دوائی ایک، قیمتیں مختلف | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں صارفین کے تحفظ کی غیرحکومتی تنظیم نےایک تحقیقی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں ایک ہی دوائی کے مختلف اقسام مارکیٹ میں مختلف قیمتوں پر فروخت ہورہے ہیں جن میں بعض اوقات ایک ہزار فیصد تک کا فرق ہوتا ہے۔ جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ادویات کے بڑھتے ہوئے برانڈز کی وجہ سے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران ادویات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔ دی نیٹ ورک فار پروٹیکشن آف کنزیومر کی رپورٹ میں وزارت صحت کیساتھ رجسٹرڈ تقریباً بارہ ادویات کا ایک چارٹ دیا گیا ہے جس میں ایک ہی مرض کے لئے استعمال ہونے والی دوائی کے مختلف اقسام کی کم سے کم اور زیادہ سے زیادہ قیمت ظاہر کی گئی ہے۔ چارٹ میں لوسارٹن پوٹاشیم کے چھتیس برانڈز دکھائے گئے ہیں جن میں سے ایک قسم کی گولی کی قیمت چار روپے پچانوے پیسے جبکہ دوسری قسم کی اکیاون روپے پچانوے پییسے ہے جنکے بیچ ایک ہزار فیصد سے زیادہ کا فرق ہے۔ اسطرح رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریباً اسی کمپنیاں اینٹی بائیوٹک سپرفلاکساسین کی پانچ سو ملی گرام کی گولیاں بناکر مارکیٹ میں فروخت کر رہی ہیں جن میں کم سے کم قیمت پانچ روپے اور زیادہ سے زیادہ پچاس روپے ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ’اگر کسی مرض کا علاج چار روپے پچانوے پیسے کی گولی سے ہوسکتا ہے تو پھر اکیاون روپے پچانوے پییسے کی گولی کو حکومت نےکیوں مارکیٹ میں فروخت ہونے کی اجازت دی ہے۔ ہم سمجتھے ہیں کہ یہ دراصل منافع کے اندر اضافہ ہے حالانکہ چار روپے پچانوے پیسے پر فروخت کرنے والی کمپنی بھی تو منافع کمارہی ہے۔‘ رپورٹ میں حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہاگیا ہے کہ وہ ادویات کی قیمتوں کے متعلق کوئی واضح اور شفاف پالیسی نہیں رکھتی ہے۔ایاز کیانی کے مطابق ’حکومت مؤثر طریقے سے قیمتوں کی نگرانی نہیں کررہی ہے۔ حکومت کو ادویات کی لاگت اور قیمتوں کے درمیان عوام کے مفاد میں توازن قائم کرنا چاہیے۔‘ جب اس سلسلے میں پاکستان ڈرگ کنٹرول آرگنائزیشن کی سربراہ ڈاکٹر فرناز سے بات ہوئی تو انکا کہنا تھا کہ ادویات کی قیمتوں میں فرق ایک بین الاقوامی عمل ہے اور پاکستان میں ادویات کی صنعت میں روز بروز ترقی کی شرح نے ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کیا ہواہے۔ ڈاکٹر فرناز کے بقول’وزارت صحت نے پچھلے دو سال سے ادویات کے قیمتوں کی نگرانی کے لئے ایک کمیٹی بنائی ہوئی ہے جو قیمتوں کو کنٹرول کررہی ہے۔ حکومت کی ان جیسے اقدامات کی وجہ سے پچھلے پانچ سالوں کے دوران ملک میں ادویات کی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے۔‘ انکا مزید کہنا تھا کہ اگر برانڈز زیادہ نہ ہوتے تو پھر ایک ہی برانڈ کی دوائی مارکیٹ میں دستیاب ہوتی اور ایک ہی کمپنی کی اجارہ داری ہوتی۔
ان کے مطابق’کوئی بھی شخص بازار سے اپنی پسند کی ٹوتھ پیسٹ اپنی مالی استطاعت کے مطابق توخرید سکتا ہے مگرڈاکٹر کے نسخے میں خوف کی وجہ سے کوئی رد و بدل نہیں کرسکتا کیونکہ ڈاکٹر اور اس کے عملے نے مریض کو تجویز کردہ دوائی خریدنے کا پابند کیا ہوتا ہے۔‘ اس سلسلے میں جب ادویات بنانے والوں کا موفف جاننے کے لئے پاکستان فارموسٹیکل مینیفیکچرر ایسوسی ایشن کے کراچی میں چیئرمین قیصر سعید سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں اب بھی ادویات کی قیمتیں یورپ اور ایشیاء کے بعض ممالک کے مقابلے میں کم ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ’ہم چاہتے ہیں کہ پورے ملک میں ادویات کی ایک جیسی قیمتیں ہوں لیکن معاشی طور پر کمزور اور مستحکم کمپنیوں کی وجہ سےاس وقت مختلف برانڈ کی ادویات کی قیمتوں میں فرق موجود ہے۔ جب سے پاکستان میں ادویات کی مقامی صنعت کوفروغ حاصل ہواہے تب سے ہم نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مقابلے میں کم شرح منافع پر ملک کے دور دراز علاقوں تک اپنی ادویات پہنچائی ہیں۔‘ مارکیٹنگ کے متعلق ایک بین الاقوامی کمپنی انٹرنیشنل انٹگریٹڈ مارکٹنگ سروے کے مطابق پاکستان میں اس وقت تیس ملٹی نیشنل کمپنیوں سمیت ادویات کی چھ سو پچاس بڑی کمپنیاں ہیں مگر مارکیٹ کا باون فیصد حصہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ہاتھ میں ہے۔ پاکستان میں دوہزار چھ کے دوران تقریباً چوہتر ارب روپے کی دوائیاں استعمال ہوئی تھیں۔ | اسی بارے میں ’ہومیوپیتھی نا کام طریقہ علاج ہے‘26 August, 2005 | نیٹ سائنس برڈ فلو: واحد دوا کے خلاف مدافعت 22 December, 2005 | نیٹ سائنس دل کے امراض کے لیے کامیاب دوا14 March, 2006 | نیٹ سائنس ٹی بی کے خلاف مزاحمت، نیا چیلنج17 December, 2006 | نیٹ سائنس جڑی بوٹیاں بھی ٹھیک ہیں21 September, 2003 | نیٹ سائنس درد کی دوائیں یا سردردی؟24 May, 2004 | نیٹ سائنس چاکلیٹ دل کے لیئے اچھا28 February, 2006 | نیٹ سائنس ذہنی دباؤ کم کیجئے، صحتمند رہیئے28 February, 2006 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||