اسمبلی اراکین کی الزام تراشی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’آ بیل مجھے مار‘ کا ایک عملی نمونہ بدھ کو قومی اسمبلی کی کارروائی کے دوران اس وقت دیکھنے کو ملا جب حکومت نے چیف جسٹس کے خلاف عدالتی کارروائی کے دوران حزب مخالف کے رویے کے خلاف مذمتی قرار داد منظور کراتے ہوئے اس معاملے پر ایوان میں بحث کا فیصلہ کیا۔ وزیر قانون وصی ظفر نے عجلت میں اپنے ہاتھ سے یہ قرار داد لکھی جو اس وقت منظور کرائی ۔گئی جب حزب مخالف والے کورم کی نشاندہی کے بعد ایوان سے باہر گئے۔ پہلی گنتی کے دوران حکومت کے تراسی اراکین تھے اور جب سپیکر نے گھنٹیاں بجوائیں تو آخر کار ان کے کچھ اراکین آگئے اور دوسری گنتی میں کورم پورا نکلا۔ اس دوران حکومتی رکن کشمالہ طارق کیفیٹیریا میں چائے پیتی رہیں اور ایک صحافی نے کہا کہ یہ کورم پورا کرنے کے لیے نہیں جا رہیں۔ کورم پورا ہونے کا سنتے ہی اپوزیشن والے ایوان میں آئے لیکن اس وقت وزیر قانون قواعد کو صرفِ نظر کر کے چیف جسٹس کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کے موقع پر حکومتی وکیل وسیم سجاد کی گاڑی پر حملے اور خالد رانجھا سے بد سلوکی کی مذمت کرتے ہوئے اس پر بحث کرانے کی قرار داد منظور کراچکے تھے۔ قرار داد میں انہوں نے کہا کہ حزب مخالف کے ارکان عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں۔ حزب مخالف نے موقع غنیمت جانتے ہوئے کہا کہ اس پر تفصیل کے ساتھ جمعرات کو بحث کرائی جائے اور سپیکر نے ان کی بات مان لی حالانکہ گزشتہ پیر کو جب عدالتی بحران کے بارے میں حزب مخالف نے بحث کی تجویز دی تھی تو حکومت اور سپیکر نے مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ اب خود ہی حکومت نے بحث کا فیصلہ کیا ہے اور ظاہر ہے کہ بحث کے دوران جہاں حکومتی اراکین حزب مخالف پر تنقید کریں گے وہاں اپوزیشن والے حکومت کا تیا پانچا کریں گے۔ ایوان کی کارروائی کے دوران محمد علی درانی جنہیں پیپلز پارٹی کے رکن قربان علی شاہ نے وزیرِ غلط بیانی کہا صوبہ پنجاب کے ضلع جھنگ سے منتخب حکومتی رکن شیخ وقاص کی دھواں دار تقاریر بھی سننے کو ملیں۔ اس تقریر میں انہوں نے اپوزیشن اور بالخصوص اعتزاز احسن پر تابڑ توڑ حملے کیے۔ شیخ وقاص نے سکھوں کی فہرستیں انڈیا کو دینے سے کرسٹینا لیمب کی کتاب تک اعتزاز احسن کے بارے میں مختلف باتیں کیں اور کہا کہ اعتزاز احسن شہرت کے بھوکا ہیں اس لیے چیف جسٹس کا مقدمہ لڑنے سے ان کی گاڑی چلانے تک سارے کام خود کرتے ہیں۔ شیخ وقاص نے جہاں اعتزاز پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ان کی کردار کشی کی وہاں چودھری شجاعت حسین اور ان کے والد مرحوم چودھری ظہور الٰہی کے تعریف کے پل بھی باندھے۔ ان کے مطابق اعتزاز احسن نے مسلم لیگ میں شمولیت کے لیے چودھری ظہور الٰہی کی منتیں کی تھیں اور جب انہوں نے ایسا نہیں کیا تو اعتزاز دلبرداشتہ ہوکر گجرات ہی چھوڑ گئے۔ اس دوران حزب مخالف نے ایوان میں سخت شور برپا کردیا اور ’گو مشرف گو‘ کے نعروں سے ایوان گونج اٹھا۔ جب پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ کو وضاحت کا موقع ملا تو انہوں نے کہا کہ شیح وقاص کو جواب تو اعتزاز احسن خود دیں گے لیکن ان کی غیر موجودگی میں حکومتی رکن کو نہیں بولنا چاہیے تھا۔ اس دوران خواجہ آصف نے خورشید شاہ کے کان میں کچھ بولا اور شاہ جی نے کہا حال ہی میں شیخ وقاص کے والد نے پیغمبر اسلام کے روضے میں نواز شریف سے کہا کہ ان کا بیٹا مسلم لیگ نواز کے لیے حاضر ہے اور جب بھی جناب حکم کریں تو وہ حکمران مسلم لیگ سے مستعفی ہونے کو تیار ہیں۔ شیخ وقاص کی باتیں سن کر کئی صحافیوں کو حیرانی ہوئی کہ چند ماہ پہلے تک وہ چودھری برادران کو ناقابل بیان حد تک برا بھلا کہہ رہے تھے اور ان کے خلاف پریس کانفرنس کرتے کرتے رہ گئے۔ وہی شیخ وقاص آج زندہ تو صحیح لیکن مرحومین چودھریوں کے بھی گیت گا رہے تھے۔ شاید تب ہی کسی نے کہا ہے کہ ’سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا‘ یا پھر بقول شاعر کے کہ ’بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے‘۔ |
اسی بارے میں ’اللہ پر بھروسہ مگر آپ پر نہیں‘18 April, 2007 | پاکستان ’استعفیٰ نہ دینے پر حراست میں لے لیا گیا‘25 April, 2007 | پاکستان چیف جسٹس کے ساتھ کب کیا ہوا؟18 April, 2007 | پاکستان سندھ کے چار سو وکلاء پر مقدمہ 19 April, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||