BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 January, 2007, 08:15 GMT 13:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دوائیں نہ سکول، کس سےسوال کریں؟

جناح اسپتال کراچی
کسی دن ان سرکاری اسپتالوں کا چکر لگائیں تو آپ کو غریب پاکستانیوں کی مشکلات کا احساس ہوگا۔
کئی باتیں ایک ساتھ ہوئی ہیں، ذہن میں گڈمڈ ہوگئی ہیں۔ کچھ حکومت کے اللّے تللّوں کی ہیں کچھ عدم توجہی کا شاہکار ، یا انہیں لاپرواہی کہیں یا بے حسی؟

ایک اطلاع یہ ہے کہ اسلام آباد اور کراچی میں دو ایسے اسپتال بنا ئے جائیں گے جو صرف مالداروں کے لیے ہوں گے۔ جی ہاں، صرف مالداروں کے لیے !!
اسلام آباد میں تعمیر ہونے والے اسپتال پر دو ارب روپے خرچ ہونگے ۔ اس کا سنگ بنیاد رکھ بھی دیا گیا ہے اور امیر کبیر وزیراعظم شوکت عزیز صاحب نے یہ فریضہ انجام دیدیا ہے۔

دوسرا اسپتال کراچی میں بنے گا اور اس پر ساڑھے تین ارب روپے کے خرچ کا تخمینہ ہے اور یہ بھی صرف مالدار لوگوں کے لیے ہوگا۔ اسلام آباد کا اسپتال پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یا پمز میں، اور کراچی کا جناح اسپتال میں بنےگا۔

آپ کبھی پمز گئے ہیں؟ یا جناح اسپتال؟ یا دوسرے سرکاری اسپتالوں میں جو بڑے شہروں میں تو ہیں چھوٹے علاقوں میں بس برائے نام۔ اگر آپ پمز گئے ہوں تو وہاں آپ نے کمروں کی حالت زار دیکھی ہے؟

میں چند سال پہلے وہاں داخل رہا تھا اور جس کمرے میں مجھے داخل کیا گیا تھا اس میں، ذرا سے مبالغہ کے ساتھ، ایک بالٹی بھر کاکروچ تھے۔

جناح اسپتال میں چلے جائیں، یا سول اسپتال میں اور ایسے دوسرے کسی بھی سرکاری اسپتال میں، صورتحال ایسی ہی ہوگی۔ ممکن ہے بالٹی بھر کاکروچ نہ ہوں، مگر گندگی ڈھیروں نظر آئے گی ہر سیڑھی پر، ہر جگہ، ہر طرف ۔

سوال مگر کِس سے؟
 ایک ایسے ملک میں جہاں حکومت عوام کی صحت پر بجٹ کا معمولی حصہ خرچ کرتی ہو اور اس میں سے بھی بہت سی دوائیں چوری ہوکر بازار میں بک جاتی ہوں، جہاں حکام بالا دواؤں کی غیرملکی کمپنیوں سے بیرونی سفر سمیت بے شمار سہولتیں بلا استحقاق حاصل کرتے ہوں، جہاں حکومت نے عام آدمی کو سہولتیں فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہو، وہاں مالدار لوگوں کے لیے اربوں روپے سے اسپتال تعمیر کرنا ؟ کیا یہ کوئی معقول کام ہے؟
اور جہاں تک طبی سہولتوں کی فراہمی کا معاملہ ہے، عام آدمی کو وہ میسر نہیں ہے۔ کسی دن ان سرکاری اسپتالوں کا چکر لگائیں تو آپ کو غریب پاکستانیوں کی مشکلات کا احساس ہوگا۔ دوائیں ندارد ، کمرے گندے، عملہ لاپرواہ، سینئیر ڈاکٹر غیرموجود یا اپنی نجی کلینک پر۔ سرکاری اسپتالوں کے بارے میں یہ خبربھی شائع ہوئی ہے کہ کروڑوں روپے کی دوائیں یہاں سے چوری ہوکر بازار میں بک رہی ہیں۔

ایک ایسے ملک میں جہاں حکومت عوام کی صحت پر بجٹ کا معمولی حصہ خرچ کرتی ہو اور اس میں سے بھی بہت سی دوائیں چوری ہوکر بازار میں بک جاتی ہوں، جہاں حکام بالا دواؤں کی غیرملکی کمپنیوں سے بیرونی سفر سمیت بے شمار سہولتیں بلا استحقاق حاصل کرتے ہوں، جہاں حکومت نے عام آدمی کو سہولتیں فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کر رکھا ہو، وہاں مالدار لوگوں کے لیے اربوں روپے سے اسپتال تعمیر کرنا ؟ کیا یہ کوئی معقول کام ہے؟ مگر یہ سوال کس سے کیا جائے ؟

اور ساتھ ہی یہ خبر ہے کہ کراچی کے پسماندہ علاقے لیاری میں بارہ فیصد بچے اسکول نہیں جاتے، اور جو جاتے ہیں ان کی اکثریت نجی اسکولوں میں پڑھتی ہے۔ ظاہر ہے جس ملک میں سرکار اپنے اسکولوں میں بنچ تک فراہم نہ کرپاتی ہو وہاں لوگ نجی اسکولوں کے مالکان کے ہاتھوں لوٹ کھسوٹ کا شکار تو ہوں گے۔

نجی سکولوں کا کاروبار ایک خبر کے مطابق چودہ ارب روپے سالانہ تک پہنچ گیا ہے۔ ہمارے وزیر خارجہ خورشید قصوری نجی اسکولوں کی ایک بڑی چین کے مالکوں میں سے ہیں اور وہ غالباً قومی اسمبلی کے چند انتہائی مالدار ارکان میں سے بھی ہیں۔ دوسری طرف جو حال ہے وہ آپ کو پتہ ہی ہے کہ سرکاری اسکول میں غریب بچے جاتے ہیں اور مشکلات کا شکار ہیں۔

اور یہ جو ملک کا سب سے بڑا شہر ہے کراچی، جسے بین الاقوامی بنانے پر بڑا اصرار ہے، وہاں اب یہ خیال آیا ہے کہ آگ بجھانے کی دس نئی گاڑیاں خریدی جائیں۔ ان پر دس کروڑ روپے خرچ ہونگے۔ اس کا خیال اس لیے آیا کہ پچھلے دنوں ایک عمارت میں آگ لگنے سے فائر بریگیڈ کے گیارہ اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔ عینی شاہدوں نے یہ بھی دیکھا کہ آگ بھڑک رہی تھی اور گاڑیوں میں پانی نہیں تھا ۔

مگر آگ بجھانے کی دس گاڑیوں سے اس شہر کی ضروریات پوری نہیں ہونگی، یہ خیال کسی کو نہیں آتا۔ اس مسلسل پھیلتے ہوئے شہر میں فائر بریگیڈ کے صرف بیس اسٹیشن ہیں جبکہ کم از کم سو چاہئیں، پورے شہر میں ایک اسنارکل ہے جو صرف اٹھارہ منزلوں تک آگ بجھانے کا کام کر سکتی ہے (اگر اس میں پانی ہو تو) جبکہ یہاں انتیس تیس منزل کی عمارتیں موجود ہیں اور پچاس ساٹھ منزلوں کی منصوبہ بندی ہے ۔ اگر خدانخواستہ آگ لگ جائے تو ۔۔ بس اللہ سے پناہ مانگنی چاہیئے ۔

مگر شاید یہی تو منصوبہ بندی ہے کہ امیروں کے لیے اربوں کے اسپتال ، غریبوں کے لیے دوائیں نہ سکول، اور شہروں میں آگ بجھانے اور آفات سے نمٹنے کے آلات افسوسناک حد تک نا کافی!

اگر ان سب گڈمڈ باتوں سے کوئی سوال ابھرتا ہے تو یہ بھی تو ایک سوال ہے کہ کس سے پوچھیں؟

اسی بارے میں
دوائی ایک، قیمتیں مختلف
21 January, 2007 | پاکستان
مریض زیادہ ہیں اور گردے کم
09 December, 2004 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد