BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 29 November, 2006, 14:15 GMT 19:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امیر پاکستان اور غریب پاکستان
کراچی سٹاک ایکسچینج
بیرون ملک پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہی ہے
سلمان کو بات کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔ کپڑے بھی ڈھنگ کے پہنتے ہیں اور کمیونیکیشن انڈسٹری کا علم بھی ہے۔

وہ گزشتہ دو سال سے کراچی کی ایک فرم میں کام کر رہے ہیں اور وہ اور ان کی فرم دونوں ترقی کر رہے تھے لیکن ایک دن ایسا ہوا کہ سلمان کی ترقی بھی رک گئی اور ان کے ساتھ ان کی فرم کی بھی۔

ہوا یوں کہ کسی سیاسی بڑے کا ان کی فرم کو فون آیا اور جھٹ سے ایک ایسے شخص کو ان کے ڈیپارٹمنٹ کا انچارج بنا دیا گیا جسے اس صنعت کی اے بی سی بھی نہیں آتی۔

سلمان کا کہنا ہے کہ جب سے نیا شخص آیا ہے ان کے ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی اور پیداوار گر گئی ہے۔

فرق بڑھتا جا رہا ہے
 ’ذرا سوچیں کہ جو آدمی گلیوں میں مہنگی کاریں دیکھے لیکن جب گھر جائے تو اپنے بچوں کا کھانا تک نہ کھلا سکے کیوں کہ اسے کام نہیں ملا۔ اسے تو غصہ چڑھے گا‘
قیصر بینگالی

سلمان پاکستانیوں کی اس بڑھتی ہوئی تعداد میں سے ہیں جو بیرون ملک رہتی تھی لیکن جس نے پاکستان آ کر ملک کی اقتصادی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔

سلمان کہتے ہیں کہ اگر ایسا ہی ہوتا رہا تو میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان کبھی ترقی کرے گا۔

بی بی سی کے نامہ نگار پال موس لکھتے ہیں کہ دنیا چاہے صدر مشرف کے سیاسی اتار چڑھاؤ پر نظر رکھے لیکن جب سے صدر مشرف ملک کے سربراہ بنے ہیں ان کا سب سے ریڈیکل معرکہ اقتصادی محاذ پر ہے۔

عالمی بینک کی نجکاری، لبرلائزیشن اور منڈیوں کو کھولنے کا حکم تو پاکستان دوسروں کی طرح مان ہی رہا ہے لیکن جس رفتار سے وہ یہ سب کچھ کر رہا ہے وہ اسے دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔

ملکی ترقی میں اضافہ ہوا ہے، غیر ملکی قرضے میں کمی آئی ہے، اور ملک کے کنزیومر یعنی صارف بے دریغ خرچ کر رہے ہیں چاہے یہ فریج ہوں، فلیٹس ہوں یا لگژری کاریں۔

عالمی بینک نے پاکستان کے پروگرام کی بڑی پذیرائی کی ہے اور غیر ملکی سرمایہ کار بھی ملک میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔

لیکن کوئی بھی ماہرِ اقتصادیات آپ کو بتائے گا کہ یہ ترقی صرف اس طرح جاری رہ سکتی ہے کہ پاکستان کاروبار کرنے کے پرانے طریقے ہمیشہ کے لیے چھوڑ دے جن میں کرپشن، بیوروکریسی اور ہزاروں طرح کے قوائد و ضوابط شامل ہیں۔

غریب اور امیر کی آمدنی میں فرق آسمان کو چھونے لگا ہے

ایک فیکٹری میں کام کرنے والے زبیر سمجھتے ہیں کہ ایسا ہو رہا ہے۔

اس ٹیکسٹائل فیکٹری میں جس میں وہ کام کرتے ہیں اب حکومت اس طرح دخل نہیں دیتی جیسے پہلے دیتی تھی۔

لیکن پھر بھی مداخلت تو ہوتی ہے۔ ہر سال فیکٹری میں اٹھارہ کے قریب سرکاری اہلکار ’انسپیکشن‘ کرنے آتے ہیں۔

زبیر کا کہنا ہے کہ یہ کوئی مسئلہ نہیں کہ آپ قوائد کی پابندی کرتے ہیں کیونکہ انسپکٹر تو صرف رشوت کے منتظر ہوتے ہیں۔

پال ماس کہتے ہیں کہ ماہرِ اقتصادیات قیصر بنگالی کو اس بات پر تشویش ہے۔ ’وہ کراچی سے صرف دس میل دور مجھے ایک ایسے گاؤں کا دورہ کراتے ہیں جہاں لوگوں کو اقتصادی اصلاحات سے کچھ نہیں ملا‘۔

گاؤں میں گندگی ہے، گندے پانی کے نکاس کا کوئی انتظام نہیں اور صحت عامہ کی طرف کوئی دھیان نہیں دیتا۔

قیصر بنگالی کا خیال ہے کہ اب امیر اور غریب میں فرق بہت بڑھ گیا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ذرا سوچیں کہ جو آدمی گلیوں میں مہنگی کاریں دیکھے لیکن جب گھر جائے تو اپنے بچوں کا کھانا تک نہ کھلا سکے کیوں کہ اسے کام نہیں ملا۔ اسے تو غصہ آئے گا‘۔

’اور ایک پڑھا لکھا شخص اپنے والدین کی کفالت نہ کر سکے۔ اسے تو اپنے آپ سے شرم آئے گی‘۔

قیصر بنگالی کا کہنا ہے کہ ’غصے کی وجہ سے لوگ مجرم بن جاتے ہیں یا خود کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ خودکشیوں کی شرح بڑھ گئی ہے‘۔

’لیکن لوگ مذہبی انتہا پسندی کی طرف بھی راغب ہوتے ہیں۔ ہم روز یہ دیکھتے ہیں‘۔

عالمی بینک نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ امیر غریب میں بڑھتے ہوئے فرق کے تصور سے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور بینک اس طرح کی صورتِ حال کو کم کرنے کے لیے مختلف پروگرام شروع کر رہا ہے۔

اسی بارے میں
بنیادی شرح سود میں اضافہ
29 July, 2006 | پاکستان
معاشی ترقی کا واہمہ
01 June, 2005 | پاکستان
پاکستان کی اقتصادی حالت
26 April, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد