’ہومیوپیتھی نا کام طریقہ علاج ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک طبّی جریدے نے ہومیوپیتھک طریقہ علاج پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ طریقہ نقلی ادویہ سے زیادہ موثر نہیں۔ ’لینسٹ‘ نامی جریدے کا کہنا ہے کہ ہومیوپیتھی کے میدان میں مزید تحقیق کا وقت ختم ہو چکا ہے اور ڈاکٹروں کو چاہیے کہ وہ مریضوں کو ’ہومیوپیتھی کے عدم فوائد‘ کے بارے میں بتائیں۔ جریدے کے مطابق ایک سو دس مریضوں پر کیے گئے تجربات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہومیوپیتھی نقلی دواؤں سے زیادہ اثر پذیر نہیں جبکہ ہومیو پیتھی کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ علاج کارگر ہے۔ تاہم اس جریدے نے اس تحقیق کے ہمراہ ہومیو پیتھی پر ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ بھی شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بیماریوں کے علاج کے سلسلے میں ہومیو پیتھک طریقہ علاج روایتی ادویات کے برابر ہے۔ اس سلسلے میں سوسائٹی آف ہومیوپیتھ کی ترجمان کا کہنا تھا’ ماضی میں کی گئی تحقیق سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ہومیو پیتھی کارگر طریقہ علاج ہے‘۔ ہومیوپیتھک پر بحث بہت عرصے سے جاری ہے ۔ سنہ 2002 میں امریکہ میں ایک شخص نےاس فرد کے لیے ایک ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا جو ثابت کرے کہ ہومیو پیتھک سے بیماری کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||