رشتے کبھی بنے ہی نہیں تھے: مینگل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے قوم پرست رہنما سردار عطا اللہ مینگل نے کہا ہے کہ ان کے پاکستان کے ساتھ رشتے بنے ہی نہیں تھے توٹوٹتے کیا۔ پاکستان کے ساتھ رشتے کچے دھاگے سے نہیں بلکہ زنجیروں سے بنے ہیں۔ بی بی سی اردو سروس کے پروگرام ٹاکنگ پوائنٹ میں سابق وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی کے ساتھ سامیعن کے سوالوں کا براہ راست جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا ’ رشتے پہلے بنتے ہیں پھر ٹوٹتے ہیں بدقسمتی سے پاکستان کے جو حکمران ہیں انہوں نے ہماری بارہا کوششوں کے باوجود یہ رشتہ بننے ہی نہیں دیا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہماری رضا نہ اس وقت اس رشتے میں تھی اور نہ اب اس رشتے میں ہے اور باقی جو غلط فہمی تھی وہ بھی اب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد ختم ہو گئی ہے‘۔میر ظفر اللہ جمالی سے کئی سامعین نے ان کی حکومت کے ساتھ وابستگی اور حمایت کے بارے میں سوال اٹھایا۔ میر ظفر اللہ خان جمالی نے نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کو قتل قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت بھی کی ہے اس بارے میں بھی سامعین نے ان سے سوال کیا۔ میر ظفر اللہ خان جمالی نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ قاتلوں کے ساتھ نہیں ہیں۔ انہوں نے میر جعفر جمالی اور ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ نواب اکبر بگٹی کو اپنا آئڈیل ٹھہرایا۔ نواب اکبر بگٹی کو شہید قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ قاتلوں کی صف میں نہیں ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ’میرے بھائی میرا یقین کیجیئے ہم نے مذمت دل و جان سے کی ہے۔ نیک نیتی کے ساتھ کی ہے۔ وہ قابل احترام تھے ہم نے ہر وقت ان کی عزت کی۔‘ حکومت سے اپنی وابستگی کے بارے میں انہوں نے کہا ’اب جو حکومت ہے تو میں سوا دو ڈھائی سال سے حکومت سے الگ ہوں۔ پارٹی کا ممبر ضرور رہا ہوں اور کم از کم آج تک ہوں۔ کل پرسوں کے بعد کیا فیصلے ہوں گے۔ انسان اپنے ضمیر کی آواز سنتا ہے اور توکل اللہ پر رکھتا ہے اور جس پر ضمیر مطمئن ہو اسی پر عمل درآمد کریں گے‘۔ سردار اختر مینگل سے سامعین نے ماضی میں حکومت میں شمولیت کے بارے میں سوالات کیئے جس پر انہوں نے اعتراف کیا کہ ان سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اس خوش فہمی میں ہم بارہا اپنے آپ کو مبتلا کر چکے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ہمارا گزارا ہو گا۔ باوجود اس یاد دہانی کے جو آپ ہمیں کرواتے آ رہے ہیں کہ یہ ملک تمہارا نہیں ہے۔ ملک ہمارا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اب نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ قبر تک جانے کے لیئے بھی حکومت کی اجازت درکار ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اکبر خان بگٹی کی میت کس کے حوالے کرکے کہاں دفن کرنی ہے۔ ماضی میں عہدے قبول کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہوں نے جو کچھ کیا تھا وہ اس کی معافی بلوچ عوام سے چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچ عوام سرداروں کے رحم و کرم پر نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد سے لے کر آج تک وہ حکومت پاکستان کے رحم و کرم پر تھے۔ ذرائع اور خزانے، اختیارات اور طاقت ساری حکومت کے پاس تھی اور سردار تو ویسے ہی بدنام ہیں۔ | اسی بارے میں مسلح جدوجہد مؤثر ذریعہ ہے: مری31 August, 2006 | پاکستان بلوچستان: حالات معمول کی طرف 31 August, 2006 | پاکستان ’حکومتی جرگے کا فیصلہ قبول نہیں‘31 August, 2006 | پاکستان ’تدفین جرگے کے مطابق ہوگی‘31 August, 2006 | پاکستان ’بگٹی کی ہلاکت کی تحقیقات کرائیں‘30 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||