بے نظیر کی ڈیل، جسٹس کا جلوس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس ہفتے کی ابتدا میں حکومت اور پیپلز پارٹی کی ڈیل کا ایک بار پھر اس وقت چرچا شروع ہوا جب بینظیر بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے لیے ڈیل کی گولی ضروری ہے۔ لیکن اسکے بعد پورا ہفتہ افتخار چودھری بنام پرویـز مشرف، آئینی درخواست اور چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت اور اپوزیشن کے جلسے جلوسوں کا ذکر چھایا رہا۔ پیپلز پارٹی اور حکومت کی ڈیل کے تعلق سے وفاقی دارالحکومت میں بعض ذرائع کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف کے نمائندوں نے مشروط طور پر فوجی عہدہ چھوڑنے کی پیشکش کی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ایک سرکردہ رہنما کا دعویٰ ہے کہ صدر کے نمائندے چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی موجودہ اسمبلیوں سے صدر کو منتخب کروائے اور اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ دے۔ لیکن پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ صدر بیشک خود کو موجودہ اسمبلیوں سے منتخب کروا لیں پیپلز پارٹی ووٹنگ میں حصہ نہیں لے گی اور اس کے بدلے موجودہ اسمبلیوں سے تیسری بار وزیراعظم بننے پر عائد پابندی کی آئینی شق ختم کرنے کے لیے ترمیم کرائی جائے جس میں پیپلز پارٹی حکومت کا ساتھ دے گی۔ اس بارے میں حکومتی حلقے کہتے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ تیسری بار وزیراعظم بننے پر عائد پابندی کی شرط ختم کرنے کی آئینی ترمیم صدر کے اعتماد کے ووٹ کے بعد نو منتخب اسمبلی سے منظور کرائی جائے۔
فریقین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر معاملات پر اتفاق ہے لیکن طریقہ کار کے بارے میں معمولی نوعیت کے نکات طے ہونا باقی ہیں۔ لیکن وہ یہ بھی مانتے ہیں کہ عدالتی بحران کے پیش نظر فی الحال فریقین یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ عدالتی بحران کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ ملک میں جاری مبینہ عدالتی بحران کی گونج قومی اسمبلی میں بھی سنائی دی، جہاں حکومت کو اس وقت سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب وزیر قانون محمد وصی ظفر نے چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے وقت اپوزیشن کے کردار پر بحث کے لیے عجلت میں ایک قرار داد منظور کرا لی۔حزب مخالف بحث کے لیے بضد رہی لیکن حکومتی اکابرین محتاط رہے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وصی ظفر کی قرار داد پر بحث کرانا حکومت کو گالیاں پڑوانا ہے۔ اس لیے خاموشی کے ساتھ حکومت نے غیر اعلانیہ طور اپنی قرار داد واپس لے لی۔ ہفتے کے اختتام پر پانچ مئی کو چیف جسٹس سڑک کے ذریعے لاہور بار سے خطاب کے لیے روانہ ہوئے تو جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ ان کا والہانہ استقبال ہوا اور ٹی وی چینلز براہ راست کوریج دکھاتے رہے۔ لیکن جب دوپہر کو صوبہ سندھ کے شہر نئوں کوٹ میں صدر جنرل پرویز مشرف نے جلسے سے خطاب کیا تو پاکستان ٹیلی ویژن سمیت بیشتر ٹی وی چینلز نے چیف جسٹس کو چھوڑ کر صدر کے جلسے کی کوریج شروع کر دی۔ تاہم صدارتی جلسے کے اختتام پر نجی ٹی وی چینلز کو دوبارہ چیف جسٹس کے جلوس کی کوریج کا موقع مل گیا۔
ایک طرف صوبہ سندھ کی پولیس صدر کے جلسہ کو کامیاب بنانے کے لیے صوبے بھر سے بسیں اور ویگنیں چھین کر لوگوں کو وزیراعلیٰ سندھ کے علاقے نئوں کوٹ لے جاتی رہی تو دوسری طرف پنجاب پولیس کے اہلکار چیف جسٹس کے استقبال کے لیے آنے والے وکلاء اور سیاسی کارکنوں کو روکتے رہے۔ پولیس نے کچھ مقامات پر فائرنگ کی اور بعض جگہوں پر آنسو گیس کے گولے پھینکے اور لاٹھی چارج کیا۔ پنجاب پولیس کی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود بھی ہزاروں افراد سینکڑوں گاڑیوں کے جلوس میں چیف جسٹس کے ہمسفر رہے۔ سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جس طرح چیف جسٹس کا لوگ والہانہ استقبال کر تے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں دیوانہ وار سخت گرمی میں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں اس سے بھٹو کے جلوسوں کی یاد تازہ ہوگئی۔ |
اسی بارے میں جسٹس افتخار کا قافلہ لاہور روانہ05 May, 2007 | پاکستان مشرف کی وکلاء کو وارننگ05 May, 2007 | پاکستان صدر کا جلسہ ، مقامی لوگ بےگھر04 May, 2007 | پاکستان ’یہ تحریک انصاف کی تحریک ہے‘04 May, 2007 | پاکستان صدر کی درخواست نظر انداز04 May, 2007 | پاکستان دوائیں نہ سکول، کس سےسوال کریں؟ 25 January, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||