ہالینڈ میں مرغیاں گھر میں رہیں گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ میں برڈ فلو کے خطرے سے بچنے کے لیے کسانوں کو پابند کر دیا گیا ہے کہ وہ مرغیوں کو کھلی جگہوں پر نہ رکھیں۔ ولندیزی حکام کو خطرہ ہے کہ یہ مرغیاں روس سے آنے والے پرندوں سے رابطے کی صورت میں وائرس سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ ہالینڈ میں پائے جانے والے پچاس لاکھ مرغے، بطخیں، راج ہنس، ٹرکی اور دوسرے پرندے پیر سےگھروں کے اندر رہیں گے۔ ہالینڈ گوشت برآمد کرنے والے دنیا کے چند بڑے ممالک میں سے ایک ہے اور دو برس قبل برڈ فلو کے سبب اس ملک میں موجود مرغیوں کی ایک چوتھائی تعداد کو ہلاک کرنا پڑا تھا۔ بی بی سی کے نمائندے کے مطابق حکام کو خطرہ ہے کہ برڈ فلو کے دوبارہ پھیلنے سے ملکی پولٹری کی صنعت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اور حکومت کا یہ فیصلہ روس سے ملنے والی ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا ہے کہ برڈ فلو کا وائرس مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے اور اب اس سے براعظم یورپ متاثر ہو سکتا ہے۔ روسی علاقوں میں جس ’ایچ فائیواین ون‘ قسم کے وائرس کے شواہد ملے ہیں اس سے جنوب مشرقی ایشیا میں سنہ 2003 سے اب تک ستاون افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ وائرس ابھی تک انسانوں میں تو نہیں پایا گیا ہے تاہم اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زیادہ طاقتور شکل میں نمودار ہو سکتا ہے اور پھر یہ ایک انسان سے دوسرے میں منتقل بھی ہو سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||