برڈ فلو انسان سے انسان کوممکن ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سائنسدانوں نے خبر دار کیا ہے کہ برڈز فلو کی ایک انتہائی خطرناک وبا بن سکتی ہے جس سے کروڑوں لوگ ہلاک ہو سکتے ہیں۔ امریکہ میں سائنسدانوں نے کہا ہے کہ اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ برڈ فلو کی بیماری ایک انسان سے دوسرے انسان کو لگ سکتی ہے اور یہ وبا کی طرح پھیل سکتی ہے۔ ابھی تک یہ بیماری جانوروں سے انسانوں کو لگتی رہی ہے۔ برڈ فلو وائرس جو ایچ فائیو این ون کا نام سے جانا جاتا ہے، سے 1997 سے اب تک 47 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سائنسدانوں نے کہا کہ اس وبا کی شدت کے بارے میں کوئی صیح اندازہ لگانا ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ 1968 فلو وبا کی طرح بھی ہو سکتی ہے جس میں دس لاکھ لوگ ہلاک ہوئے تھے۔ سائنسدانوں کے مطابق برڈ فلو 1918 میں آنی والی فلو وبا کی طرح شدید بھی ہو سکتی ہے جس میں پانچ کرورڑ لوگ ہلاک ہو گئے تھے۔ سائسندانوں کا کہنا ہے کہ 1997 میں آنے والے برڈ فلو جس کو H5N1 بھی کہا جاتا ہے میں اب تک صرف سینتالیس لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ سائسندانوں کے مطابق برڈ فلو سے متاثرہ افراد میں شرح اموات چھہتر فیصد ہے جو کہ انتہائی خطرناک ہے۔ ٰ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||