برڈ فلو: واحد دوا کے خلاف مدافعت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حالیہ تحقیق کے مطابق برڈ فلووائرس میں اس کے علاج کے لیے دستیاب واحد دوا کے خلاف مدافعت پیدا ہو رہی ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی میں برڈفلو پر تحقیق کرنے والے ماہرین نے ویتنام سے تعلق رکھنے والے دو ایسے مریضوں کے کیسوں کی نشاندہی کی ہے جو وائرس میں برڈ فلو کی دوائی ٹامی فلو کے خلاف مدافعت پیدا ہونے کے سبب فوت ہو گئے تھے۔ ان مریضوں کے بارے میں تفصیلات نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئی ہیں۔ جنوب مشرقی ایشیاء میں برڈفلو وائرس کے وجہ سے اب تک اکہتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر افراد برڈفلو سے متاثرہ پرندوں سے قربت کے سبب وائرس کا شکار ہوئے اور خیال کیا جاتا ہے کہ عام آبادی کو ابھی وائرس سے کوئی خاص خطرہ نہیں ہے۔ ماہرین کو خدشہ ہے کہ ایچ 5 این 1 قسم کے وائرس میں مزید تبدیلی آئے گی اور وہ اس قابل ہو جائے گا کہ وہ آسانی سے ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہو سکے۔ ماہرین کے مطابق اگر ایسا ہو گیا تو برڈفلو ایک وبا کی شکل اختیار کر لے گا جس سے دنیا بھر میں لاکھ افراد لقمہءِ اجل بن جائیں گے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے کوئین میری سکول آف میڈیسن سے منسلک پروفیسر جان آکسفورڈ کے مطابق تازہ تحقیق ایک بار پھر یہ ثابت کرتی ہے کہ برڈفلو وائرس بہت خطرناک ہے۔ ’ویتنام برڈ فلو وائرس کے سلسلے میں فرنٹ لائن پر ہے۔ ہمیں وہاں ہونے والی تمام پیش رفت سے باخبر رہ کر سیکھنا چاہیے تاکہ بعد میں ویتنام سے حاصل ہونے والے تجربات سے استفادہ حاصل کیا جا سکے۔‘ پروفیسر آکسفورڈ نے برڈفلو وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے نئی دواؤں کو ترقی دینے پر مزید سرمایہ لگانے کی ضرورت پر زور دیا۔ | اسی بارے میں فلو: 150 ملین لوگ مرسکتے ہیں30 September, 2005 | نیٹ سائنس تھائی لینڈ میں برڈ فلو کی تصدیق 07 July, 2004 | آس پاس چھ ملین مرغیاں مار دی گئیں07 November, 2005 | آس پاس برڈفلو: سوال وجواب15 October, 2005 | نیٹ سائنس ہالینڈ میں مرغیاں گھر میں رہیں گی22 August, 2005 | نیٹ سائنس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||