگایا جس کی ایم کیو ایم کے اراکین نے سختی سے تردید کی اور مجلس عمل پر جوابی الزام عائد کیا۔

پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نیازی نے کہا کہ بارہ مئی کو معطل چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کراچی بار سے خطاب کے لیے جا رہے ہیں اور اس موقع پر تخریب کاری ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق حکومت اور حزب مخالف میں اختلاف رائے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے چند شرپسند عناصر گڑ بڑ کرانا چاہتے ہیں اور اس میں جانی اور مالی نقصان بھی ہوسکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے منظور وسان اور شیر محمد بلوچ، متحدہ مجلس عمل کے محمد حسین محنتی اور فرید احمد پراچہ نے متحدہ قومی موومنٹ پر سخت تنقید کی اور الزام لگایا کہ وہ کراچی کا امن تباہ کرنا چاہتی ہے۔

ایم کیو ایم کے حیدر عباس رضوی اور اسرار العباد نے ان کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جلسے جلوس نکالنا سب کا حق ہے۔

مسلم لیگ نواز کی تہمینہ دولتانہ اور حزب مخالف کے بعض اراکین نے بارہ مئی کو معطل چیف جسٹس کے دورہ کراچی کے موقع پر ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی میں اور حکمران مسلم لیگ کی جانب سے اسلام آباد میں صدر جنرل پرویز مشرف کے حق میں جلوس نکالنے پر سرکاری اخراجات استعمال کرنے کا الزام لگاتے ہوئے حکومت پر تنقید کی۔

حکومت کی جانب سے فاروق امجد میر اور دیگر نے حزب مخالف کی جانب سے حکومت پر تنقید رد کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ اور ایم کیو ایم سرکاری خرچ پر نہیں بلکہ پارٹی فنڈ سے جلوس نکال رہی ہیں۔ ان کے مطابق حزب مخالف ان کے بڑے جلوس کی وجہ سے خوفزدہ ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب جسٹس افتخار حکومت مخالف سیاسی پارٹیوں کے پرچم تلے جلوس کی قیادت کر سکتے ہیں تو صدر جنرل پرویز مشرف کے حامی ان کے حق میں کیوں جلوس نہیں نکال سکتے۔

سابق وزیر اعظم میر ظفراللہ جمالی نے کہا جلوس نکالنا سب کا حق ہے لیکن جس روز غیر فعال چیف جسٹس کا پروگرام ہوتا ہے تو اس روز دیگر جماعتوں کو اپنا پروگرام نہیں رکھنا چاہیے۔ انہوں نے جسٹس افتخار کا دفاع کرتےہوئے کہا کہ وہ وکلاء کی دعوت پر جاتے ہیں اور کسی سیاسی جماعت کو نہیں بلاتے۔

بے نظیرسیاست جمی رہی
بے نظیر کی ڈیل، جسٹس کا جلوس،مشرف کاجلسہ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد