جمالی کا قائمہ کمیٹی سے استعفی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران مسلم لیگ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی اور سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کی رکنیت سے استعفی دیدیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے کسی بھی بات پر احتجاجاً استعفی نہیں دیا ہے بلکہ اس کی وجوہات ذاتی نوعیت کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”کمیٹیز کا کام یہ ہوتا ہے کہ اس کے ارکان اپنا کردار ادا کریں تاکہ پارلیمینٹ اور پارلیمینٹرینز کو اس کا فائدہ ہو لیکن میں یہ سمجھ رہا تھا کہ ہماری کارگزاری اتنی نہیں تھی کہ ہم کوئی کردار ادا کررہے ہوں اور کمیٹی کے ممبران کو اضافی مراعات بھی ملتی ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ ہم اس کا حق ادا کررہے تھے اسی لئے میں نے استعفی دیا اور کوئی وجہ نہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ جب کمیٹی کا کوئی رکن اپنا کردار ادا نہیں کرسکے تو یہ بات صحیح نہیں کہ عوام کا پیسہ اس پر خرچ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ’میری مصروفیات بھی ہیں اور میں آج کل بہت کم اسلام آباد آتا ہوں تو یہ میرے لئے مشکل ہوگیا تھا۔‘ تاہم میر ظفر اللہ جمالی نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ وہ کسی اور کمیٹی کی رکنیت حاصل کرلیں اور اس سلسلے میں سپیکر بھی گزارش کریں گے۔ اس سوال پر کہ کیا ان کا استعفی ان کی اپنی جماعت کی پالیسیوں سے اختلاف کا نتیجہ ہے انہوں نے کہا کہ ’ نہیں میرے بھائی میں تو کوئی ڈیڑھ ماہ کے بعد آج اسلام آباد آیا ہوں۔ آخر میں انسان ہوں میں بہت طویل عرصے سے پارلیمینٹیرین رہا ہوں تقریباً تیس پینتیس سالوں سے، کوئی بھی شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ میں کیا کردار ادا کرسکتا ہوں۔‘ واضح رہے کہ میر ظفراللہ خان جمالی 21 نومبر 2002 سے 26 جون 2004 تک یعنی 19 مہینوں تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہے اور اس کے بعد مستعفی ہوگئے تھے بعد میں وہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے رکن ہوگئے تھے، کمیٹی کی رکنیت سے انہوں نے اس وقت استعفی دیا ہے جب موجودہ اسمبلی کی مدت پوری ہونے میں چند ماہ رہ گئے ہیں۔ | اسی بارے میں بلوچوں کی ’جنگ‘ جائز ہے: جمالی11 January, 2005 | پاکستان ’میں ڈائیلاگ کی بات کہتا رہا‘27 August, 2006 | پاکستان رشتے کبھی بنے ہی نہیں تھے: مینگل31 August, 2006 | پاکستان ہاکی: غیر ملکی کوچ کی ضرورت نہیں07 September, 2006 | پاکستان انٹیلیجنس رپورٹس یا ٹی وی ڈرامہ؟23 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||